براعظم افریقہ میں دنیا کی 17 فیصد آبادی بستی ہے لیکن عالمی سطح پر کورونا کے مصدقہ کیسز میں اس کا حصہ 2 فیصد ہے۔
مختلف اطراف سے سامنے والے ڈیٹا اور عالمی ادارہ صحت کے تجزیے سے بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس براعظم میں کورونا کے پھیلنے کی رفتار سست ہے۔
یہاں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد ہر دو ہفتے بعد دوگنا ہو رہی ہے جبکہ گزشتہ چند روز تک امریکہ میں ہر تین دن بعد کورونا کے مریض دوگنا ہوتے رہے ہیں۔
تنزانیہ کے صدر نے بکری، بٹیر اور پپیتے کا خفیہ کورونا ٹیسٹ کرایا اور نتیجہ مثبت نکل آیا
کورونا کے خلاف افریقہ میں مقبول ہوتی معجزاتی جڑی بوٹی آرٹیمیسیا پر جرمنی میں تحقیق شروع
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ افریقہ میں ٹیسٹ بہت کم ہو رہے ہیں، یہاں اب تک 10 لاکھ کے قریب افراد کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے، چین کے ووہان شہر میں اتنے ٹیسٹ ایک دن میں ہوتے رہے ہیں۔
پورے براعظم میں سامنے آنے والے مریضوں کی آدھی تعداد جنوبی افریقہ اور گھانا سے تعلق رکھتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ میں مریضوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور یہ 8 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس وقت افریقہ کے 22 ممالک ایسے ہیں جہاں ٹیسٹ کے نتائج مثبت آنے کی شرح 10 فیصد سے زیادہ ہے، الجیریا میں سو میں سے 91 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، سوڈان میں یہ شرح 87 فیصد ہے جبکہ تنزانیہ میں 78 فیصد ہے۔
تاہم اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیسٹ انہی افراد کا کیا جا رہا ہے جن میں کورونا کی علامات بالکل واضح ہے، اسی لیے ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح اس قدر زیادہ ہے۔
تنزانیہ کے صدر جوہن مگوفلی اپنے ملک میں ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج پر بھروسہ نہیں کرتے، ان کا کہنا ہے کہ جو بھی ٹیسٹ ہوتا ہے اس کا نتیجہ مسلسل مثبت نکلتا ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ قومی لیبارٹری کو پپیتہ، بکری اور بھیڑ کے نمونے بھیجے گئے تو وہ ان کے نتیجہ بھی مثبت آیا، اس ملک میں 29 اپریل سے کوئی نیا ریزلٹ سامنے نہیں آیا۔
حزب اختلاف اور این جی اوز نے الزام لگایا ہے کہ تنزانیہ کے سب سے بڑے شہر دارالسلام میں کورونا کے درجنوں مریضوں کی تدفین ہوئی ہے، 12 مئی کو امریکی سفارتخانے نے کہا کہ شہر کے اسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں۔
اسی قسم کی رپورٹس دوسرے ممالک سے بھی آ رہی ہیں، شمالی نائجیریا کے علاقے کانو میں گورکنوں کی جانب سے سینکڑوں ایسی اموات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے مرنے کی وجہ نہیں معلوم ہو سکی۔
صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں طبی عملے نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جتنی اموات دیکھ رہے ہیں سرکاری اعدادوشمار ان سے کہیں کم بتا رہے ہیں۔
اس سب کے باوجود موریطانیہ، نمیبیا اور دیگر ممالک سے دو ہفتوں سے کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا، ایتھوپیا، روانڈا اور یوگنڈا میں اب تک 700 مریض سامنے آئے ہیں اور ان ممالک میں ٹیسٹ کے مثبت آنے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
کورونا کے پھیلاؤ کی رفتار کم کرنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر افریقی ممالک نے فوری طور پر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا، اپریل کے اختتام پر 42 ممالک ایسا کر چکے تھے۔
افریقہ میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائرکٹر مویتی کا کہنا ہے کہ اگرچہ افریقہ میں کورونا وائرس اس بری طرح نہیں پھیلا جیسے دنیا کے کئی دیگر ممالک میں ہوا ہے لیکن چند جگہوں پر یہ مسلسل لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے حکام کی جانب سے گلوبل ہیلتھ میں شائع ایک ریسرچ نے باقی ممالک سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کی روشنی میں براعظم افریقہ کا تجزیہ کرنے کے بجائے یہاں کے سماجی اور معاشی پس منظر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افریقی لوگ سفر کم کرتے ہیں کیونکہ یہاں سڑکوں کا نیٹ ورک بہت محدود ہے، اسی طرح دیگر بہت سی باتیں افریقہ کو دیگر دنیا سے مختلف بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کو نہ روکا گیا تو 16 سے 26 فیصد افراد پہلے سال اس سے متاثر ہوں گے، اس کا مطلب ہے کہ 2 کروڑ 90 لاکھ سے لے کر 4 کروڑ 40 لاکھ لوگ کورونا میں مبتلا ہوں گے۔
عالمی ادارہ صحت کا اپنا تجزیہ بھی یہی ہے کہ کورونا پھیلاؤ روکنے کی سنجیدہ کوششوں کی عدم موجودگی کے باعث افریقہ میں 83 ہزار سے ایک لاکھ 90 ہزار لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔
یہ تعداد دیگر ممالک کی نسبت کم ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ افریقہ میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے تاہم چونکہ یہاں طبی سہولیات امیر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہیں اس لیے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے سامنے یہ ناکافی ثابت ہوں گے۔
چونکہ کئی افریقی ممالک میں لاک ڈاؤن نافذ رہا ہے اس لیے اموات کی تعداد ان اندازوں سے کم ہو سکتی ہے۔
امیر ممالک ایسے وقت میں لاک ڈاؤن نرم کر رہے جبکہ وہاں کورونا کی وبا عروج کو چھو چکی ہے جبکہ افریقہ میں لاک ڈاؤن نرم کرتے وقت اس وبا کا پھیلاؤ تیز ہو رہا ہے۔
اس سب کے باوجود افریقہ میں کورونا وبا سست رفتاری سے پھیل رہی ہے اگرچہ خطرات اب بھی موجود ہیں۔