بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 4 ہزار 970 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔
ایک ہی دن میں 134 اموات کے ساتھ بھارت میں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد 3 ہزار 163 ہو گئے ہیں۔
مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے بھارت نے چین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جہاں 83 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
بھارت میں کورونا وبا سے ہلاکتوں کی تعداد پراسرار طور پر کم کیوں ہے؟
بھارت میں پیدل چلنے والی خاتون نے بچی کو جنم دینے کے بعد 160 کلومیٹر سفر طے کیا
رائٹرز کے مطابق چین میں اس وقت روزانہ سامنے آنے والے نئے کیسز کی تعداد 10 سے کم ہے، اس کے برعکس بھارت میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روزانہ 4 ہزار کی اوسط سے کورونا کے نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔
بھارت میں سرکاری طور پر لاک ڈاؤن کی مدت میں 31 مئی تک کی توسیع کر دی گئی ہے لیکن کئی ریاستوں کا کہنا ہے کہ وہ کاروبار کھولنے کی اجازت دے دیں گی۔
بھارت کے شعبہ صحت کے ماہرین اس صورتحال پر پریشان ہیں کیونکہ ملک کا اسپتالوں کا نظام بہت کمزور ہے اور ایک حد سے زیادہ بوجھ نہیں سہار سکتا۔
انڈین سوسائٹی آف کریٹیکل کیئر میڈیسن کے صدر دھرووا چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت میں اس وقت تک انتہائی نگہداشت کے ایک لاکھ بیڈز اور 40 ہزار وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔
انہوں نے تنبیہ کی ہے کہ ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں اگر کورونا مریضوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تو اس کے لیے نہ ہی مناسب انفراسٹرکچر موجود ہے اور نہ ہی عملہ۔
بھارت میں کورونا مریضوں میں اموات کی شرح دیگر ممالک سے بہت کم ہے، امریکہ میں یہ شرح 6 فیصد، اور برطانیہ میں 14 فیصد ہے جبکہ بھارت میں یہ محض 3 فیصد ہے۔