1962 میں چین بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) طے ہوئی تھی جو ایک عارضی سرحدی انتظام تھا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مشرقی لداخ کے علاقے پر ایل اے سی میں دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں، گزشتہ دنوں مشرقی لداخ میں پینگونگ سوجھیل پر دو بار فوجیوں میں لڑائی ہوئی ہے جس میں مکوں، لاتوں، لوہے کے راڈ اور ڈنڈوں کا استعمال ہوا ہے۔
بھارت میڈیا کے مطابق چین نے بھارت فوجیوں کا ایک دستہ بھی قیدی بنا لیا تھا جسے باہمی گفت و شنید کے بعد رہا کر دیا گیا لیکن ابھی تک صورتحال کشیدہ ہے۔
فوجی ذرائع سے شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اس جھگڑے کے بعد چینی فوجیوں نے جھیل کے مشرقی کنارے پر مزید گشتی کشتیاں اتار دی ہیں، یہ علاقہ چین کے کنٹرول میں ہے۔
بھارت کچھ عرصہ سے اپنی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ایک سڑک تعمیر کر رہا ہے جو اس سال مکمل ہونے کا امکان ہے، چینی حکومت اس کی مخالفت کر رہی ہے۔
جھیل پر ہونے والے جھگڑے کے بعد لداخ سے 2 ہزار کلومیٹر دور ریاست سکم میں بھی چین بھارت سرحد پر ناکولا کے خطے میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان ایسا ہی جھگڑا پیش آیا۔
پینگانگ سو اور وادی گلوان
وادی گلوان کا متنازع علاقہ اکسائی چن میں ہے، یہ وادی لداخ اور اکسائی چن کے درمیان چین بھارت سرحد کے قریب واقع ہے، دونوں ممالک اکسائی چن پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اس وقت یہ دو علاقے ایسے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت جاری ہے، چینی فوج ان علاقوں میں نہ صرف عارضی تعمیرات میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ فوجیوں کی تعداد بھی بڑھا رہی ہے۔
وادی گلوان لداخ کا حصہ ہے جس پر چین اور بھارت دونوں ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں، 1962 کی جنگ میں سب سے شدید لڑائی بھی اسی علاقے میں ہوئی تھی، یہ علاقہ سطح سمندر سے 14 ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گزشہ 10 دنوں میں چینی فوجیں وادی گلوان 5 کلومیٹر تک بھارتی کے زیرقبضہ علاقے میں گھس گئی ہیں اور وہاں تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ چین پوری وادی اور لداخ کے ایک حصے پر اپنا قبضہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے
اس وقت 5 سے 10 ہزار کے قریب چینی فوجی فوجی عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں فوجی رہائش پذیر ہو سکتے ہیں اور یہاں توپ خانے کے لیے بھی جگہیں بن رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بھارت زیرزمین بنکر بھی تیار کر رہا ہے جبکہ 8 سو خیمے بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔
چین کا کہنا ہے کہ بھارت وادی گلوان میں دفاع سے متعلق غیرقانونی تعمیرات کر رہا تھا جو باہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس علاقے میں چین کی فوجی پوزیشن مضبوط ہے، کسی بھی لڑائی کی صورت میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
5 مئی کو کیا ہوا تھا؟
5 مئی کو سکم کے ناکو لا سیکٹر میں چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا جس کی چند ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی تھیں۔
اس روز بھارت کے 250 فوجی چین کے زیرانتظام علاقے میں داخل ہو گئے تھے جس کے بعد جھگڑا شروع ہوا۔ دونوں اطراف سے ڈنڈوں اور آہنی راڈز کا استعمال ہوا جس میں 100 سے 150 کے قریب فوجی زخمی ہو گئے تھے۔
چینی صدر کا فوج کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم
چینی صدر ژی جن پنگ نے اپنی فوج کو جنگ کے لیے تیاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب جبکہ کورونا کا خطرہ ختم ہو گیا ہے، فوج کو تربیت اور جنگ کی تیاری کے لیے رستے تلاش کرنے چاہئیں۔
چین نے اپنے فوجی بجٹ میں 178 ارب ڈالر کے اضافے کا اعلان بھی کر دیا ہے، گزشتہ سال کے فوجی بجٹ میں ہونے والا یہ اضافہ 6.6 فیصد ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نے بھی علاقے میں مزید فوجی بھیجنے کا حکم دے دیا ہے جس سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
بھارتی میڈیا میں سامنے آنے والی سٹیلائیٹ تصاویر سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ چین نے کئی جگہوں پر ان علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے جو پہلے بھارتی فوج کے قبضے میں تھے۔
نیپال بھی بھارت کے خلاف ہو گیا
نیپال کے وزیراعظم نے ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں دو ایسے علاقوں کو نیپال کا حصہ بتایا گیا ہے جو اس وقت بھارت کے قبضے میں ہیں اور جو چین سے بھی جڑے ہیں۔
یہ دونوں علاقے اترکھنڈ کے ضلع پٹھورا گڑھ کا حصہ ہیں تاہم نیپال انہیں اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔
بھارت کے آرمی چیف منوج نروانے نے جلتی پر تیل پھینکتے ہوئے کہا ہے کہ نیپال کی طرف سے نیا نقشہ کسی اور کے کہنے پر جاری کیا گیا ہے، ان کا اشارہ چین کی طرف تھا۔
یاد رہے کہ نیپال کی موجودہ کمیونسٹ حکومت چین کے قریب سمجھی جاتی ہے۔