مشرقی ہندوستان کے ایک جنگل میں ملنے والے 2 سر والے ایک انتہائی نایاب سانپ نے جانوروں کے ماہرین کو حیرت زدہ کردیا۔
سانپ کے اس نوزائیدہ بچے کی شناخت” بھیڑیا سانپ” کے طور پر کی گئی ہے، اس کا تعلق سانپوں کی ایک غیر زہریلی نسل سے ہے۔ راکیش موہالک کو یہ سانپ ریاست اوڑیسہ کے کونجر وائلڈ لائف کے مقام پر دھنکیکوٹ کے جنگلات کی حدود میں ملا۔
اس سانپ کا معائنہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی لمبائی 14 سینٹی میٹر ہے جبکہ اس کے دو مکمل سر، چار مکمل طور پر کام کرتی ہوئی آنکھیں اور دو متحرک زبانیں ہیں۔ اس کے دونوں سر الگ الگ اور آزادانہ کام کرتے ہیں۔
ایسی مخلوق کیلئے جنگلات میں خود کو زندہ رکھنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ سانپ کو دریافت کرنے والے فوٹو گرافر راکیش، جو مختلف اقسام کی جنگلی حیات پر تحقیق کا کام بھی کرتے ہیں، نے کہا ہے کہ اس قسم کے جانور خود سے مقابلہ کرتے کرتے اپنا خاتمہ کر لیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سانپ کے 2 سروں میں سے ایک سر زیادہ ترقی یافتہ ہے اور یہ دونوں سر خوراک کھانے کیلئے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ دنیا کی مختلف ثقافتوں میں 2 سر والے جانوروں کو تباہی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اکثر دیومالائی کہانیوں میں ایسے جانوروں کا ذکر پایا جاتا ہے، یونانی دیومالائی کہانیوں میں کئی سروں والے سانپوں کا ذکر ملتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ایک نایاب سانپ ہے تاہم جنگلات میں پیدا ہونے والے ہر لاکھ میں سے ایک سانپ اس طرح کا پیدا ہوتا ہے، اسے شناخت کرنے کے بعد واپس جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔