سعودی حکومت کی زیرنگرانی چلنے والے نیٹ ورکس پر ایئر ہونے والے دو ٹی وی ڈراموں میں اسرائیل کے متعلق گفتگو نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان دونوں ڈراموں پر شدید تنقید کی گئی ہے، بہت سے افراد کا خیال ہے کہ سعودی حکومت اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے اور ان ڈراموں کے ذریعے عوام کا ردعمل دیکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دیگر عرب ممالک کی طرح سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں تاہم یہ افواہیں پھیلی ہوئی ہیں کہ دونوں ممالک ایران کے خلاف مشترکہ دشمنی کے باعث قربت کے خواہاں ہیں۔
سعودی عرب میں پابندیوں کا خاتمہ اور ملازمت کی تلاش میں نکلی خواتین کا سیلاب
جیل میں قید سعودی بادشاہ کی بھتیجی کا اپنی رہائی کے لیے خط سامنے آ گیا
اب رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں، جبکہ ٹی وی ڈراموں کی چاہت بڑھ جاتی ہے، دو مواقع پر اسرائیل کا تذکرہ مثبت انداز میں ہوا ہے جس سے ان افواہوں کو تقویت ملی ہے کہ سعودی حکومت اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کی خواہاں ہے۔
ایگزٹ 7 نامی ڈرامے میں متوسط طبقے کی تیزی سے جدت کی طرف جاتے سعودی معاشرے کی عکاسی کی گئی ہے، اس میں ایک کردار آن لائن ویڈیو گیم کے ذریعے ایک اسرائیلی نوجوان کو دوست بناتا ہے۔
ایک اور ڈرامے میں ایک کردار اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہتا ہے کہ فلسطینی سعودی عرب کے دشمن ہیں جو دن رات اس کی توہین کرتے رہتے ہیں حالانکہ انہیں حکومت کئی دہائیوں سے مالی امداد دے رہی ہے۔
ان دونوں ڈراموں کے آتے ہیں سوشل میڈیا میں ان پر شدید تنقید شروع ہو گئی، ٹوئٹر پر متحرک بہت سے افراد کا کہنا تھا کہ یہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔
یہ دونوں ڈرامے ایم بی سی نیٹ ورک نے پیش کیے ہیں جو حکومت کے کنٹرول میں ہے، اس کے بانی ولید الابراہیم ان اہم شخصیات میں شامل ہیں جنہیں 2017 میں کرپشن کے خلاف مہم کے دوران نظربند کر دیا گیا تھا۔
ایم بی سی کے ترجمان مازین ہائیک نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کئی دہائیوں سے خوف، خون خرابے، نفرت اور انتہاپسندی کا خطہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان ٹی وی شوز کے ذریعے اس خطے کا ایک دوسرا تصور پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو امید، برداشت، بین المذہبی مکالمہ پر مبنی ہے۔
سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑی کمی واقع ہو گئی
سعودی عرب کا قیدیوں کے لیے کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی بات عالمگیریت پر مبنی اور آپس میں جڑی ہوئی دنیا کے تناظر میں کسی حد تک بوسیدہ معلوم ہوتی ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
ایسیکس یونیورسٹی کے پروفیسر عزیز الغشیان کے مطابق ایسے شوز حکومت کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے متعلق رائے عامہ کو سمجھنے کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں۔