بھارت میں بندروں نے ایک لیبارٹری میں کام کرنے والے شخص پر حملہ کر دیا اور اس سے کورونا کے نمونے چھین کر ساتھ لے گئے جس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ خود اس وائرس کا شکار ہونے کے بعد اسے پھر انسانوں میں نہ پھیلا دیں۔
یہ واقعہ شمالی بھارت کے علاقے میروت میں پیش آیا ہے، لیب ٹیکنیشن کورونا کے مشتبہ مریضوں کے نمونے ساتھ لے کر جا رہا تھا جب بندروں نے حملہ کیا، کورونا وائرس کے نمونے لے جانے والے بندر بعد ازاں رہائشی علاقے میں چھپ گئے۔
بھارت کے امیر ترین شہر ممبئی میں کورونا کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال
بھارت کا پاکستان کا ایک اور جاسوس کبوتر پکڑنے کا دعویٰ
ٹیکنیشن اس حملے میں خود تو محفوظ رہا لیکن اس نے بندروں کی ویڈیو بنا لی جس پر اعلیٰ حکام شدید ناراض ہیں کہ وہ بندروں سے مریضوں کے نمونے واپس لینے کے بجائے ویڈیو بنانے میں مصروف کیوں ہو گیا۔
برطانوی اخبار ٹیلیگراف کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس بندروں میں منتقل ہو سکتا ہے اور وہاں سے دوبارہ انسانوں کو اپنا شکار کر سکتا ہے۔
بھارت میں جانوروں کے ذریعے کورونا کے پھیلاؤ کا خوف موجود ہے جس کے باعث کئی لوگوں نے اپنے پالتو کتوں کو گلیوں میں چھوڑ دیا ہے۔
اس واقعہ کا ٹویٹر پر بہت مذاق اڑایا جا رہا ہے، خصوصاً بھارت کی جانب سے پاکستان کے جاسوس کبوتر کی گرفتاری سے جوڑا جا رہا ہے۔
ایک ٹویٹر صارف نے مزاح کے رنگ میں لکھا ہے کہ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ کہیں پاکستان نے تو کورونا کے نمونے چرانے کے لیے ان بندروں کو بھارت نہیں بھیجا تھا؟
بھارت میں شہروں کی وسعت کے باعث بندر اپنے قدرتی مسکن سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور وہ شہروں کے مضافات میں انسانوں پر حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔
2018 میں آگرہ میں بندروں نے ایک 12 سالہ بچے کو چبا ڈالا تھا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔