• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

چین نے کورونا وائرس کے متعلق غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کر دی

by sohail
مئی 21, 2020
in تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

 چینی صدر شی جن پنگ نے رواں ہفتے 18مئی کو منعقدہ عالمی ادارہِ صحت کے 73ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چین  وائرس کے جامع جائزے کی حمایت کا اعلان کرتا ہے دنیا بھر سے امید رکھتا ہے کہ اس حوالے سے تحقیقات بامقصد اور غیرجانبدرانہ انداز میں یقینی بنائی جائیں گی۔

چین کے صدر کے اس بیان کے بعد دنیا بھر سے متعدد سائنسدانوں اور طبی ماہرین نے بھی چینی صدر کے اس کی حمایت کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے، ان کا کہنا ہے کہ مغربی سیاستدانوں اور میڈیا کے ذریعے اس کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے واضح کیا ہے بیجنگ پر  وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ان پر غیر جانبدرانہ انداز میں شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا چاہیے اور اسے ممکنہ سیاسی اثرات سے باہر رکھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے آج دنیا کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے سب سے بڑی ہیلتھ ایمرجنسی صورتحال کا سامنا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی برادری سے عالمی ادارہِ صحت کی سیاسی اور مالی امداد بڑھانے کے حوالے سے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے اپنے قیام کے بعد سے آج تک بنی نوع انسان کو ممکنہ وبائی امراض سے بچاؤ کے حوالے سے ایک اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چین نے حالیہ مہینوں میں سخت قربانیوں اور جدوجہد کے بعد کورونا وائرس کو انتہائی محنت سے شکست دی ہے۔ اور اس تمام تر جدوجہد میں چین نے کشادگی، شفافیت اور ذمہ داری جیسے تمام عوامل کو بہت اہمیت دی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین کورونا وائرس کے کنٹرول  اور ممکنہ خامیوں کو دور کرنے کے حوالے سے عالمی ردعمل اور اس وبا کے کنٹرول اور پھیلاؤ کے حوالے سے تمام عوامل کے جائزے لینے کے حوالے سے اقدامات کی حمایت کا اعلان کرتا ہے۔ اور یہ کام غیر جانبدرانہ انداز میں ایک شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں سر انجام دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہِ صحت کی سربراہی میں ان تمام امور کو شفافیت کے ساتھ یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ دنیا بھر سے سو سے زائد ممالک اس معاہدے کا حصہ بن چکے ہیں جس کے تحت ایک مسودہ پیش کیا گیا ہے اور دنیا سے اپیل کی گئی ہے کہ کورونا وائرس کے کنٹرول اور ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ممالک اپنے صحت کے نظام کو مستحکم کرنے اورمتعلقہ عوامل کو یقینی بنانے کے لیے تمام سطع پر باہمی تعاون کو یقینی بنائیں اور اس وبا کے کنٹرول تشخیص، علاج، ادویات، اور ویکسین تیاری کے حوالے سے ایک دوسرے سے بھر پور تعاون رکھیں۔

اس قرارداد میں موجودہ میکنزیم کو تجرباتی بنیادوں پر نظرثانی کے لیے بین الاقوامی صحت سے متعلق ردعمل کے طور پر سبق حاصل کرنے کا بھی اعادہ کیا گیا، کیونکہ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق  کچھ مغربی سیاستدان کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے غلط تشریح کر رہے ہیں  اور چین کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے بلومبرگ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چین کو کورونا وائرس کے حوالے سے ایک ناراض دنیا کا سامنا ہے۔ گزشتہ اتوار کو شائع ہونیوالے ایک آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین اور آسٹریلیا اس وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

اسی طرح سے نیوز ایشیا نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چین نے وائرس وبا کے پھیلاؤ کے حوالے سے آسٹریلوی تحقیقات کا بدلہ لینے کے لیے اسٹریلوی گائے کے گوشت کا درامدی معاہدہ معطل کر دیا ہے۔ جس سے چین اور اسٹریلیا کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے حوالے سے تحقیقات کا جائزہ لینے کے حوالے سے صدر شی جن پنگ نے چین کے موقف کو واضح کیا ہے اور شفاف، سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے پاس چھپانے اور خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے، کورونا وائرس کی ابتداء اور تحقیقات کے حوالے سے تمام تحقیقات سائنسدانوں کو کرنا چاہیے کیونکہ اس کے پھیلاؤ کے حوالے سے دنیا بھر میں کئی مقامات ہو سکتے ہیں اور عالمی سطع پر اسکی مکمل تحقیقات ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی جرم کا احساس نہیں ہے۔ دنیا بھر کے بیشتر ممالک کا کہنا ہے کہ یہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی ہے لہذا اس کے خاتمے کے حوالے سے تمام ممالک کو باہمی تعاون کو یقینی بنانا چاہیے، اس وبا کے حوالے سے تحقیقات اور ابتدائی مقام کا پتہ چلانا ابھی قبل از وقت ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لاؤ زی جیان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ عالمی سطع پر صحتِ عامہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تعمیری نظریہ پیش کرنے اور سائنسی تعاون کو آگے بڑھانے کے حوالے سے تمام ممالک کو باہمی احترام کو یقنی بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قرارداد نام نہاد آزاد تحقیقات سے بالکل مختلف ہے، چین نے اس مسودہ پر بات کی ہے اور اس کے مندرجات سے اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی قرارداد کو اپنانا کسی بھی رکن ملک کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے اور اسکی یکطرفہ ترجمانی نہیں کی جانا چاہیے۔

لاؤ زی جیان نے کہا کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی ردعمل کی تشخیص کے سلسلے میں ڈی جی عالمی ادارہِ صحت سے گزارش کی گئی ہے کہ مناسب وقت پر رکن ممالک سے مشاورت کے تحت غیر جانبدرانہ، آزاد اور جامع تشخیص کا عمل شروع کرے اور عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے مربوط جواب اور سفارشات کے حوالے سے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے، دیگر وبائی امراض کے حوالے سے بھی عالمی ادارہِ صحت کا یہ ہی طریق رہا ہے۔

بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی کے فرسٹ ہسپتال کے ماہرِ سانس وانگ گوانگفا نے گلوبل ٹائمز کو بتاہا کہ وائرس کے متعلق تحقیقات نامعلوم وائرس کا مطالعہ کرنے اور ممکنہ طور پر نئی وبا کے کنٹرول میں مدگار ثابت ہوسکتی ہے۔

وانگ نے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں چین نے وبائی امراض کے کنٹرول اور مقابلے کے حوالے سے ایک بہتر حکمتِ عملی مرتب کی ہے۔ اور اس امر کو بین الاقوامی سطع پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اس حوالے سے چین کو کسی احساسِ جرم کا خیال نہیں ہے۔

اس وبا کے ابتدائی مرحلے میں وہ مرکزی ماہرین کے ابتدائی گروپ کا حصہ تھے۔ اس حوالے سے دیگر چینی ماہرین کا خیال ہے کہ بیجنگ نے ہمیشہ سے ہی اس وائرس کے حوالے سے تحقیقات کا کہا ہے اور جو عوامل اسے قبل ازیں مسترد کرتے رہے ہیں وہ ہی اج اس پر سیاست کر رہے ہیں جس سے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں اور چین کے ساتھ لفظی جنگ شروع کی جا چکی ہے۔

برطانیہ میں چینی سفیر لاؤژی منگ نے ایک انٹرویو میں کہا گر بین الاقوامی سطع پر اس وبا کے حوالے سے تحقیقات کی اجازت نہیں دی جاتی تو کسی کو سیاسی طور پر اس وبا کے حوالے سے متحرک ہونیکی بھی ضرورت نہیں ہے۔ چین آزادانہ غیر جانبدرانہ تحقیقات کا خواہاں ہے، لیکن ان تحقیقات کا اہتمام عالمی ادارہِ صحت کی سرکردگی میں ہونا چاہیے۔

کورونا وبا کے پھیلاؤ کے بعد سے چین کے خلاف ایک سازش پھیلائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر امریکہ چین پر الزامات عائد کر رہا ہے کہ چینی لیب سے اس وبا کو پھیلائا گیا ہے اور اسے چینی وائرس قرار دیا جا رہا ہے، اس امر سے نفرت جنم لے رہی ہے اور ایشیائی امریکیوں کے خلاف نسل پرستانہ جذبات اور چین کے خلاف مجرمانہ جذبات کو بڑھاوا دینے کے سوا کچھ نہیں۔

ایک عقلی اور سائنسی تحقیق تین بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز رکھ سکتی ہے۔ کورونا پہلی بار کب ظاہر ہوا، اس کے پھیلاؤ کی قدرتی وجہ کیا ہے اور انسانوں میں یہ وائرس کیسے پھیلا۔

 وانگ نے اس حوالے سے کہا کہ چین میں سب سے پہلے کورونا کی نشاندہی کی گئی، اس پر تحقیقات کو پوری دنیا میں کیا جانا چاہیے۔

چینی پروفیسر لی ہیڈونگ کا کہنا ہے کہ غیر جانبدرانہ تحقیقات میں بڑے پیمانے پر تسلیم شدہ پیشہ ور افراد عملے کو بھی تحقیقات کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ کسی سیاسی تحقیقات یا جانچ پڑتا ل کا حصہ نہیں ہو سکتا، اور یہ ڈبلیو ایچ او کا فرض نہیں ہے۔

پیٹر فوسٹر کورونا وائرس کے  انفیکشن کا نقشہ بنانے کے ماہر ہیں، انہوں نے کہا کہ کسی بھی وائرس کی تفصیلی ابتداء کی تلاش میں چین اور مشرقی ایشیا میں زیادہ وسیع پیمانے پر تلاش کی ضرروت ہے۔ اس حوالے سے بیشتر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور امریکہ میں اس وائرس کے حوالے سے فیلڈ اسٹڈی کی ضرورت ہے۔

وائرس پوری دنیا میں مختلف مقامات پر مختلف ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پیدائشی مقامات مختلف ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین عالمی ادارہِ صحت کو اس وبا کے خاتمے اور دیگر وبائی امراض کے خاتمے کے حوالے سے دو ارب ڈالر آئندہ دو سال میں دے گا تاکہ عالمی سطع پر اس کی ویکسین کو یقینی بنایا جا سکے۔ اور متاثر ترین ممالک کی مدد کی جا سکے اور صحت کے حوالے سے افریقی ممالک کی امداد جاری رکھی جا سکے۔

sohail

sohail

Next Post

وزیرستان میں غیرت کے نام پر لڑکیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار

انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

افغان طالبان کے سپریم لیڈر کا مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان

سعودی ڈراموں میں اسرائیل کے متعلق مثبت گفتگو نے سوشل میڈیا پر بھونچال برپا کر دیا

چینی تحقیقاتی رپورٹ : جہانگیر ترین، مونس الٰہی، اومنی گروپ اور عمر شہریار ذمے دار قرار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In