کورونا وبا کے پھیلاؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں جاری لاک ڈاؤن کے سبب تپ دق کے کیسز میں تباہ کن اضافہ ہوا ہے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کے سبب ٹی بی کے مریضوں میں 14 لاکھ اضافی اموات کا خطرہ لاحق ہے جو کہ 2025 تک دنیا میں اس قاتل انفیکشن کے باعث ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔
کورونا وائرس لاک ڈاؤن: پولیو، خسرہ جیسی بیماریاں پھر سے لوٹ سکتی ہیں
تنزانیہ کے صدر نے بکری، بٹیر اور پپیتے کا خفیہ کورونا ٹیسٹ کرایا اور نتیجہ مثبت نکل آیا
ٹی بی ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے جو متاثرہ افراد کے پھپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس بیماری کا زیادہ تر علاج ممکن ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق یہ ابھی بھی ہر سال اندازہ ایک کروڑ لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2018 میں اس بیماری نے 15 لاکھ لوگوں کی جان لی جس میں بچوں کی تعداد 2 لاکھ تھی۔
تاہم وبائی مرض کورونا وائرس نے حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ لاک ڈاؤن کے ذریعے لوگوں کو گھروں تک محصور کر دیں۔ اس نئی بیماری کے ماڈلز نے یہ ظاہر کیا ہے کہ سماجی دوری ٹی بی کے انفیکشن میں تباہ کن بحران کی وجہ بن سکتی ہے جس کے اثرات برسوں تک رہتے ہیں۔
سماجی دوری طبی عملے کی ٹی بی کے ٹیسٹ کرنے اور پہلے سے متاثرہ مریضوں کا علاج جاری رکھنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کرے گا۔
سٹاپ ٹی بی پارٹنر شپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوسیا دیتیو کا کہنا ہے کہ دوائیوں اور علاج کے باوجود ہم اس کے خاتمے کے قریب بھی نہیں اور ٹی بی ابھی بھی متعدی بیماریوں میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کا سبب بننے والی بیماری ہے۔
کووڈ 19 نے ہمیں بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔ جتنے کم لوگوں کی تشخیص اور علاج ہم کریں گے، آنے والے برسوں میں ہم اتنی ہی زیادہ مشکلات کا شکار ہونگے۔
لاک ڈاؤن میں طوالت کتنی خطرناک
ایمپئریل کالج آف لندن کے وبائی امراض کے ماہر کی شراکت سے تیار کردہ ماڈلز کے ذریعے ٹی بی کے ردعمل کو دیکھنے کے لیے 3 بڑے ممالک کینیا، یوکرین اور بھارت سے حاصل کردہ اعداد و شمار کو استعمال کیا گیا۔
یورپ میں لاک ڈاؤن: ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے باعث 11 ہزار جانیں بچ گئیں
لاک ڈاؤن میں نرمی، اموات میں کمی، اٹلی کورونا سے کیسے نمٹا؟
ان اعدادوشمار نے ظاہر کیا ہے کہ دو ماہ پر مبنی عالمی سطح پر طویل لاک ڈاؤن اور ریسپونس پروگراموں میں تیزی سے ریکوری کے باوجود دنیا بھر میں 18 لاکھ اضافی ٹی بی کے انفکشن ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کے ساتھ 3 لاکھ 40 ہزار اموات کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ان ماڈلز کے مطابق اگر ان ممالک نے جلد تشخیص کے عمل اور علاج کی فراہمی میں تیزی سے کام نہ لیا تو صورتحال انتہائی خراب ہو سکتی ہے۔