انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 برس قبل لندن میں قتل ہونے والے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
کیس کا فیصلہ 18 جون کو سنایا جائے گا، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے وکیل خواجہ امتیاز نے آج اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ مقدمے میں مشتبہ ملزمان کے اعترافی بیان کی شہادتوں نے تصدیق کر دی ہے، آپ ایک جانب ان کے ان کا اعترافی بیان رکھیں اور دوسری طرف شہادتیں تو تمام چیزیں ایک دوسرے سے منسلک نظر آتی ہیں۔
خواجہ امتیاز نے اپنے حتمی دلائل میں کہا کہ اس وقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملزمان قتل کی شام کو عمران فاروق کا پیچھا کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی تاریخ کو ملزمان برطانیہ سے سری لنکا روانہ ہو گئے تھے۔
اس سے قبل پاکستان اور برطانیہ نے عمران فاروق قتل کیس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد فروری میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ایک ٹیم ایک ہفتے کے لیے اسلام آباد پہنچی تھی اور لندن اور پاکستان میں بیک وقت ہونے والی عدالتی کارروائی میں مدد کی جا سکے۔
گزشتہ برس اس کیس میں پاکستان کے وکیل ٹوبی کیڈمین نے بتایا تھا کہ برطانوی اداروں نے اسلام آباد کو ٹھوس شواہد بھجوا دیے ہیں۔
ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔
وقوعہ لندن میں ہونے کے باوجود 2015 میں اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر ایف آئی اے نے عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہونے کے شبہ میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
اس مقدمے کے تینوں ملزمان، علی سید، معظم علی خان اور خالد شمیم اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔