• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

وزیراعظم کو گرین ایریا تبدیل کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ سپریم کورٹ برہم

by sohail
جون 1, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد میں تجاوزات اور مارگلہ ہلز پر قائم ریسٹورنٹس اور مائننگ اور کرشنگ کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے رپورٹ کے مطابق بفر زون گرین ایریا وزیراعظم نے کم کیا، 2008 میں وزیراعظم نے گرین ایریا تبدیل کرنے کا حکم کیسے دیا، وزیراعظم کو گرین ایریا تبدیل کرنے کا اختیار کہاں سے ملا  

سماعت کے دوران میئر اسلام آباد بھی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ ساڑھے 4 سال سے بطور میئر اسلام آباد ہیں یہ بتائیں کہ اس عرصے میں آپ نے شہر کیلئے کیا کیا، آپ نے شہر کیلئے کوئی ایک منصوبہ بھی دیا ہے؟

میئر اسلام آباد نے بتایا کہ میں گزشتہ 3 سال سے ہر سال منصوبہ بنا کر وفاقی حکومت کو دے رہا ہوں۔ انہوں نے ملبہ بیوروکریسی پر ڈالتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی اسلام آباد میں انتخابات نہیں چاہتی تھی اسی وجہ سے کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وزارت داخلہ سے کوئی عدالت میں موجود ہے۔ سماعت کے موقع پر سیکرٹری داخلہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ میئر صاحب خود چیئرمین سی ڈی اے بھی رہ چکے ہیں، اب تک 18 ارب روپے میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کو دے چکے ہیں، اس سال بھی 6 ارب روپے ایم سی آئی کو دیے، لوکل گورنمنٹ کمیشن کا قیام عمل میں آ چکا ہے، سی ڈی اے اور ایم سی آئی کے درمیان جو تنازعات ہیں وہ لوکل گورنمنٹ کمیشن کے ذریعے ہی حل ہونگے، ایم سی آئی کے اسٹاف کو تنخواہیں اور الاؤنسز ہم دے رہے ہیں، ایم سی آئی کو اپنا بجٹ بنانا تھا، انہوں نے کچھ کام نہیں کیا، ایم سی آئی کو 10 ہزار ملازمین دیے گئے۔

بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ 10 ہزار ملازمین اسلام آباد میں کیا کرتے ہیں، وفاقی دارالحکومت میں ہر طرف گند پڑا ہوا ہے۔ بینچ میں موجود ایک اور رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے میئر سے کہا کہ اب تک آپ کو 18 ارب روپے مل چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے میئر اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میئرصاحب آپ اپنی پوزیشن ہمارے سامنے خود خراب کر رہے ہیں، آپ کس چیز کے انتظار میں ہیں، کیا آپ کیلئے آسمان سے من و سلویٰ نے اترنا ہے، آپ سنجیدہ آدمی نہیں لگ رہے، آپ منتخب نمائندے ہیں، اپنی طاقت دکھانی چاہئے، آپ کو یہ رونا دھونا زیب نہیں دیتا کہ حکومت مجھے رقوم نہیں دے رہی، لوکل گورنمنٹ خود ایک حکومت ہوتی ہے اور اپنے وسائل اور ضروریات خود پورا کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ وزیراعظم کے گرین زون تبدیل کرنے کے اختیار کا جائزہ لیں گے، بفرزون گرین ایریا میں دو یونیورسٹیاں بھی بنی ہوئی ہیں، ماڈل جیل اسلام آباد گرین زون میں کیوں بنائی جا رہی ہے، ضرورت پڑی تو گرین زون کی تعمیرات مسمار کرنے کا حکم دیں گے، اسلام آباد جیسا ماڈل شہر کچی آبادی سے بھی بدتر ہو چکا ہے۔

انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اسلام آباد کا پھیلاؤ کیوں نہیں روکا جا رہا؟ کیا اسلام آباد کو پشاور اور لاہور سے ملوانا ہے؟

انہوں نے ریمارکس دیے کہ کشمیر ہائی وے کے اطراف قبضہ ہو چکا ہے، سنٹورس سے ملحقہ پلاٹ پر پارکنگ بنائی گئی ہے، سی ڈی اے کا پلاٹ عملی طور پر دوبارہ سنٹورس کو پارکنگ کیلئے مل گیا ہے، کیا اسلام آباد میں پیسوں کے عوض پارکنگ کی گنجائش ہے؟

چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ ماسٹر پلان میں پیسوں کے عوض پارکنگ کی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ پیسوں کے عوض ہونے والی پارکنگ پر حکم امتناع جاری کر دیں۔ میئر اسلام آباد نے کہا کہ عدالتی حکم پر پارکنگ کیلئے ٹھیکہ دیا گیا۔

بعد ازاں عدالت نے احکامات جاری کیے کہ گرین زون میں تبدیلی سے متعلق تمام دستاویزات پیش کی جائیں۔ عدالت نے مارگلہ ہلز پر قائم ریسٹورنٹس کو آئندہ ہفتے تک جواب جمع کرانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

عدالت نے مزید ہدایات جاری کیں کہ ایم سی آئی، سیکرٹری داخلہ، آئی سی ٹی، چیئرمین سی ڈی اے سیکرٹری فنانس ایڈیشنل اٹارنی جنرل ملاقات کریں اور حل نکالا جائے۔ عدالت نے احکامات جاری کیے کہ وفاقی حکومت اور میئر اسلام آباد کے مابین تنازعات کا حل نکال کر ایک ماہ میں رپورٹ پیش کی جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔

مارگلہ ہلز میں مائننگ اور کرشنگ کیس

مارگلہ ہلز میں مائننگ اور کرشنگ کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں وکیل قلبِ حسن نے عدالت کو بتایا کہ بفر زون نیشنل پارک سے 1000 گز کے فاصلے پر ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ان سے استفسار کیا کہ جہاں کرشنگ ہو رہی ہے کیا وہ مارگلہ ہلز کی زمین نہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ نقشے سے یہ صاف ظاہر ہے کہ نیشنل پارک کون سا ہے اور بفر زون کون سا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 1996 میں بھی سپریم کورٹ نے ایسی ہی ایک درخواست مسترد کی تھی، مارگلہ ہلز سے سرنگ بنانے کے معاملے پر بھی عدالت نے اجازت نہیں دی تھی، یہ جو نقشے عدالت میں پیش کیے گئے ہیں یہ سب جعلی اور دو نمبر ہیں، یہ سب لوگ آپس میں ملے ہوئے ہیں، موٹر وے پر کلر کہار میں پہاڑ ختم کر دیئے گئے ہیں، جو رہ گئے وہ اس وجہ سے ہیں کہ ہم نے زور مارا ہوا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ مری کا پہاڑ بھی غائب کر دیا گیا ہے۔

وکیل قلب حسن نے استدعا کی کہ عدالت ہماری درخواست سن لے، ہم نے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ مارگلہ ہلز میں مائننگ پر پابندی وہاں موجود جنگلی حیات اور جنگلات کے تحفظ کے لیے لگائی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل پارک ملک بھر میں ہیں، یہ صرف مارگلہ ہلز کی بات نہیں ہے، ہم یہ پارکس کسی صورت برباد نہیں ہونے دیں گے۔

وکیل قلبِ حسن نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے رن وے اور موٹر ویز اسی کرشنگ سے بن رہی ہیں، حد بندی ہونے کے بعد مائننگ کی اجازت دی گئی تھی، 1000 گز کا بفر زون بھی رکھا گیا ہے، عدالت چاہے تو پنجاب حکومت سے رپورٹ منگوا لے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پنجاب کی رپورٹ آپ کے حق میں ہی آئے گی، پنجاب کی رپورٹ بعد میں ہمارے لیے مسائل پیدا کرے گی۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ پنجاب میں کرشنگ کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی ہے۔

 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب میں کرشنگ روک دی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کرشنگ کی اجازت کیوں دی گئی تھی؟ پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ یہ حکام سے پوچھ کر بتا سکتا ہوں۔

دوران سماعت خان پور ڈیم کے نزدیک آبادی کے رہائشی عدالت میں پیش ہوئے، ایک رہائشی نے کلمہ پڑھ کر دہائی کہ خان پور میں مسلسل کرشنگ اور بلاسٹنگ ہو رہی ہے، کرشنگ ہمارے گاؤں سے صرف 65 میٹر دور ہو رہی ہے، اس کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہو چکا ہے، بلاسٹنگ کی وجہ سے علاقے میں خوف رہتا ہے، خان پور میں کرشنگ پلانٹ مارگلہ ہلز سے صرف دو کلومیٹر دور ہیں، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا سمیت تمام لوگ جھوٹ بول رہے ہیں، خان پور میں مسلسل کرشنگ ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کرشنگ کی وجہ سے کہیں خان پور ڈیم ہی نہ بہہ جائے۔ تاہم چیف جسٹس نے قرار دیا کہ خان پور ڈیم سے ملحقہ کرشنگ پلانٹ مارگلہ ہلز سے متعلقہ نہیں، اس حوالے سے اگر شکایت ہے تو الگ سے درخواست دائر کی جائے۔

Tags: سپریم کورٹ آف پاکستانمئیر اسلام آباد شیخ انصر عزیز
sohail

sohail

Next Post

مخصوص شعبوں کے علاوہ دیگر کاروبار ایس او پیز کے تحت کھول دیے جائیں گے، وزیراعظم

صدر ٹرمپ کی متنازعہ پوسٹ نہ ہٹانے پر فیس بک ملازمین کی مارک زکربرگ پر تنقید

امریکی جیل میں قید ایرانی سائنسدان سیروس عسگری رہا کر دیے گئے

افریقی ملک کانگو میں کورونا کے ساتھ ساتھ ایبولا وبا پھیلنے لگی، 5 افراد ہلاک

کورونا سے صحتیاب ہونے والے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی انتقال کرگئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In