معروف وکیل اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء اعتزازاحسن نے کہا ہے کہ کورونا کے معاملے میں عوام نے ایس او پیز کا مضحکہ اڑایا ہے، سپریم کورٹ نے سب کچھ کھولنے کا حکم جاری کر دیا تھا، ڈاکٹرز چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ اتنی آزادی نہ دیں کیونکہ اس کا بھیانک انجام ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ ذمہ داری عوام اور سپریم کورٹ پر عائد ہوتی ہے، عدالت پر اس لیے ذمہ داری آتی ہے کہ اس نے حکم دے دیا ہے کہ ہفتہ اتوار کو بھی چھٹی نہیں ہو گی کیونکہ یہ آرٹیکل 4 اورآرٹیکل 18 کی خلاف ورزی ہے۔ آرٹیکل 18 کے مطابق کوئی بھی قانونی طور پر جائز کاروبار چلانا آپ کا بنیادی حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب کوئی ایسا کاروبار قانونی طور پر جائز نہیں ہو سکتا جس کی زد میں آ کر دو ہزار آدمی چل بسیں یا پھر بیمار ہو جائیں۔ یہ کاروبار ایسا بھی نہیں ہو سکتا کہ بازار کھولیں اور دوسرے دن اموات شروع ہو جائیں یا پھر انفیکشن شروع ہو جائے۔
اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس پر سپریم کورٹ نے بحث نہیں سنی ہے، عدالت کے حکم پر لبیک کہنا پڑتا ہے، اس حکم کے بعد کراچی سے خیبر تک دکاندار اپنی دکانیں کھولنے کے لیے بھاگ پڑے اور اسی لمحے خریدار بھی خریداری کرنے نکل پڑے، کسی نے سماجی فاصلے کا کوئی خیال نہیں رکھا۔
اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ وائرس بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا، اس کی تاریخ کوئی نہیں نہ ہی کوئی تحقیق ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے مراد علی شاہ درست فرما رہے ہوں جو مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا کہہ رہے ہیں یا پھر عمران خان کی بات ٹھیک ہو جو سمارٹ لاک ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ کون سا فیصلہ بہتر تھا۔ یہ ہرگز درست نہیں ہو سکتا کہ زیرو لاک ڈاؤن کر دیں اور شاپنگ کرنے کی اجازت دے دیں جہاں پر لوگ گتھم گتھا ہو رہے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا ایک لمبا معاملہ ہے، یہ سال ڈیڑھ سال کا بھی معاملہ نہیں ہے، کورونا وائرس کے مطابق ہمیں اپنی زندگی کے لائف اسٹائل کو بدلنا پڑے گا۔
اعتزاز احسن سے سوال کیا گیا کہ وفاقی اور سندھ حکومت کس بات پر دست و گریبان نظر آ رہی ہے۔ کیا کوئی پیسوں کا معاملہ ہے؟اعتزاز احسن نے کہا کہ اس بات پر مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے، اس رویے پر مجھے اپنی جماعت پر بھی بہت تکلیف ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے سب سے زیادہ شائستہ زبان استعمال کی ہے لیکن نچلی سطح پر ہماری جماعت سمیت سبھی زیادتی کر رہے ہیں۔ نچلی سطح کی گولہ باری پر اوپر والے بھی پریشان ہی ہوتے ہوں گے۔
حالیہ انکوائری کمیشن رپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئےاعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر ہر کوئی ہر کسی کو بے نقاب کرتا آ رہا ہے، 1990 میں جب نواز شریف کی حکومت کے دوران مرحوم صدر پاکستان اسحاق خان کی ایما پر بی بی شہید پر مقدمات بنائے گئے۔ میں وکیل تھا اور ان سب مقدمات میں بے نظیر بھٹو بری ہوئی تھیں۔ اس دن سے پراپیگنڈا شروع کیا گیا۔ وہ اس سلسلے کا آغاز تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگلی حکومت میں نواز شریف احتساب الرحمان (سیف الرحمان) کو لے آئے۔ بی بی شہید پر 7 الزامات لگا کر مقدمات بنائے گئے۔ بی بی نے ایک سیون سٹار کی منظوری دی تھی تب یہ کہا گیا کہ یہ ہوٹل راول جھیل کے بہت قریب ہے مگر آج وہیں ہوٹل بنا ہوا ہے مگر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ بی بی شہید سات کے سات کیسوں میں بری ہوئیں۔
اعتزاز احسن نے بتایا کہ نواز شریف دوسری مرتبہ جب وزیر اعظم بنے تو اس وقت کے صدر فاروق لغاری کے ایما پر مقدمات بنے جن میں بی بی پھر بری ہوئیں۔ الزامات لگانے کا سلسلہ تیس برسوں سے جاری ہے۔ شہزاد اکبر صاحب نے آ کر اظہار خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے پاس ثبوت ہیں لیکن میں تب مانوں گا جب وہ ثبوت عدالتوں میں آ کر ثابت ہوں گے۔
اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نیب کے پاس ثبوت اور شہادتیں مہیا کر لینے اور جمع کر لینے کی صلاحتیں کافی ہیں لیکن اس کی پراسیکیوشن میں وہی مقدمہ شہادتوں کے مطابق ثابت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور یہی نیب کی کمزوری ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت صوبوں کے اختیارات میں کمی کرنا چاہتی ہے۔ اختیارات میں کمی کے لیے پیپلز پارٹی کبھی بھی تیار نہیں ہو گی۔ ہو سکتا ہے حکومت کی یہ سوچ ہو کہ ان کواٹھارویں ترمیم پر منایا جائے اور یہ پیشکش کی جائے کہ ہم آ پ کو مقدمات میں نہیں آنے دیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی روایت رہی ہے اور ہو سکتا ہے وہ اٹھارویں ترمیم پر بات مان لیں۔ پرویز مشرف کے ساتھ سمجھوتہ کر کے سارے خاندان کے ساتھ سعودی عرب چلے گئے تھے۔ سب سے پہلا این آر او وہی تھا۔
اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ میرا تو اس احتساب پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ نیب صرف لوگوں کو تنگ کرنے اور دباؤ ڈالنے کے لیے ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ عید کے بعد بہت کچھ ہو جائے گا۔ شیخ رشید اپنی رائے رکھنے والے آدمی ہیں اور ان کی رائے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاست بالکل تبدیل ہو جائے تو شاید میاں صاحب واپس اس دھرتی پر قدم رکھیں۔ مریم نواز کے سوا تو سارے لندن موجود ہیں جو اپنے کرتوتوں کے باعث بھاگے ہوئے ہیں۔ مریم نواز نے بھی اب خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ میاں صاحبان کو پناہ مل جائے تو خوش ہو جائیں گے۔ سعودی عرب نے بھی پناہ دے دی تھی۔
(اعتزاز احسن نے یہ گفتگو نیو نیوز کے پروگرام جمہور ود فرید رئیس میں کی ہے)