• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home پاکستان

آر آئی سی آگ کا واقعہ، مریضوں کی اموات پر تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سے سوموٹو کی اپیل

by sohail
مئی 20, 2020
in پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی ) میں اتوار10 مئی 2020 کو لگنے والی آگ کے باعث جاں بحق ہونے والے امتیاز حسین کی بیوہ نے اسپتال انتظامیہ پر غفلت ولاپرواہی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد سے ا ز خود نوٹس لینے کی استدعا کی ہے۔

روبینہ گلشن بیوہ امتیازحسین نے چیف جسٹس گلزار احمد کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ میرے میاں امتیاز حسین کو اتوار 10 مئی 2020 کو دل کا دورہ پڑا، جنہیں فوری طورپر آر آئی سی راولپنڈی منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج معالجہ شروع کردیا گیا۔

انہوں نے لکھا کہ رات ساڑھے دس بجے کے قریب اسپتال کی عمارت کے اندر پراسرار طور پر خوفناک آ گ لگ گئی اور انتظامیہ نے مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیسیوں سیریسں مریضوں کولاوارث چھوڑ دیا اور صرف اتنا کہا کہ سب مریض اپنا اپنا بندوبست کرلیں، میرے بیٹے نے کچھ لوگوں کی مدد سے اپنے والد کو کسی طرح باہر پارکنگ میں پہنچایا، تاہم معلوم ہوا کہ راولپنڈی، اسلام آباد کے تمام اسپتالوں میں دل کے امراض سمیت تمام شعبے بند کرکے صرف اور صرف کرونا وارڈز قائم کئے گئے ہیں۔

امتیاز حسین کی بیوہ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کافی وقت ضائع ہونے کے بعد اپنے شوہر کو بے نظیر بھٹو شہید اسپتال پہنچا کر ایم ایس ڈاکٹر رفیق سے رابطہ کیا تو پہلے انہوں نے کسی قسم کی مدد کرنے سے معذوری ظاہر کی لیکن جب انہیں آر آئی سی میں لگنے والی آگ سے پیدا ہونے والی خوفناک صورتحال سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے اپنی نگرانی میں فوری طور پر دل کے ڈاکٹروں کو بلوا کر میرے میاں سمیت کل 9 متاثرہ مریضوں کواسپتال میں داخل کر کے ان سب کی جانیں بچا لیں تاہم اگلی صبح آر آئی سی کے ڈاکٹروں کی ایک فوج ظفر موج اپنی غفلت و لاپرواہی پر پردہ ڈالنے اور محض کارروائی کے لیے متعدد ایمبولینسز لیکر بے نظیر بھٹو اسپتال پہنچ گئی اور ان تمام مریضوں کو دوبارہ اپنے اسپتال لے آئی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ میرے میاں کو گزشتہ روز کافی دیر تک دھویں میں رہنے کی وجہ سے شدید تکلیف ہوگئی تھی اور وہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہونے کی وجہ سے گھر جانے کی ضد کررہے تھے جس پر آر آئی سی کے میڈیکل افسر ڈاکٹر احمد کمال نے دل کے مریضوں سے متعلق ایس او پیزکی بدترین پامالی کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ پر” ڈسچارج آن ریکوسٹ” کا نوٹ لکھ کرانہیں ڈسچارج کردیا، حالانکہ ایس او پیز کے تحت ہارٹ اٹیک کی صورت میں مریض کو48 گھنٹے تک انتہائی نگہداشت جبکہ اس کے بعد مزید  48 گھنٹے تک آبزرویشن میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

بیوہ نے لکھا ہے کہ بعد ازاں انہیں چکوال منتقل کیا گیا جہاں رات کو دوبارہ انہیں شدید تکلیف ہوئی اور ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا تو معلوم ہوا کہ انہیں دوسرا اٹیک ہوا ہے اور پانچ سات منٹ کے بعد انہیں تیسرا اٹیک ہوا اور وہ جاں بحق ہوگئے۔

درخواست گزار کے مطابق میرے خاوند کی موت کی ذمہ دار آرآئی سی کی انتظامیہ ہے، میں بیوہ اور میرے بچے یتیم ہو گئے ہیں لیکن آپ سے التماس ہے کہ خدارا از خود نوٹس لے کردیگر مریضوں کو بچا لیں۔

درخواست گزار نے اپنے خط کو ‘کرونا وائرس سے بچائو کے انتظامات سے تعلق از خود نوٹس کیس’ کے ساتھ یکجا کر کے چند سوالات کی صورت میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، وزارت صحت پنجاب اور آر آئی سی کی انتظامیہ سے جواب طلب کر نے کی استدعا کی ہے۔

ان کے سوالات یہ تھے کہ آگ کیسے لگی؟ اس کی کیا وجہ تھی؟ اس میں کیا نقصان ہوا ہے اوراس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آگ لگنے کے موقع پر آر آئی سی میں داخل مریضوں کی  ہنگامی بنیادوں پرعلاج معالجہ کے لیے مناسب رہنمائی اور مدد کے لیے وہاں پر کون ذمہ دار تھا ؟

اسی طرح یہ سوالات بھی پوچھے گئے ہیں کہ کیا اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی انکوائری ہوئی ہے اور کیا ادارے نے آج کی تاریخ تک کسی کی ذمہ داری کا تعین کیا ہے؟ کیا آر وآئی سی انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی قواعد وضوابط بنائے ہوئے ہیں؟ آیا کہ ملک بھر میں صرف کرونا ہی واحد خطرناک مرض رہ گیا ہے، اگرچہ کرونا کامعاملہ بہت خطرناک ہے لیکن کیا ہارٹ اٹیک، ٹریفک حادثات یا دیگر ہنگامی نوعیت کے معاملات اتنے غیر اہم ہیں کہ اگرایک اسپتال میں کوئی ہنگامی حالت پیدا ہوئی تھی تو تقریباً 30 لاکھ کی آبادی کے جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد میں ایک اسپتال بھی ایسا نہیں تھا جہاں ہنگامی حالات میں دل کے مریضوں کو رکھا جا سکتا؟

درخواست گزور نے لکھا ہے کہ جس طرح بے نظیر بھٹو شہید اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر رفیق صاحب نے پیشہ ورانہ ایمانداری اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر اسپتال میں 9 مریضوں کو داخل کر کے ان کی جانیں بچا کر اپنا فرض ادا کیا تھا، کیا ہولی فیملی اسپتال، ڈسٹرکٹ اسپتال، جنرل اسپتال کینٹ بورڈ راولپنڈی اور دیگر اسپتالوں کے سربراہان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ مریضوں کو ہنگامی امداد پہنچانے کا فیصلہ کرتے؟

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ کیا آر آئی سی کی انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں تھی کہ فی الفور ان اسپتالوں کی انتظامیہ کے اشتراک سے مریضوں کو خود وہاں منتقل کرتی؟ آگ کے واقعہ کے روز کل کتنے مریض آر آئی سی میں داخل تھے،؟ ان میں سے 11 مئی 2020 کو کل کتنے مریضوں کو ڈسچارج کیا گیا تھا؟ یہاں داخل ہونے والے تمام مریضوں کے رابطہ موبائل نمبر داخلہ کارڈ پر درج ہوتے ہیں؟ کسی بھی تحقیقاتی ادارے سے ان کے نمبروں کے حامل مریضوں کے زندہ ہونے یا مرجانے سے متعلق معلومات لی جا سکتی ہیں، مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اسی روز ہی بدنیتی سے اپنی نااہلی اور غفلت چھپانے کے لیے میرے شوہر کے علاوہ بھی کئی اور مریضوں کو بھی ڈسچارج کیا ہے تاکہ دھویں کی وجہ سے اگر ان کی وفات ہوجائے تو وہ آر آئی سی کے کھاتے میں نہ پڑے۔

بیوہ نے لکھا ہے کہ  ان کی بدنیتی اور جھوٹ کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آر آئی سی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سہیل نے آگ لگنے کے واقعہ کے بعد میڈیا کو بتایا تھا کہ درجنوں مریضوں کو ہنگامی طور پر ریسکیو کیا گیا ہے جوکہ جھوٹ اور غلط بیانی ہے، 11 مئی کے روزنامہ جنگ میں ان کے اس جھوٹے بیان پر مبنی ایک خبر بھی شائع ہوئی تھی۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، آر آئی سی سے اسپتال میں آگ لگنے کے واقعہ، اس موقع پر تشویشناک حالت کے حامل مریضوں کے تحفظ سے متعلق غفلت برتنے اور کرونا لاک ڈاؤن کے دوران طبی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو 72 گھنٹوں سے پہلے پہلے ڈسچارج کرنے سے متعلق جواب اور وہاں داخل مریضوں کا مکمل ڈیٹا طلب کیا جائے، ڈی جی ایف آئی اے کو لاک ڈاؤن کے دوران آر آئی سی کی جانب سے اس غفلت کی بناء پرجاں بحق ہونے والے مریضوں کے ٹیلی فون نمبر لیکر ان کی زندگی یا موت کی تصدیق کرنے سمیت کرونا لاک ڈاؤن کے دوران ملک بھر کے اسپتالوں میں فوری طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہونے والی اموات کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا حکم جاری کیا جائے جبکہ وفاقی و چاروں صوبائی حکومتوں،اسلام آباد انتظامیہ اور حکومت گلگت و بلتستان کوکرونا کے علاوہ دیگر ہنگامی مریضوں کے علاج معالجہ کے شعبوں کو بھی فوری طور پر کھولنے کا حکم جاری کیا جائے۔

sohail

sohail

Next Post

متحدہ عرب امارات نے لمحوں میں کورونا ٹیسٹ کرنے والی ٹیکنالوجی تیار کر لی

دنیا کی معمر ترین یوٹیوبر جو ویڈیو گیمز میں مہارت رکھتی ہیں

لاک ڈاؤن میں ویڈیو کالز کا بے دریغ استعمال کس طرح آپ کی توانائی نچوڑ رہا ہے؟

جب تین کیچ ڈراپ کرنے پر فلنٹوف کو وسیم اکرم سے ڈانٹ پڑ گئی

چین نے کورونا وائرس کے متعلق غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کر دی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In