اسلام آباد ہائیکورٹ نے چڑیا گھر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 36 سال سے قید ہاتھی ‘کاون’ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ سہولیات کے بغیر چڑیا گھر میں جانوروں کو قید رکھنا غیر مناسب اور غیرقانونی ہے، چڑیا گھر میں قید تمام دیگر جانوروں کو بھی محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کردیا جائے، 36 سال سے ہاتھی کے ساتھ ہونے والے ظلم کو اب ختم ہونا چاہیے۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم نامہ میں مزید کہا ہے کہ کاون کو پاکستان یا بیرون ملک محفوظ پناہ گاہ میں منتقل کیا جائے۔
واضح رہے کہ 2 سال قبل سینئر صحافی رؤف کلاسرا اور عامر متین نے 92 نیوز کے پروگرام مقابل میں خبر بریک کی تھی اور ہاتھی کی حالت زار پر متعدد پروگرام کیے گئے۔
Special ThankYou to @KlasraRauf @AmirMateen2 @AshrafRanaAry and Team for always supporting #FreeKaavan @ftwglobal @cher pic.twitter.com/Bb2IqsWZNh
— Anika ???????????????????????? (@anikasleem) May 22, 2020
ان پروگرامز کے بعد جانوروں کی پرورش کرنے والے متعدد بین الاقوامی اداروں نے حکومت پاکستان سے رابطہ کیا اور ہاتھی کو باہر کے ملک لیجا کر پالنے کی درخواست کی جو حکومت نے رد کر دی۔
اس معاملے میں کاون ہاتھی کی شنوائی تب ہوئی جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسکی رہائی کے لیے درخواست دائر کی گئی۔
67 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریر کیا۔
تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ حدیث پاک میں جانوروں سے اچھے سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔
فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کی بدولت انسان بے بس ہوگیا، ایٹم بم بھی ناکام ہو گیا، مرغزار چڑیا گھر کی حالت انتہائی تشویش ناک اور خطرناک ہے جسے دیکھتے ہوئے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو کنٹرول دیا گیا۔
عدالت نے مرغزار چڑیا گھر کی انتظامیہ ایم سی آئی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کو کارکردگی بہتر بنانے کے بارہا موقع دیئے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکومت چیئرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ کی سربراہی میں بورڈ تشکیل دے جو چھ دنوں میں تمام جانوروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کے انتظامات مکمل کرے اور یہی بورڈ مرغزار چڑیا گھر کا انتظام سنبھالے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جب تک عالمی سطح کی کوئی ایجنسی انسپکشن نا کر لے بورڈ مرغزار میں کوئی نیا جانور نہیں رکھے گی۔
عدالت نے مزید کہا ہے کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کو مشورہ بھی دے سکتی ہے کہ جانوروں کی حفاظت اور انکے خیال رکھنے کے حوالے سے اسلامیات کے مضمون میں قرآن اور احادیث شامل کی جائیں۔
کاون آیا کہاں سے؟
ماہرین کے مطابق 34 سالہ ہاتھی کاون ذہنی بیماری کا شکار ہے۔ عمران خان نے 2015ء میں اس کی رہائی کے حق میں ٹویٹ کی تھی، امریکی گلوکارہ شر کی سمیت عالمی ستاروں نے بھی کاون کی رہائی کا کہا تھا۔
Thank you Mr. @klasrarauf and Mr. @amirmateen2 for doing TV shows #Muqabil for Kaavan ????. Your huge support is greatly appreciated❗️
— Cher (@cher) October 3, 2017
سینیٹرز بھی کاون کی آزادی کے لیے آواز بلند کرتے رہے، وزراء سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔
میئر اسلام آباد انصر شیخ کو بار بار گزارش کی گئی، مارک کے ساتھ میٹنگ کے دوران انصر شیخ نے کاون کو قدرتی پناہ گاہ بھیجنے پر اپنی آمادگی بھی ظاہر کی تھی لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی تھی۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ساتھ بھی کاون کی آزادی کے لیے ملاقات کی گئی، وعدے سب کی طرف سے ہوئے مگر کسی نے آگے بڑھ کے ساتھ دیا نہ ہی مدد فراہم کی۔
اس دوران فری فار کاون کی تحریک چلی، سینیٹ کی کابینہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے کاون کو آزاد کر کے بھیجنے کے احکامات بھی دیے مگر کسی نے عمل نہ کیا۔
فری فار کاون کی تحریک دنیا بھر میں چل رہی ہے۔ فری دی وائلڈ نامی عالمی این جی او کے سربراہ ’مارک کون‘ اسلام آباد چڑیا گھر میں موجود ہاتھی کاون کی آزادی کے لئے کوشاں رہے۔
مارک کون کے مطابق چڑیا گھر کی انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے ہتھنی 2012ء میں مر چکی ہے اور کاون اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاون اپنی زندگی کے 36 سال قید میں گزار چکا ہے، اس کی منتقلی کے تمام اخراجات فری دی وائلڈ برداشت کرے گی۔
مارک کون کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں میں شعور پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں چڑیا گھر ختم ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں ہاتھی کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے نہیں ہو رہی ہے اور کمبو ڈیا وائلڈ لائف پارک ’کاون‘ کو وصول کرنے کے لئے تیار ہے۔
مارک کا کہنا تھا کہ کاون کی رہائی کے بدلے اسلام آباد چڑیا گھر کی انتظامیہ کو عالمی معیار کی ٹریننگ دینے کا اعلان کرتے ہیں۔
انہوں نے کاون کی رہائی کے بدلے چڑیا گھر کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاون کی رہائی کے بدلے عالمی معیار کا تھری ڈی ہولو گرافک چڑیا گھر بنا کر دے سکتے ہیں۔
سری لنکا کی حکومت نے یہ ہاتھی 1985 میں پاکستانی حکومت کو تحفے میں دیا تھا، 2002 میں اسے زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تھا۔
کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں قیدیوں کو بھی وقتی طور پر آزاد کرنے کے فیصلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔