دنیا ابھی کورونا وائرس سے نجات کی جدوجہد میں مصروف ہے، اس دوران افریقی ملک کانگو میں خطرناک ترین ایبولا وائرس وبائی شکل اختیار کرنے لگا ہے۔
حکام کے مطابق مغربی شہر منبڈاکا میں 10 افراد میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 5 کی موت واقع ہو گئی ہے۔
براعظم افریقہ میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار اسقدر کم کیوں ہے؟
کورونا کے خلاف افریقہ میں مقبول ہوتی معجزاتی جڑی بوٹی آرٹیمیسیا پر جرمنی میں تحقیق شروع
کورونا وبا کی روک تھام : غریب ممالک کیلئے تین اہم سبق
ایبولا وائرس سب سے پہلے 1976 میں ایبولا دریا کے قریب سامنے آیا تھا جس کے بعد کانگو میں اس وبا کا یہ 11 واں حملہ ہے۔
کانگو کے وزیرصحت ایٹنی لونگوڈو نے رپورٹرز کو بتایا ہے کہ منبڈاکا میں نئی ایبولا وبا پھیل گئی ہے، ہم فوری طور پر علاقے میں ویکسین اور ادویات روانہ کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں 2017 کے بعد سے ایبولا وائرس کا یہ تیسرا حملہ ہے، ملک میں پہلے ہی خسرہ کی وبا پھیلی ہوئی ہے جس نے 6 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے جبکہ کورونا کے 3 ہزار مریض سامنے آ چکے ہیں اور 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائرکٹر جنرل ٹیڈروس نے ٹویٹ کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ایبولا کا دوبارہ سر اٹھانا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کووڈ 19 لوگوں کے لیے واحد خطرہ نہیں ہے۔
2018 میں منبڈاکا میں ایبولا وائرس نے حملہ کیا تھا اور خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وائرس پھیل کر دارالحکومت کنشاسا میں نہ پہنچ جائے جہاں ایک کروڑ افراد رہتے ہیں۔
تاہم ویکسین، ہاتھ دھونے والی موبائل گاڑیوں اور گھر گھر جا کر لوگوں کو تعلیم دینے کی بدولت یہ وبا پھیلنے سے پہلے ہی رک گئی تھی۔
مئی 2019 میں ایبولا وائرس کی وجہ سے کانگو میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، 2014 اور 2018 کے درمیان اس وبا نے مغربی افریقہ کے ممالک گنی، سیرالیون اور لائبیریا میں 11 ہزار سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔