دنیا میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو کھانے پینے میں کوئی احتیاط نہیں کرتے اس کے باوجود وہ دبلے پتلے رہتے ہیں، اس کے برعکس ایسے افراد بھی موجود ہیں جو ہر طرح کے جتن کرنے کے باوجود موٹاپے سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔
سائنسدان اس راز کو سمجھنے کے لیے ایک طویل عرصے سے کوشش کر رہے تھے، اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس سے اس گتھی کے سلجھنے کی امید ہو گئی ہے۔
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے ڈاکٹر جوزف پیننگر اور ان کی ٹیم کی تحقیق کے مطابق ایک نیا جین دریافت ہوا ہے جو خوب کھانے والوں کو مٹاپے کا شکار نہیں ہونے دیتا۔
اس جینز کو اینا پلاسٹک لمفوما کنیس (اے ایل کے) کہا جاتا ہے اور یہ وزن بڑھنے کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔
20 سے 44 سال کی درمیانی عمر کے 47 ہزار 12 صحتمند مگر دبلے پتلے اور نارمل وزن رکھنے والوں کی جینیٹکس اور کلینکل پروفائل کرنے کے بعد ریسرچرز نے ان میں اے ایل کے جین میں تغیر دریافت کیا۔
تحقیق کے مطابق صرف ایک فیصد آبادی میں تبدیل شدہ جین پایا جاتا ہے جو انہیں دبلا پتلا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
یو بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر پیننگر نے کہا کہ ہم ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو ہر قسم کی خوراک کھاتے ہیں اور ورزش بھی نہیں کرتے اس کے باوجود موٹاپے سے محفوظ رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ریسرچرز موٹاپے اور اس سے جڑے جینز پر تحقیق کرتے ہیں لیکن ہم نے دبلے پتلے لوگوں کے جینز کا مطالعہ کیا ہے اور تحقیق کا ایک نیا شعبہ سامنے لائے ہیں۔
ٹیم کے ایک اہم ممبر مائیکل آرتھوفر نے یو بی سی نیوز کو بتایا کہ ہماری تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ اے ایل کے دماغ میں اپنا کام کرتا ہے جہاں یہ غذا کے انسانی جسم کا حصہ بننے (metabolism) کو باقاعدہ بناتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تبدیل شدہ جین اس بات کو بھی کنٹرول کرتا ہے کہ ایک انسان سانس لینے، خون کے بہاؤ میں، خوراک ہضم کرنے میں یا ورزش کرنے میں کتنی کیلوریز خرچ کرتا ہے۔
ریسرچرز نے اس مکھیوں اور چوہوں میں اس جین کو ختم کیا تو ان میں خوراک سے پیدا ہونے والے موٹاپے کے خلاف مزاحمت پیدا ہو گئی۔
انہوں نے دیکھا کہ ایک جیسی خوراک اور حرکت کے باوجود اے ایل کے نہ رکھنے والے چوہوں کا وزن کم رہا اور ان میں کم چربی پیدا ہوئی۔