• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, مئی 31, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

لاک ڈاؤن سے ٹی بی کے مریضوں کی اموات میں خطرناک حد تک اضافے کا امکان

by sohail
مئی 8, 2020
in تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کورونا وبا کے پھیلاؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں جاری لاک ڈاؤن کے سبب تپ دق  کے کیسز میں تباہ کن اضافہ ہوا ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کے سبب ٹی بی کے مریضوں میں 14 لاکھ اضافی اموات کا خطرہ لاحق ہے جو کہ 2025 تک دنیا میں اس قاتل انفیکشن کے باعث ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

کورونا وائرس لاک ڈاؤن: پولیو، خسرہ جیسی بیماریاں پھر سے لوٹ سکتی ہیں

تنزانیہ کے صدر نے بکری، بٹیر اور پپیتے کا خفیہ کورونا ٹیسٹ کرایا اور نتیجہ مثبت نکل آیا

ٹی بی ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے جو متاثرہ افراد کے پھپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس بیماری کا زیادہ تر علاج ممکن ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق یہ ابھی بھی ہر سال اندازہ ایک کروڑ لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2018 میں اس بیماری نے 15 لاکھ لوگوں کی جان لی جس میں بچوں کی تعداد 2 لاکھ تھی۔

تاہم وبائی مرض کورونا وائرس نے حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ لاک ڈاؤن کے ذریعے لوگوں کو گھروں تک محصور کر دیں۔ اس نئی بیماری کے ماڈلز نے یہ ظاہر کیا ہے کہ سماجی دوری ٹی بی کے انفیکشن میں تباہ کن بحران کی وجہ بن سکتی ہے جس کے اثرات برسوں تک رہتے ہیں۔

سماجی دوری طبی عملے کی ٹی بی کے ٹیسٹ کرنے اور پہلے سے متاثرہ مریضوں کا علاج جاری رکھنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کرے گا۔

سٹاپ ٹی بی پارٹنر شپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوسیا دیتیو کا کہنا ہے کہ دوائیوں اور علاج کے باوجود ہم اس کے خاتمے کے قریب بھی نہیں اور ٹی بی ابھی بھی متعدی بیماریوں میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کا سبب بننے والی بیماری ہے۔

کووڈ 19 نے ہمیں بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔ جتنے کم لوگوں کی تشخیص اور علاج ہم کریں گے، آنے والے برسوں میں ہم اتنی ہی زیادہ مشکلات کا شکار ہونگے۔

لاک ڈاؤن میں طوالت کتنی خطرناک

ایمپئریل کالج آف لندن کے وبائی امراض کے ماہر کی شراکت سے تیار کردہ ماڈلز کے ذریعے ٹی بی کے ردعمل کو دیکھنے کے لیے 3 بڑے ممالک کینیا، یوکرین اور بھارت سے حاصل کردہ اعداد و شمار کو استعمال کیا گیا۔

یورپ میں لاک ڈاؤن: ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے باعث 11 ہزار جانیں بچ گئیں

لاک ڈاؤن میں نرمی، اموات میں کمی، اٹلی کورونا سے کیسے نمٹا؟

ان اعدادوشمار نے ظاہر کیا ہے کہ دو ماہ پر مبنی عالمی سطح پر طویل لاک ڈاؤن اور ریسپونس پروگراموں میں تیزی سے ریکوری کے باوجود دنیا بھر میں 18 لاکھ اضافی ٹی بی کے انفکشن ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کے ساتھ 3 لاکھ 40 ہزار اموات کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ان ماڈلز کے مطابق اگر ان ممالک نے جلد تشخیص کے عمل اور علاج کی فراہمی میں تیزی سے کام نہ لیا تو صورتحال انتہائی خراب ہو سکتی ہے۔

Tags: تپ دق کی بیماریکورونا وائرس اور ٹی بیلاک ڈاؤن
sohail

sohail

Next Post

روی شاستری اوڈی کار لے گئے اور جاوید میانداد ہاتھ ملتے رہ گئے

بھارت کے جنگلات سے انتہائی نایاب 'بھیڑیا سانپ' دریافت

گلگت بلتستان میں گورننس ریفارمز آرڈر 2019 کے نفاذ میں تاخیر، سپریم کورٹ کا عید کے بعد سماعت کا فیصلہ

مردوں کے مادہ تولید میں کورونا وائرس کی موجودگی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

مودی حکومت کو گنگا کے پانی سے کورونا کے علاج کی امید، سائنسدانوں نے تجویز رد کر دی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In