وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ابھی تک اپنے اہلخانہ کے اثاثہ جات کی منی ٹریل نہیں دی جس کی وجہ سے وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوتے ہیں، کیس میں بارِ ثبوت جج پر ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے انہیں جاری کیے گئے شوکاز نوٹس سے صدارتی ریفرنس پختہ ہو گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے 9 ماہ بعد لندن رجسٹری کی نئی دستاویز بھی پیش کر دی تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے انتہائی اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کو ججوں کی جائیدادوں سے مسئلہ کیا ہے۔
مزید براں سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے کیس میں وفاقی حکومت سے ایسیٹ ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت، کردار اور دائرہ کار کے حوالے سے جواب طلب کرتے ہوئے اظہار کیا ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات سے قبل مقدمے کی سماعت مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم سے جواب طلب کیا ہے کہ آیا جج کے خلاف مواد غیرقانونی طریقے سے اکٹھا کیا گیا، ایسیٹ ریکوری یونٹ نے کس حیثیت سے معلومات اکٹھی کی، شکایت صدر مملکت یا جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں بھیجی گئی؟
سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے سوالات کے جوابات طلب کرتے ہوئے تاریخی کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ دوران سماعت وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کو اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دینے میں مشکلات کا سامنا رہا۔
صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کمرہ عدالت میں سماجی فاصلہ رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کے بیٹھا جائے۔
سماعت کے موقع پر ایک روز قبل بطور وزیر قانون استعفیٰ دینے والے بیرسٹر فروغ نسیم پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ وہ وفاق اور وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کی نمائندگی کریں گے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے فروغ نسیم کے وفاق کی نمائندگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ قواعد وفاقی حکومت کو نجی وکیل کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور فروغ نسیم کو پیش ہونے کے لیے اٹارنی جنرل کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا کیونکہ اٹارنی جنرل آفس سے کوئی سرکاری وکیل پیش ہونے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اٹارنی جنرل کا سرٹیفکیٹ دینا پڑتا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ موسم گرما کی تعطیلات شروع ہونے والی ہیں اور عدالت کیس کو آگے بڑھانا چاہتی ہے لہذا ایسا اعتراض نہ اٹھائیں اور کیس کو آگے بڑھنے دیں۔ وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ تمام اعتراضات آئین و قانون اور سپریم کورٹ کے قواعد کے مطابق ہیں اورجو تحریری طور پر اٹھائے گئے ہیں۔
فروغ نسیم نے دلیل دی کہ ان پر جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں کیونکہ رشید احمد کیس میں اس سے متعلق وضاحت ہوچکی ہے۔
واضح رہے رشید احمد کا فیصلہ بھی 2017 میں جسٹس قاضی فائز عیسی ہی نے تحریر کر رکھا ہے۔
منیر اے ملک نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنی نمائندگی اور دفاع کا حق حاصل ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سابق اٹارنی جنرل وفاقی حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے تاہم ان کے استعفیٰ کے بعد فروغ نسیم پیش ہو رہے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہ پڑیں، مناسب فیصلے تک پہنچنے کے لیے ہمیں معاونت درکار ہے، گرمیوں کی تعطیلات سے قبل اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
فروغ نسیم نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے مطلوبہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا سرٹیفکیٹ ریکارڈ پر لے کر آئیں، ریکارڈ پر آنے کے بعد فیصلہ کریں گے۔
سماعت کے دوران فروغ نسیم نے کہا کہ لندن کی تین جائیدادیں جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہلخانہ کے نام پر ہیں جسے وہ تسلیم کر چکے ہیں لہٰذا عدالت کے سامنے آرٹیکل 209 کے تحت یہ جج کے مس کنڈکٹ کا معاملہ ہے۔ اپنے دلائل میں انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ ہے کہ جائیدادیں کن ذرائع سے خریدی گئیں اور ان اثاثوں کو خریدنے کے لیے پاکستان سے پیسہ باہر کیسے گیا، اگر منی ٹریل نہیں دیتے تو یہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مس کنڈکٹ ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ جو جائیدادیں اہلیہ اور بچوں کے نام ہیں کیا وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ہیں؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بچے اور اہلیہ ان کے زیر کفالت ہیں تو ثابت کریں، اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ یہ ثابت کرنا درخواست گزار کا کام ہے کہ جائیدادیں ان کی نہیں ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میرا بیٹا اگر کوئی جائیداد خرید لیتا ہے تو کیا اس کا جواب دہ میں ہوں گا؟
فروغ نسیم نے کہا کہ بچے اور اہلیہ زیر کفالت نہیں تو درخواست گزار پر ذمہ داری ہے کہ وہ بتائے کہ کن وسائل سے جائیدادیں خریدیں۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس کا جائزہ لے کر مسترد کرسکتی ہے، تاہم جوڈیشل کونسل نے اٹارنی جنرل اور معزز جج کو سننے کے بعد شو کاز نوٹس جاری کیا۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ درخواست میں بدنیتی کا الزام بھی ہے، معزز جج کے وکیل نے شوکاز نوٹس پر دلائل دینے میں ہچکچکاہٹ دکھائی اور درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیے۔
سماعت کے دوران جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ ریفرنس کس طرح سے تیار ہوا، مواد کیسے اکٹھا ہوا؟ غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے دستاویزات کا مقدمہ پر کیا اثر پڑے گا؟
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جس کے نام جائیدادیں ہیں ان کو نظر انداز کرکے دوسرے سے سوال کیسے پوچھا جا سکتا ہے جبکہ جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ وفاق کو ججز کی جائیدادوں سے کیا مسئلہ ہے؟ کیا ججز پر بغیر شواہد اور شکایت کے سوال اٹھایا جا سکتا ہے، ٹھوس شواہد نہیں ہیں تو ججز کی ساکھ پر سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے، کیا حکومتی اقدام ججز اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں؟
جسٹس منیب اختر نے نشاندہی کرتے ہوئے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ آپ دلائل سے جو کیس بتا رہے ہیں وہ ریفرنس سے مختلف ہے، آج آپ انکم ٹیکس قانون کی بنیاد پر کیس بتا رہے ہیں جبکہ ریفرنس میں انکم ٹیکس قانون کو بنیاد نہیں بنایا گیا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کا کام ہے کہ ریفرنس خارج کرے یا منظور کرے جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کی اس دلیل سے میں اتفاق نہیں کرتا، بظاہر لگتا ہے کہ آپ شوکاز نوٹس پر کیس کرنا چاہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ شوکاز نوٹس سے قبل ریفرنس محض کاغذ کا ٹکڑا تھا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ شوکاز نوٹس سے قبل ریفرنس کی تیاری کا عدالتی جائزہ ہوسکتا ہے، اس پر عدالتی بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ درخواست گزار کا الزام ہے کہ ریفرنس کی پوری کارروائی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے، پہلے مرحلے پر اس معاملے کے متعلق دلائل دینا مناسب ہو گا۔
عدالت نے کہا کہ ہراقدام یا حکم قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ فروغ نسیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد آرٹیکل 211 کا اطلاق ہو جاتا ہے جسکے بعد جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج نہیں ہوسکتی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسیٹ ریکوری یونٹ کیا ہے، شکایت یونٹ تک کیسے پہنچی، یونٹ کا آرٹیکل 209 کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ فروغ نسیم نے کہا کہ وحید ڈوگر نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایسیٹ ریکوری یونٹ کو درخواست دی۔
منیر اے ملک نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وحید ڈوگر کی شکایت کی نقل فراہم نہیں کی گئی۔ اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ منیر اے ملک نے دو دن اسی نکتے پر دلائل دیے، حکومتی ٹیم دلائل کے دوران یہاں موجود تھی لیکن شکایت کے باوجود دستاویزات جمع نہیں کرائی، وفاقی حکومت اس معاملے پر غلطی پر ہے، شکایت کو ریکارڈ پر لائے بغیر اس کا جائزہ کیسے لے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو وحید ڈوگر کی شکایت کی نقل درخواست گزار اور جج کو فراہم کرنی چاہیے تھی، ان کی شکایت کی بنیاد بننے والی دستاویزات کا عدالت نے کئی بار پوچھا لیکن عدالت کو نہیں دی گئیں۔