کورونا وبا کے معاشی نقصانات پر قابو پانے کیلئے فرانس شہرہ آفاق پینٹنگ فروخت کر سکتا ہے۔ فرانس کے ایک بزنس مین نے اطالوی مصور لیونارڈو ڈاونچی کی شہرہ آفاق پینٹنگ ”مونا لیزا“ کو فروخت کرکے کورونا وبا کے معاشی نقصانات کو پورا کرنے کا مشورہ دے ڈالا ہے۔
فرانسیسی بزنس مین کی جانب سے ”مونا لیزا“ کی تاریخی پینٹنگ کو 50 ارب یوروز میں فروخت کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی ٹیک کمپنی ’فابرناول‘ کے سی ای او ’سٹیفین ڈسٹنگوئن‘ نے تجویز دے دی ہے کہ مشہور عالمی مصور ”لیونارڈو ڈا ونچی کی مونا لیزا پینٹنگ کو بیچ کر کورونا کے معاشی نقصانات پر قابو پایا جائے۔ انہوں نے پینٹنگ کو گھریلو زیور سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ فرانس کو خاندان کے اس زیور کو کم ازکم 50 ارب یورو میں بیچنا چاہئے۔
کورونا ویکسین پر پہلا حق کس کا ہوگا؟ امریکہ اور فرانس میں جھگڑا شروع
فرانس کا 64 سالہ شخص اُڑتے جنگی طیارے کے کاک پٹ سے باہر جا گرا
انہوں نے نے ’اسبیک اینڈ ریکا‘ نامی میگزین کو بتایا کہ ہر روز کورونا وبا کے باعث اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، ہماری مثال ان بچوں جیسی ہے جو کنویں میں کنکریاں پھینک کر گن رہے ہوتے ہیں اور اس سے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں کہ کنواں کتنا گہرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کی مانند روزانہ نقصانات کی گنتی کرتے ہیں مگر کورونا کا یہ بحران بہت گہرا لگتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس کے پاس بہت ساری پینٹنگز ہیں اور پینٹنگز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور کسی کے حوالہ کرنا آسان ہے۔ انہوں نے پینٹنگ کی قیمت کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ یہ 50 ارب یورو میں بک سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کیلئے 50 ارب یورو کی رقم اسکی دولت کا تیسرا حصہ ہے اور یہ رقم ا س رقم سے کچھ زیادہ ہے جو اس امیر ترین شخص نے طلاق کے سلسلہ میں حا ل ہی میں اپنی اہلیہ کو ادا کی۔