محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور اب تو کاروبار میں بھی ایسا ہی چل رہا ہے۔ تاجر صرف اپنا نفع نقصان دیکھتا ہے، سستی جذباتیت کو اپنے مفاد کے لیے استعمال ضرور کرتا ہے لیکن اس کا شکار نہیں بنتا۔ بھارت اور چین کی حالیہ چپقلش تو سب کے علم میں ہے۔ بھارت میں چین مخالف جذباتیت عروج پر ہے، وہ اپنا بلڈ پریشر بڑھا رہے ہیں ادھر چین ” بائکاٹ چائنا” کے لوگو والی ٹی شرٹس پرنٹ کر کے انڈیا کو دھڑا دھڑ بھیج رہا ہے، یعنی اس ملک نے اپنے مخالف جذبات کو مزید ہوا دے کر کاروبار چمکا لیا۔
امریکہ میں پھوٹنے والے حالیہ فسادات اور ان میں لوگوں کا وبا کے حفاظتی اقدامات نظر انداز کر کے سڑکوں پر بے دھڑک نکلنا تو سب نے دیکھ لیا ہو گا۔ ایسے میں ایک شخص کو جلاؤ گھیراؤ چیختے چلاتے مجمعے سے ذرا ہٹ کر ماسک اور دستانے فروخت کرتے بھی دیکھا کہ نہیں۔ جہاں اکثریت اپنے بے قابو جذبات کے ہاتھوں مشتعل ہو کر خود کو اور دوسروں کو مزید پریشانی میں مبتلا کرنے کا باعث بن رہی تھی وہیں ایک ٹھنڈے دماغ کا انسان اس نادر موقعے کو اپنے بزنس کو بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام مالز بند ہیں۔ آن لائن شاپنگ میں شپنگ کا خرچہ شامل کر لیں تو قیمت فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لوگ بغیر انتہائی ضرورت کے گھروں سے باہر نہیں نکل رہے، ایسی صورتحال کو کاروبار کرنے کا نادر موقعہ ہی کہا جا سکتا ہے۔
جیسے ہی کاروباری مراکز اور بینکوں میں ماسک پہن کر آنا لازمی قرار دیا گیا، ان مراکز کے باہر کوئی نہ کوئی ماسک فروخت کرتا نظر آ ہی جاتا ہے۔ مارکیٹ کی طلب دیکھتے ہوئے بروقت اور سب سے پہلے سپلائی بحال رکھنا ہی کامیاب بزنس کا گر یے۔
ایک ایسے وقت میں جب ہم میں سے اکثر شو بز کی شخصیات کی شادیوں اور شادیوں کے بغیر تعلقات کے مسائل پر خوش گپیوں میں مصروف تھے، ایک ملک اپنی خلائی شٹل لانچ کرنے اور اس کے عوام یہ تاریخی واقعہ دیکھنے میں مصروف تھے۔ وہ خلا کو تسخیر کر رہے تھے اور ہم دوسروں کے گھروں میں جھانکنے میں اپنا وقت صرف کر رہے تھے۔
کامیابی کی سڑک ہمیشہ زیر تعمیر رہتی ہے۔ اگر سڑک پر ہجوم کی وجہ سے تیزرفتاری میں خلل آنے لگے یا ٹریفک بلاک ہو جائٔے تو اپنے لیے نئی سڑک تعمیر کر لینی چاہیے۔ اس سڑک پر آپ کے ٹائروں کے نشانات کا تعاقب کرتے تو بہت لوگ آئیں گے لیکن سب سے آگے آپ ہی ہوں گے۔