پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں پھوٹنے والے مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے ہیں جس کے باعث 16 ریاستوں کے ساتھ ساتھ 25 شہروں میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
مختلف شہروں کی صورتحال
کئی شہروں میں دکانیں لوٹ لی گئی ہیں، کاروں کو آگ لگا دی گئی ہے جبک عمارتوں پر حملے جاری ہیں، امریکہ کے 30 شہروں میں ہنگامے جاری ہیں، گزشتہ روز تک مظاہرین پرامن تھے لیکن پھر انہوں نے تشدد شروع کر دیا۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر لاس اینجلس ہے، ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور نیشنل گارڈز نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
نیشنل گارڈز فوج کے ریزرو دستے ہیں جنہیں مقامی ایمرجنسی کے موقع پر طلب کیا جاتا ہے۔ لاس اینجلس میں رات 8 بجے سے صبح ساڑھے 5 بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
اب تک شہر میں کئی دکانیں لوٹی جا چکی ہیں، سوشل میڈیا پر آنے والی کئی ویڈیوز میں آگ اور دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں، پولیس نے مظاہرین پر ربر کی گولیاں فائر کی ہیں اور لاٹھی چارج کیا ہے، سینکڑوں افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔
شہر کے میئر ایرک گارسٹی کا کہنا ہے کہ 1992 کے مظاہروں کے بعد یہ سب سے بھاری وقت ہے۔
نیویارک شہر میں پولیس کی 20 گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی ہے، ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک پولیس کار مظاہرین کے اندر گھس جاتی ہے، میئر بل ڈی بلاسیو کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے صورتحال خراب نہیں کی گئی لیکن بہت سے لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔
شکاگو کے میئر لوری لائٹ فٹ نے رات 9 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو کا اعلان کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین پولیس پر پانی کی بوتلیں اور دیگر اشیاء پھینک رہے ہیں۔
اسی طرح اٹلانٹا میں کرفیو کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں اور وہ عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، درجنوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
منی پولس، جہاں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی موت واقع ہوئی تھی، میں فسادات جاری ہیں اگرچہ ان کی شدت میں کمی دیکھی جا رہی ہے، نیشنل گارڈز کے 700 افسر پولیس کی مدد سے امن و امان قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فلیڈیلفیا میں بھی کرفیو نافذ ہے، شہر میں ہنگاموں کے باعث 13 پولیس افسر زخمی ہوئے ہیں جبکہ سٹورز کے لوٹنے، پولیس کاروں کو آگ لگانے اور عمارتوں پر حملوں کے واقعات جاری ہیں۔
میامی، پورٹ لینڈ اور لوئزول سمیت کئی شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، سین فرانسسکو میں لوٹ مار اور تشدد کے واقعات کے بعد کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے،
پولیس بھی مظاہرین کے ساتھ شامل ہو گئی
مشی گن میں ایک پولیس شیرف کرس سوانن نے پولیس اہلکاروں کے ہیلمٹ اتروا کر انہیں لاٹھیاں رکھ دینے کو کہا اور پھر مظاہرین سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں، اس کے بعد پولیس اور مظاہرین آپس میں گلے ملے اور عوام کے اصرار پر پولیس بھی مظاہرین میں شامل ہو گئی۔
صدر ٹرمپ کا قوم سے خطاب
ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر فلائیڈ کی موت نے امریکیوں کو دہشت، غصے اور غم سے بھر دیا ہے، میں ہر اس امریکی کے سامنے ایک دوست کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو امن چاہتا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ غصے سے بھرے مظاہرین کو غلبہ پانے کی اجازت نہیں دیں گے، ایسا کبھی نہیں ہو گا۔
جارج فلائیڈ کے ساتھ کیا ہوا؟
پیر کی رات پولیس کو ایک گروسری کی دکان سے کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ جارج فلائیڈ نے دکاندار کو 20 ڈالر کا جعلی نوٹ دیا ہے۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے گرفتار کیا اور جب اسے پولیس وین میں ڈالنے لگے تو وہ زمین پر گر گیا اور کہا کہ وہ بند جگہوں سے خوفزدہ ہوتا ہے، پولیس افسر شاون نے اس کی گردن پر گھٹنہ رکھ کر ہتھکڑی پہنا دی ۔
سامنے آنے والی ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ جاج فلائیڈ پولیس افسر سے کہہ رہا ہے کہ میں سانس نہیں لے سکتا، مجھے مت ماریں، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پولیس افسر نے 8 منٹ اور 46 سیکنڈ پر ملزم کی گردن گھٹنے سے دبائے رکھی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔
اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی اور امریکہ کے بہت سے شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے جو بعد میں پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔
پولیس نے 44 سالہ ڈیرک شاون کو جارج فلائیڈ کے قتل میں گرفتار کر لیا ہے، اسے پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔