اٹلی کے سینئر ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس اپنی قوت کھو رہا ہے جس کے باعث اس کی نقصان پہنچانے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔
میلان کے سین رافیل اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر البرٹو زینگریلو نے کہا ہے کہ حقیقت میں کورونا وائرس اب اٹلی میں باقی نہیں رہا، گزشتہ 10 دنوں میں ہم نے جتنے بھی نئے ٹیسٹ کیے ہیں ان میں وائرس کی تعداد نہ ہونے کے برابر ملی ہے۔
لاک ڈاؤن میں نرمی، اموات میں کمی، اٹلی کورونا سے کیسے نمٹا؟
کورونا وائرس: اٹلی میں مافیا غریبوں کی مدد کیلئے پہنچ گیا، حکام پریشان
کورونا کے شکار اٹلی کے 72 سالہ پادری نے قربانی کی لازوال داستان رقم کر دی
انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے متعلق خدشات غیرضروری ہیں، ہمیں ایک نارمل ملک کی طرف واپس جانا چاہیئے، کسی کو پورے ملک کو خوفزدہ کرنے کی ذمہ داری لینی چاہیئے۔
ایک اور نامور اطالوی ڈاکٹر میتیو بسیتی نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی جو قوت دو ماہ پہلے تھی وہ آج باقی نہیں ہے، یہ بات واضح ہے کہ آج کورونا کی بیماری دو ماہ پہلے سے مختلف ہے۔
تاہم اطالوی حکومت نے احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی فتح کا دعویٰ قبل از وقت ہے۔
وزارت صحت کے انڈر سیکرٹری ساندرا زیمپا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وائرس کے غائب ہونے کے دعووں کی سائنسی شہادت ابھی تک نہیں ملی، ہمیں عوام کو حد درجہ احتیاط کرنے، سماجی فاصلہ قائم رکھنے، بڑے اجتماع کرنے، ہاتھوں کو بار بار دھونے اور ماسک پہننے کی ضرورت ہے۔
اس وقت تک کورونا کے باعث اموات کے لحاظ سے اٹلی دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، ملک بھر میں 33 ہزار 415 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار سے زائد ہے۔