بھارتی حکام کی جانب سے کورونا وبا کے دوران حفاظتی سامان کی کمی پر آواز اٹھانے والے ڈاکٹر کو پاگلوں کے اسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔
بھارتی ڈاکٹر کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ حکام ڈاکٹروں کو ماسک، دستانے اور گاؤنز سمیت دیگر حفاظتی سامان نہیں دے رہے۔
بھارت کے سرکاری اسپتال میں فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹر سدھاکار راؤ کی جانب سے 3 اپریل کو میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ کورونا سے لڑنے والے ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان نہیں دیا جا رہا۔
بھارت میں بھوکے مزدور کی مردہ کتے کا گوشت کھانے کی ویڈیو پرشدید غم وغصہ
بھارت کی 10 شخصیات جو اپنے ورثا کیلئے بے پناہ دولت چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئیں
انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر ایک ماسک 15 دن تک استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ انکی جانب سے سوال اٹھایا گیا تھا کہ ڈاکٹر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کرمریضوں کا علاج کیسے کرسکتے ہیں۔
حکومت نے ڈاکٹر سدھاکار راؤ کو معطل کرتے ہوئے ان الزامات کی تحقیقات کا حکم دے دیا تھا۔
یہ الزامات لگانے کے بعد ڈاکٹر سدھاکار کے بقول انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہوگئی تھیں۔ ان کے خاندان کا بھی یہی مؤقف ہے کہ ان الزامات کے بعد انہیں ہراساں کیا گیا جس کے بعد وہ کئی ہفتوں تک ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔
ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے کو کبھی بھی دماغ خرابی کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا مگر حفاظتی سامان کی کمی بارے سوالات اٹھانے پر انہیں دھمکیاں ملیں۔
بھارت میں سوشل میڈیا پر ڈاکٹر سدھاکار راؤ کی پولیس کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔ ان ویڈیوز میں وہ پولیس پر چلا رہے ہے جبکہ ایک دوسری ویڈیو میں ایک کانسٹیبل انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ اس ویڈیو میں ڈاکٹر نے شرٹ نہیں پہنی ہوئی ہے اور اسکے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر کی جانب سے اس موقع پر مقامی صحافیوں کو بتایا گیا کہ پولیس نے انہیں زبردستی روکا اور کار سے نکالا، ڈاکٹر نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کا موبائل چھین لیا۔
پولیس کا یہ مؤقف ہے کہ انہیں ہائی وے پر شراب میں لت ایک شخص کی رپورٹ ملی اور پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ راہ گیروں نے نشہ میں لت پت ڈاکٹر کی حرکتوں پر اس کے ہاتھ باندھے تھے۔