جب حکام نے اٹلی میں واقع ایک قصبہ میں گھروں کو صرف ایک ڈالر تک کی کم قیمت پر فروخت کرنے کی پیشکش شروع کی تو اپنے گھر کا خواب دیکھنے والوں نے دوردراز علاقے میں منتقل ہونے کا جوا کھیلا۔
اگرچہ ان جائیدادوں کی تزئین و آرائش پر چند ہزار اضافی ڈالرز کا خرچہ عموماً معاہدے کا حصہ ہوتا ہے لیکن ایک خوبصورت ملک کے دلکش مقام پر نئی زندگی کی شروعات کے امکانات نے اس جانب توجہ نہیں جانے دی۔
لیکن پھر کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے اٹلی سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں سے ایک تھا اور لوگ دوردراز گاؤں کے گھروں میں قید ہو گئے۔
کورونا وائرس: اٹلی میں مافیا غریبوں کی مدد کیلئے پہنچ گیا، حکام پریشان
کورونا کے شکار اٹلی کے 72 سالہ پادری نے قربانی کی لازوال داستان رقم کر دی
یہ ایسی جگہ تھی جہاں بمشکل ہی آپ وہاں کی زبان بولتے ہوں اور اپنے پیاروں کو ملنے کے لیے گھر نہ جا سکیں۔ تو کیا زندگی جلد ہی ڈراؤنا خواب نہیں بن جاتی؟
حیرت انگیز طور پر تمام تر مشکلات کے باوجود لوگوں نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا۔
سی این این نے چند ایسے لوگوں سے بات کی جنہوں نے اطالوی حکام کی جانب سے پیش کردہ ان سستے گھروں کو خریدا تھا۔ اس اقدام کا مقصد شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کے رجحانات کو کم کرنا ہے۔
حالات کے غیرمتوقع تغیر کے باوجود یہ بات سامنے آئی کہ اٹلی میں پھنس کر رہ جانا کسی طور بھی منفی تجربہ نہیں تھا۔
وائرس کے بحران نے انہیں مزید اس ملک کے دیہات کی خوبصورتی کی تحسین پر مجبور کر دیا اور کئی لوگ سستی جائیدادوں میں مزید سرمایہ کاری کا سوچ رہے ہیں۔
وقت کا احساس ختم ہونا
میامی سے تعلق رکھنے والے فنکار الوارو سولورزانو اس وقت سسلی کے ایک جزیرے میں واقع خوبصورت قصبے مسومیلی میں پھنسے ہوئے ہیں، انہوں نے گزشتہ برس یہاں دو سستی جائیدادیں خریدی تھیں جن میں سے ایک کی قیمت ایک یورو کے برابر تھی۔
مارچ میں وہ اپنی بیوی، بیٹے اور بیٹے کی گرل فرینڈ کے ساتھ گھروں کی تزئین و آرائش کے لیے پہنچے، باقی اہلخانہ میامی واپس چلے گئے جبکہ سولورزانو نے چند ہفتے بعد روانہ ہونا تھا لیکن کورونا وبا کے باعث ان کی پرواز منسوخ ہو گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ہم اکٹھے یہاں آئے تھے اور اب میں اکیلے اس قصبے میں قرنطینہ میں زندگی گزار رہا ہوں جہاں فرنیچر بھی نہیں ہے اور فقط ایک بیڈ اور ٹی وی ہے جبکہ کوئی ایسا شخص بھی نہیں ہے جو میرے ساتھ بات کرے۔
انہوں نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے مشکل ترین بات تھی، اگر میری بیوی ساتھ ہوتی تو سب کچھ بہت مختلف ہوتا۔
اب وہ ٹی وی دیکھتے، اطالوی زبان سیکھتے، سپرمارکیٹ جاتے اور فون پر اپنے اہلخانہ سے بات کرنے میں وقت گزار رہے ہیں، وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر گھر کی دیواروں کی مرمتی اور رنگ روغن میں مصروف رہتے ہیں۔
سولورزانو نے بتایا کہ وہ چھوٹی چھوٹی مصروفیات کے ذریعے وقت گزار رہے ہیں تاکہ جب ان کا بیٹا اور اس کی گرل فرینڈ واپس آئیں تو مکان تیار ہو۔
مقامی ہیروز
ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی مشکلات کے باوجود ان کے نئے ہمسائیوں نے اس آزمائش سے گزرنے میں ان کی بہت مدد کی ہے، پہلی دو راتیں بہت خوفناک تھیں، شدید سردی تھی لیکن پھر میرے ہمسائیوں نے مجھے ہیٹر فراہم کیا اور میں ان کا انٹرنیٹ بھی استعمال کر سکتا ہوں۔
سولورزانو نے بتایا کہ ہمسائے مستقل میرا خیال رکھتے ہیں، وہ ایسٹر پر میرے لیے ڈھیروں خوراک لائے جسے ختم کرنے میں مجھے تین روز لگے، میں سوچتا ہوں کہ یہ لوگ نہ ہوتے تو میں کیا کرتا۔
اب وہ مقامی لوگوں سے گفتگو کرنے اور مسومیلی کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہ ایک بینچ پر بیٹھ کر اردگرد کی خوبصورتی کا مزہ لے سکتے ہیں۔