ترکی کے وزیراعظم طبیب اردوان نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے جوڈیا اور سماریہ کے علاقوں کو اپنا حصہ بنانے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
امریکی مسلمانوں کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترکی اب فلسطینیوں کے مزید علاقے کسی کو بخشنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ترکی اسرائیل کی جانب سے فلطسینیوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کر کے مزید زمین پر قبضہ کرنے کے منصوبوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
پشاور کا پٹھان جسے ترکی میں ایک صدی سے ہیرو کا مقام حاصل ہے
سعودی ڈراموں میں اسرائیل کے متعلق مثبت گفتگو نے سوشل میڈیا پر بھونچال برپا کر دیا
اردوان نے مزید کہا کہ القدس کا شہر پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر ہے۔
یروشلم سنٹر فار پبلک افیئرز اینڈ سٹیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکی مشرقی یروشلم میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے، اس علاقے میں ترکی کا جھنڈا نظر آنے لگا ہے، اس کے اثرات ریسٹورنس اور مقامی کپڑوں کے سٹورز پر بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ترکی کی جانب سے حماس کی حمایت کے بعد غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے مظاہروں کے دوران ترک جھنڈا نمایاں طور پر دکھائی دینے لگا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی مسلم سیاحت کے پردے میں ٹیمپل ماؤنٹ اور دیگر مقدس مقامات پر اپنے قدم جما رہا ہے اور اس کا ممکنہ مقصد ان علاقوں پر قبضہ کرنا ہے۔
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور بلیو اور وائٹ پارٹی کے چیئرمین بینی گانز کی مخلوط حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی حکومت جولائی میں جوڈا اور سماریہ پر بھی اپنا اختیار نافذ کر سکتی ہے، اس بات پر عرب دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ قدم یکسر غیرقانونی ہو گا، عرب لیگ نے بھی فلسطینی اتھارٹی کی حمایت دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ یہ فلسطینی عربوں کے خلاف ایک نیا جنگی جرم ہو گا۔
سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کے اس منصوبے کی تھی جبکہ اردن نے اسرائیل سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کا عندیہ دیا تھا۔