جنوبی کوریا ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم اس ملک میں ایک مرتبہ پھر کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور وبا کی دوسری لہر کے خدشات کا اظہار شروع ہو گیا ہے۔
جمعرات کو ملک میں 79 نئے مریض سامنے آئے ہیں جو ایک دن پہلے کے اعدادوشمار سے دگنا ہیں، یہ 5 اپریل کے بعد سامنے آنے والی مریضوں کی سب سے بڑی تعداد ہے، کوریا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 11 ہزار 344 ہو گئی ہے۔
جنوبی کوریا کی کورونا وائرس کے خلاف کامیابی میں دنیا کے لیے چار اہم سبق
تمام ممالک کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کے لیے تیار رہیں، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
نیوزی لینڈ نے کن تین باتوں پر عمل کر کے کورونا کے خلاف فتح حاصل کی؟
جنوبی کوریا میں کورونا وبا کے دوران آن لائن خریداری کا رجحان بڑھ گیا ہے، ایسی ہی ایک کمپنی کوپانگ کارپوریشن کے ڈسٹری بیوشن سنٹر میں کورونا کے نئے مریض سامنے آئے ہیں، 69 کیسز کا تعلق اسی کمپنی کے مختلف سنٹرز سے ہے۔
کوپانگ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیول کے شمال مغرب میں موجود ڈسٹری بیوشن سنٹر میں ایک ملازم میں کورونا کی تصدیق ہونے کے بعد اس دفتر کو بند کر دیا گیا ہے۔
کوریا کے نائب وزیر صحت و سماجی بہبود کم کانگ لپ نے کہا ہے کہ کورونا کے کلسٹرز پر قرنطینہ کے ذریعہ قابو پا لیا جائے گا تاہم وبا کی دوسری لہر کے خدشات موجود ہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں سیول کے نائٹ کلبز میں کورونا کے کلسٹرز سامنے آئے تھے جس میں 3 سو کے قریب افراد میں کورونا کا انکشاف ہوا تھا، فروری میں ایک مذہبی اجتماع کے باعث کورونا وبا کا پھیلاؤ بڑھ گیا تھا اور روزانہ اوسطاً ایک ہزار مریض سامنے آ رہے تھے۔
جنوبی کوریا نے لاک ڈاؤن اور سفر پر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے بڑی تعداد میں ٹیسٹ کرنے اور مریضوں کو ملنے والوں کی تلاش کر کے انہیں قرنطینہ کرنے کے ذریعے وبا پر قابو پا لیا تھا۔
اس کامیابی کے باعث حکمران جماعت، جو کورونا سے پہلے بہت غیرمقبول ہو گئی تھی، بھاری اکثریت سے انتخابات بھی جیت گئی تھی۔
عالمی ادارہ صحت بار بار خبردار کر رہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد دنیا کو کورونا کی دوسری لہر کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔