اداکارہ عظمیٰ خان کے گھر پر حملے اور ان کے ساتھ گالی گلوچ اور مارپیٹ کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا ہے۔
اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین مختلف آرا پیش کر رہے ہیں تاہم شوبز اور اداکاری سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات عظمیٰ خان کی حمایت بولنا شروع ہو گئی ہیں۔
معروف اداکارہ ماہرہ خان نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کر کے اس سے بچ سکتے ہیں، انہیں عبرت کی مثال بنا دینا چاہیئے۔
انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور شیریں مزاری کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کتنی آنکھیں سوئیں گی، کتنے چہرے مر جائیں گے، ہر سوال کا جواب بس احتساب احتساب
اداکارہ ہانیہ عامر نے انسٹاگرام پر اپنی جذباتی ویڈیو میں اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابل نفرت قرار دیا ہے۔
ثروت گیلانی کا کہنا ہے کہ تین خواتین کا اپنے گارڈز کے ہمراہ اس طرح گھر میں گھس کر تشدد کرنا ایک غیرانسانی فعل ہے، انہوں نے سوال پوچھا کہ اس معاملے میں ملوث عثمان ملک کو اس کی بیوی اور ماں نے مل کر کیوں نہیں مارا اور اس کی ویڈیو کیوں نہیں بنائی۔

اسی طرح عدنان ملک نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ وہ پوری ویڈیو نہیں دیکھ پائے کیونکہ یہ بہت ہی قابل نفرت تھی، اس میں جسمانی تشدد، جنسی ہراسگی، زبانی گالم گلوچ اور شدید قسم کا مراعات یافتہ ہونے کا احساس موجود تھا۔
زارا پیرزادہ نے بھی شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تشدد، ہراسگی اور سماجی و سیاسی طور پر مراعات یافتہ ہونے کا اظہار تھا۔
ژالے سرحدی نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے یہ قابل نفرت ویڈیو دیکھی، یہ انتہائی غیراخلاقی اور قابل مذمت ہے اور اس میں ملوث ہر شخص کو اس کے انجام تک پہنچا چاہیئے۔
عریبہ حبیب نے ٹویٹر پر کہا کہ یہ طاقت کا انتہائی گھناؤنا فعل تھا اور پوری طرح قابل نفرت تھا۔
فہد مرزا نے عظمیٰ خان کی جرات کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے پاس ہمیشہ اختیار موجود ہوتا ہے کہ یا تو ہم کھڑے ہو کر مقابلہ کریں یا پھر چھپ جائیں۔ عظمیٰ خان نے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی ہے اور یہ اس کے لیے بہت اچھا ہے۔