دوہزار برس سے زائد عرصہ گزر گیا ہے جب سقراط نے عجز کو تمام خوبیوں سے برتر قرار دیا تھا، اس نے کہا تھا کہ دانا ترین لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی کم علمی کو تسلیم کرتے ہیں۔ سائنس کو یہ بات سمجھنے میں طویل عرصہ لگا مگر دھیرے دھیرے اس نے سقراط کی بات کو سچ ثابت کرنا شروع کر دیا۔
گزشتہ ایک دہائی میں اس موضوع پر بہت زیادہ تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق زیادہ عجز رکھنے والے افراد جلد سیکھنے ، تیزی سے فیصلہ کرنے اور مسائل حل کرنے والے ہوتے ہیں، ایک تحقیق میں یہاں تک کہا گیا کہ عاجزی کی خوبی سے مالامال شخص اپنے آئی کیو سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
بی بی سی میں شائع تازہ ترین تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک رہنما کے لیے یہ خوبی اہم ترین حیثیت رکھتی ہے، اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ اس صفت کے باعث بہتر حکمت عملی تیار کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور اس کی وجہ سے کسی بھی ادارے میں موجود دیگر افراد کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
عجز کے اظہار کے لیے اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے
جدید تحقیق سے قبل عزت نفس اور خود اعتمادی کو معاشرے کی تمام خرابیوں کا علاج سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ نکتہ نظر عجز کے حق میں تبدیل ہو رہا ہے۔
عزت نفس کا احساس اور عجز آپس میں متصادم نہیں ہیں، برطانیہ میں لیڈرشپ کوچ خالد عزیز کا کہنا ہے کہ عاجزی کا اظہار کرنے کے لیے بھی خود اعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ول سٹور اپنی کتاب ‘سیلفی’ میں لکھتے ہیں کہ عزت نفس کے نظریے کی مقبولیت کے باعث والدین اور اساتذہ میں غیرمشروط رجائیت کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جس کے باعث تنقید یا شک جیسی ضروری خاصیتوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے جس سے عجز پیدا کرنے کے رستے بند ہو جاتے ہیں۔
برمنگھم ینگ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات بریڈلی اوونز کی 2013 میں شائع ہونے والی تحقیق میں مینیجمنٹ کورس کے 144 انڈر گریجوئیٹ طلبا کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
اس میں طلبا کو ایک دوسرے کے متعلق رائے دینے کا کہا گیا، سوالات کی نوعیت کچھ یوں تھی کہ یہ شخص کسی مخصوص کام میں اپنی لاعلمی کو تسلیم کر لیتا ہے یا یہ شخص پرجوش طریقے سے فیڈ بیک لیتا ہے چاہے اس میں تنقید بھی شامل کیوں نہ ہو۔
بریڈلی اوونز ایک برس تک ان تمام طلبا کی کارکردگی کو مختلف معیارات پر جانچتے رہے اور جب تحقیق کے نتائج سامنے آئے تو وہ حیران کن تھے۔
جن طلبہ کے عجز کے متعلق باقیوں نے مثبت رائے دی انہوں نے سب سے اچھے گریڈ حاصل کیے تھے جبکہ وہ طلبہ پیچھے رہ گئے جن کے متعلق دیگر طلبہ کی رائے تھی کہ وہ خود کو کوئی توپ چیز سمجھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عجز کی صلاحیت رکھنے والوں کے متعلق اچھے مستقبل کی پیش گوئی حقیقی ذہانت رکھنے والوں کی نسبت زیادہ درست ثابت ہوئی، کم صلاحیت رکھنے والے طلبہ کے لیے عاجزی خصوصاً زیادہ اہم ثابت ہوئی جس نے ان میں ذہانت کی کمی کی مکمل تلافی کر دی اور انہوں نے بہتر آئی کیو رکھنے والے طلبہ کے برابر کارکردگی دکھائی۔
اوونز اور ان کے ساتھیوں نے مزید گہرائی میں جا کر تجزیہ کیا تو انہوں نے دیکھا کہ زیادہ عجز کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کا آغاز زیادہ اچھا نہیں تھا لیکن عاجزی کے باعث وہ اپنے علم اور مہارت میں کمی کو تسلیم کرتے اور مسلسل اس کی اصلاح کرتے رہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی بہتر ہوتی گئی۔
اوونز کی اس تحقیق نے نفسیات دانوں کے سامنے سوچ کے نئے زاویے کھول دیے اور بعد میں ہونے والی ریسرچ میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ عقلی عجز سیکھنے کے عمل کو تیز کرتا ہے اور ساتھ ساتھ کامیاب سوچ کے دیگر ذرائع میں بھی بہتری لاتا ہے۔
کیلیفورنیا کی پیپرڈین یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ایلزبتھ منکوسو نے اپنی تحقیق کے نتیجے میں دریافت کیا ہے کہ عجز رکھنے والے شرکاء زیادہ تجسس ظاہر کرتے ہیں اور وہ سیکھنے کے عمل میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کے باعث ان کے لیے نئے علم کے رستے کھلتے رہتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ عجز رکھنے والے افراد فوری ردعمل دینے سے گریز کرتے ہیں اور اپنے خیالات و نظریات پر سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔ اس کے باعث لوگوں کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر مثبت اثرات ہوتے ہیں۔
عاجزی رکھنے والے رہنماء
مختلف ممالک کے رہنماؤں کو دیکھا جائے تو انجیلا مرکل اپنے سائنسی پس منظر کے باعث بہتر عقلی عجز کا مظاہرہ کرتی دکھائی دیتی ہیں، وہ اپنے خیالات اور مفروضات کو جانچتی رہتی ہیں اور اپنی رائے قائم کرنے سے پہلے دوسروں کی رائے معلوم کرتی ہیں۔

وہ 15 برس جرمنی کی چانسلر رہی ہیں اور اس دوران اسی صلاحیت کی بدولت انہوں نے کئی بڑے بحرانوں پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔
ماضی کے قائدین میں ابراہیم لنکن اپنے عاجزانہ رویے کے باعث جانے جاتے ہیں، وہ اپنی خامیوں اور غلطیوں کو تسلیم کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں نکھار آتا رہا۔

گروپ تھنک (گروہی سوچ) کیا ہے؟
بہت بار کسی ادارے میں لوگ اچھے ارادوں کے ساتھ اس لیے غلط فیصلے کرتے ہیں تاکہ گروہ میں ہم آہنگی قائم رہے جس کی وجہ سے اختلاف رائے کو دبا دیا جاتا ہے۔ اسے نفسیات کی زبان میں گروپ تھنک یا گروہی سوچ کہتے ہیں۔ ایسے بہت سی مثالیں اداروں یا حکومتوں کی سطح پر سامنے آتی رہتی ہیں۔
گروہی سوچ کی صورتحال میں متعلقہ لوگ اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے اپنے شبہات اور آرا کے اظہار سے گریز کرتے ہیں، عراق یا ویتنام میں امریکی حملے جیسی ناکام یا تباہ کن فوجی مہمات اسی گروہی سوچ کا نتیجہ تھیں۔
جیو پالٹکس کی سطح پر دیکھا جائے تو سماجی یا نظریاتی ہم آہنگی قائم رکھنے کے پیچھے گروہی سوچ کا مظہر کارفرما ہوتا ہے جس کے نتائج عموماً خراب نکلتے ہیں۔
عجز اور گروہی سوچ سے تحفظ
گروہی سوچ سے بچنے کے لیے عجز کی صلاحیت بہت کارآمد ہوتی ہے کیونکہ ایسے افراد اختلاف رائے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہتر فیصلے ممکن ہوتے ہیں۔
اوون جونز نے امریکہ میں صحت کے شعبے سے متعلقہ 700 ملازمین کا سروے کیا جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ عجز کے حامل قائدین کی وجہ سے ملازمین دلجمعی سے کام کرتے ہیں اور وہ اپنی ملازمت سے مطمئن رہتے ہیں۔
مزید تحقیق کے بعد انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رہنما کا عجز ٹیم کے اراکین میں ابلاغ مضبوط کرتا ہے، اس سے نہ صرف دیگر افراد فیصلوں سے اختلاف کرنے کی جرات پیدا ہوتی ہے بلکہ لیڈر کا اپنی حدود کا اعتراف باقی لوگوں میں بھی اپنی خامیاں تسلیم کرنے کی صلاحیت پیدا کر دیتا ہے۔
ہانگ کانگ کی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کی پروفیسر ایمی نے بھی ٹیکنالوجی کی 105 کمپنیوں کے تجزے کے بعد یہی نتیجہ نکالا کہ عجز رکھنے والے سی ای او فرم کی ٹاپ مینیجمنٹ میں معلومات کا تبادلہ اور عمدہ اشتراک پیدا کرتے ہیں جس کے باعث بہتر فیصلے ممکن ہوتے ہیں۔
کیا عجز اختیار کو کم کرتا ہے؟
کچھ لیڈرز کو خدشہ ہوتا ہے کہ اگر وہ عجز کا مظاہرہ کریں گے تو ان کا اختیار کم ہو جائے گا لیکن جدید تحقیق اس حوالے سے نئی زاویے سامنے لاتی ہے۔
یونیورسٹی آف سرے سے تعلق رکھنے والی ماہر نفسیات ایرینا نے ایک سروے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ اگر لیڈر کسی معاملے پر مطلوبہ علم یا مہارت نہ رکھتا ہو تو علم رکھنے کا تاثر دینے کے بجائے اسے تسلیم کرنا چاہیئے اور ایسے سوال پوچھنے میں کوئی حرج نہیں جو اس کی لاعلمی کو آشکار کرتے ہوں، اس سے اس کی قائدانہ صلاحیتوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔