حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ 2020۔21 میں 350 ٹیرف لائنوں پر ڈیوٹیوں میں خاطر خواہ کمی کے علاوہ 1630 ٹیرف لائنوں پر اضافی ڈیوٹی ختم کرنے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے اتفاق کیا ہے۔
وزارت تجارت ٹیرف سے متعلق معاملات میں کمی لانے کے لیے متحرک ہے اور اس سلسلے میں وہ ٹیرف بورڈ اور دیگر سرکاری حکام کے ساتھ 8 سے 9 اجلاس کر چکے ہیں جس کا مقصد خام مال سے متعلق ٹیرف لائنوں میں کمی لانے کا طریقہ کار تلاش کرنا ہے کیونکہ روپے کی قدر میں بے حد کمی اور مختلف ڈیوٹیوں و ٹیکسوں نے خام مال کی درآمد کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ 2019۔20 میں حکومت کی جانب سے برآمدات بڑھانے کے لیے خام مال سے متعلق 1636 ٹیرف لائنوں میں کسٹم ڈیوٹی 3 فیصد سے کم کر کے صفر کر دی گئی تھی جس سے ایک تخمینے کے مطابق ریونیو میں 20 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی، لیکن وزارت تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کی وجہ سے ان ٹیرف لائنوں پر 2 فیصد اے سی ڈی کو برقرار رکھا گیا۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈر نے اس بات پر اتفاق رائے کیا ہے کہ آنے والا بجٹ جس کا اعلان جون کے دوسرے ہفتے میں متوقع ہے، میں 1336 اشیاء پر اضافی 2 فیصد اے سی ڈی کو بھی ختم کیا جانا چاہیے۔ کورونا وائرس کے باعث عالمی سطح پر معیشت کے متاثر ہونے کے بعد ، مقامی سطح پر لاک ڈاؤن اور صنعتوں کی بندش سے وزارت تجارت کو پہلے ہی برآمدات کی مد میں 4 ارب ڈالرز کی کمی کا سامنا ہے۔
ٹیرف بورڈ کے ذریعے مختلف صنعتوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز اور بحث کے بعد حکومت نے بجٹ میں 1636 ٹیرف لائنوں پر اے سی ڈی کو ہٹانے کے علاوہ 350 ٹیرف لائنوں پر کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی اور اے سی ڈی وغیرہ کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیوٹیز میں کمی سے متعلق تجویز چیئرمین حبیب گروپ علی سلیمان حبیب، جو "میک ان پاکستان” کے مشیر بھی تھے، نے تیار کی تھی۔ وہ 31 مارچ 2020 کو وفات پا گئے، تاہم وزیراعظم اس پروپوزل کی اصولی طور پر پہلے ہی منظوری دے چکے تھے جبکہ اس پالیسی کو نافذ کرنے والی وزارت کے عہدیداروں کا اس کی تیاری میں کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔
بزنس ریکارڈر میں شائع مشتاق گھمن کی خبر کے مطابق مشیر تجارت عبدرازاق داؤد اور سیکرٹری تجارت احمد نواز سکھیرا کے درمیان اس وقت اختلافات پیدا ہو گئے تھے جب سیکرٹری تجارت نے بھارت سے کیمیکلز کی درآمد کے تحت ” Lotte Pakistan” کو دی جانے والی اربوں روپے کی مراعات کی مخالفت کی تھی۔