گھومنا پھرنا، شاپنگ کرنا، دعوتیں کرنا، اسپتال کے آؤٹ پیشنٹ ڈور جانا اور اس طرح کے بہت سے کام کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق ہیں۔ لیکن جب ہر انسان کے کسی جان لیوا بیماری کا کیرئر بننے کا اندیشہ ہو تو ریاست یہ بنیادی حقوق معطل کر سکتی ہے۔ وبا کے دنوں میں اسپتال بھی معمول کے مطابق کام نہیں کرتے اور جب اسپتال ہی میدان جنگ ہوں تو وہاں سے دور رہنا ہی بھلا ہے۔
سترہ مارچ کو ہمارے صوبے اونٹاریو ،کینیڈا میں ایمرجنسی آرڈر جاری ہوا جس کی روسے تمام غیر ضروری کاروبار بند رہیں گے اور پانچ افراد سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی رہے گی۔ اس آرڈر کی تاریخ میں اونٹاریو کے چیف میڈیکل افسر کی تجویز کی روشنی میں اضافہ بھی کیا گیا۔ اب جو بزنس آؤٹ ڈور کام کرتے ہیں ان کے کھولنے پر غور ہو رہا ہے بشرطیکہ وہ حفاظتی اقدامات کی پابندی کریں۔
اونٹاریو کے چیف میڈیکل افسر کی ٹیم ہی فیصلہ کرے گی کہ پابندیاں کتنی نرم کرنی ہیں اور کب اٹھانی ہیں۔ جب صوبے میں کمیونٹی ٹرانسمیشن کے کیسز یومیہ دو سو سے کم ہو جائیں گے تبھی پابندیاں نرم کی جائیں گی۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ وبا کا پھیلاؤ اسقدر رہے جسے آسانی سے سنبھالا جا سکے نہ کہ اتنا کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔
اب دوسری طرف اونٹاریو کے باشندے بھی غیر ضروری کام بند کر کے صبر سے وبا کی شدت میں کمی کا انتظار کر رہے ہیں۔ معاشی چیلنجز سب کو ہیں لیکن ترجیح اس وقت صحت اور زندگی کی حفاظت ہے۔ زندہ رہیں گے تو کما بھی لیں گے۔ پچھلے ڈھائی ماہ میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے تہوار بھی آئے اور بغیر کسی اہتمام کے گزر گئے کیونکہ وقت کا تقاضا یہی تھا۔
بنیادی حقوق معطل ہیں لیکن انسانوں کی جانیں محفوظ رکھنا اسوقت ترجیح ہے۔
بات شعور کی ہے، جب تک معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرے گا حکومت کی ہر کاوش سوراخ والی بالٹی میں پانی محفوظ رکھنے کی کوشش ہی ثابت ہو گی۔ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اس وقت صحت کے ادارے سے وابستہ افراد ہی سب سے بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں کیونکہ معاملہ صحت کا ہے قانون کا نہیں۔
اللہ سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔
روبینہ یاسمین