پاکستان کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی کے زیراستعمال دہشت گردوں کو تلاش کرنے والی ٹیکنالوجی اب کورونا مریضوں کی کھول لگانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
کورونا وبا پاکستان میں تیزی سے پھیل رہی ہے جس کے باعث حکومت نے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی سے مدد مانگ لی ہے تاکہ وائرس کا شکار ہونے والوں کو تلاش کر کے انہیں اسے مزید پھیلانے سے روکا جا سکے۔
کیا پاکستان، چین اور روس ایشیاء سے امریکی ڈالر کی حکمرانی ختم کرنا چاہتے ہیں؟
بھارت کے امیر ترین شہر ممبئی میں کورونا کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال
کورونا کا پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن : ڈاکٹر ظفر مرزا نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اس پراجیکٹ کی تفصیلات ابھی تک نہیں بتائی گئیں لیکن دو سرکاری عہدیداروں نے بتایا ہے کہ انتہائی مطلوب مجرموں کی تلاش کے لیے انٹیلی جنس سروسز کی فون کی نگرانی اور مطلوبہ افراد کی موجودگی (جیو فینسنگ) کا پتا لگانے والی ٹیکنالوجی کورونا مریضوں کی تلاش کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق حکام کورونا کے مشتبہ مریضوں کی کالز بھی سن رہے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کا رابطہ کس کے ساتھ ہے۔
ایک انٹیلی جنس افسر کے مطابق ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم کورونا مریضوں کو فون کے ذریعے تلاش کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ کن لوگوں سے مل رہے ہیں، حکومت اس سسٹم کے باعث ایسے افراد کو بھی تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جن کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور وہ غائب ہو گئے تھے۔
وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں اس پروگرام کی تعریف کی تھی تاہم اس پر زیادہ بحث نہیں ہو سکی اور لوگوں کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ پروگرام بنیادی طور پر دہشت گردی کے خلاف استعمال ہو رہا تھا لیکن اب یہ کورونا کے خلاف جنگ میں بھی مفید ثابت ہو رہا ہے۔