کیلیفورنیا ٹراما سینٹر میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ریاست کو لاک ڈاؤن ختم کر دینا چاہیئے کیونکہ کورونا وبا کے دوران خودکشی کی کوشش کرنے والوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔
جوہن مائر میڈیکل سنٹر کے ٹراما سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ڈی بائس بلانک کا کہنا ہے کہ ہم نے اسقدر زیادہ اعدادوشمار کبھی نہیں دیکھے، گزشتہ چار ہفتوں کے دوران خودکشی کی کوشش کرنے والوں کی تعداد پورے ایک سال کے برابر جا چکی ہے۔
کورونا مریضوں کا علاج کرنیوالی امریکی خاتون ڈاکٹر نے خود کشی کیوں کی؟
کورنا وبا سے لوگوں کے نفسیاتی مسائل میں کیا اضافہ ہورہا ہے؟
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ بنیادی طور پر لاک ڈاؤن اس لیے کیا گیا تھا تاکہ وبا کا پھیلاؤ روکا جا سکے اور اسپتالوں پر بوجھ نہ پڑے لیکن اب ہمارے پاس مریضوں کا خیال رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں جبکہ لاک ڈاؤن کے باعث دوسرے طبقات تکلیف میں ہیں۔
ٹراما سینٹر میں کام کرنے والی نرس کیسی ہینسن نے کہا کہ میں نے، بالخصوص نوجوانوں میں، کبھی خود کشی کی کوشش کرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد نہیں دیکھی، خود کو نقصان کی کرنے کی ایسی کوششیں پہلے نہیں دیکھیں، یہ بہت پریشان کن ہے۔
جوہن مائر ہیلتھ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس معاملے پر ہمارے اسٹاف کی جانب سے کئی آرا سامنے آئی ہیں تاہم ہمارا ادارہ لوگوں کو گھروں میں رکھنے کی حکومتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم اس وقت ریاست کو مرحلہ وار کھول رہے ہیں، بے ایریا کی کاؤنٹیز ریاست کے دیگر حصوں کی نسبت آہستہ کھل رہی ہیں۔