وزیراعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس 31 مئی کو طلب کر لیا ہے جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ لاک ڈاؤن نرم کیا جائے یا اس میں مزید سختی لائی جائے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا جائے گا کہ کس شعبے میں کاروبار کے لیے رعایت دی جائے اور یہ کہ ایس او پیز پر کس طرح عمل کرایا جائے۔
وفاقی وزیر شہریارآفریدی بھی کورونا مرض میں مبتلاء
کورونا کا پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن : ڈاکٹر ظفر مرزا نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اجلاس میں تمام صوبے اپنی اپنی سفارشات وزیراعظم کے سامنے رکھیں گے جس کے بعد حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے۔
اس سے پہلے 7 مئی کو ہونے والے اجلاس میں 9 مئی سے لاک ڈاؤن نرم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، وزیراعظم نے اس موقع پر کہا تھا کہ یہ فیصلہ صوبوں کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے عید کے موقع پر تمام کاروبار اور شاپنگ مالز کو پورا ہفتہ کھلا رکھنے کا حکم دیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اور صوبوں میں تمام کاروبار اور شاپنگ مالز کے شام 5 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
تاہم عید کے موقع پر بازاروں میں جس قسم کا رش دیکھنے میں آیا تھا اس کے باعث ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
اب تک پاکستان بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 65،317 ہو گئی ہے جبکہ 1366 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 24،131 مریض صحتیاب ہو کر اپنے گھر لوٹ چکے ہیں۔