• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

بی آرٹی منصوبے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا کا سپریم کورٹ میں جواب جمع

by sohail
جون 3, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

خیبر پختونخوا کے محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ نے کہا کہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے میں ڈیزائن کی تبدیلیوں اور اضافی لاگت پر تنقید کی گئی جو کہ بڑے پیمانے پر بنائے جانے والے منصوبوں میں معمول کی بات ہے۔ تحریری جواب ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل احمد بٹ نے جمع کرایا.

بی آر ٹی منصوبے میں تبدیلیاں کیوں کی گئیں؟

محکمہ نے بی آر ٹی پشاور منصوبہ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت اپیل پر جواب جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی) منصوبے میں تبدیلیاں کنسلٹنٹ کی غلطی، روٹ پر بسنے والی آبادی اور کنٹونمنٹ کے مسائل کی وجہ سے کیا گیا، تاہم خیبر پختونخوا حکومت آپریشنز کا آغاز رواں ماہ کے آخر تک کر سکتی ہے۔ محکمہ کے مطابق پشاور شہر میں ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے سٹڈی کی گئی اور سات ممکنہ متبادل ماس ٹرانزٹ منصوبوں میں سے بی آر ٹی سب سے مناسب تھا۔

روٹس پر بسیں کب چلیں گی؟

محکمے نے منصوبہ کی تکمیل اور آغاز کے متعلق اپنے جواب میں بتایا ہے کہ 6 میں سے 3 پیکجز (روٹس) زیادہ تر مکمل ہو چکے ہیں، انجنیئرز کی جانب سے بی آر ٹی چلانے والی کمپنی دی ٹرانس پشاور کو سرٹیفیکیٹ دے دیا گیا ہے جبکہ منصوبہ میں سب سے بڑے کوریڈور پر 97 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، رواں ماہ کے آخر تک اس کوریڈور کو بھی مذکورہ کمپنی کے حوالے کرنا متوقع ہے جسکے بعد روٹس پر بسیں چلانے کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

اضافی لاگت کی وجوہات کیا ہیں؟

محکمہ نے 14 صفحوں پر مشتمل تحریری جواب میں ایک فہرست بھی پیش کی ہے جس میں منصوبے پر اضافی لاگت کی وجہ 12 تبدیلیاں اور ان کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ ضروریات پورا کرنے کے لیے چمکنی کے ڈپو میں تبدیلی کی گئی کیونکہ بسوں کو آپریٹ کرنے کے لیے پہلے والی مختص جگہ موزوں نہیں تھی جسے تبدیل کر کے بی آر ٹی کوریڈور کے قریب کر دیا گیا ہے مگر وہ ریلوے پھاٹک کے دوسری جانب ہے چنانچہ ڈیزائن میں تبدیلی کی گئی تاکہ ہائبرڈ بسوں کو چارج کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ اسٹیشن تک پہنچنے کے راستے کو پل کے ذریعے بلند رکھنے کے بجائے اسے تبدیل کر کے زیر زمین لایا گیا کیونکہ بجلی کی ہائی ٹینشن تاروں کو ہٹانا ممکن نہیں تھا۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ گلبہار والے علاقے میں اصل ڈیزائن میں تبدیلی کی وجہ روڈ کی کم چوڑائی تھی جہاں نالے، یوٹیلٹی سروسز اور سروس روڈ کی وجہ سے اور کوئی چارہ نہیں تھا، علاقے کے لوگوں کا اصرار تھا کہ تمام یو ٹرن اپنی موجودہ جگہوں پر رہیں جس کے بعد او ڈی بی ایم نے متبادل ڈیزائن تیار کیا۔

بالاحصار کے مقام پر قدیم شاہی کٹھا نالے کی دریافت کی وجہ سے ہر طرح کی ٹریفک کے لیے انڈرپاس کا دوبارہ سے جائزہ لیا گیا۔ مذکورہ جگہ پر اسٹیشن نمبر 8 پر چلنے والے روٹ پر ہر طرح کے ٹریفک کے لیے ڈیزائن تبدیل کیا گیا۔

ٹی جنکشن ایئرپورٹ روڈ اور سر سید روڈ کے حوالے سے جواب میں کہا گیا ہے کہ یہاں ٹریفک کی بدترین صورتحال کے باعث کنٹونمنٹ اور بریگیڈ 102 نے درخواست کی کہ بی آر ٹی روٹ کو زمین کی سطح سے بلند کیا جائے تاکہ ٹریفک میں روانی رہے اور ایئرپورٹ تک باآسانی پہنچا جا سکے۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ روڈ کی چوڑائی کم ہونے کی وجہ سے بریگیڈ 102 اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی درخواست پر بی آر ٹی سٹیشن 17 کو ایئرپورٹ روڈ سے ہٹا کر امن چوک میں انڈر گراؤنڈ کیا گیا تاہم اس کا استعمال اس وقت کیا جائے گا جب منصوبہ کی توسیع جی ٹی روڈ تک کی جائے گی۔

تہکال میں سٹیشن 19 کے ڈیزائن میں تبدیلی وہاں کے رہائشیوں کے تحفظات پر کی گئی جنہیں یوٹرن تبدیل نہ کرنے اور پارکنگ کی جگہ نہ ہونے کی شکایت تھی جس کے بعد کنسلٹنٹس نے اسٹیشن کا ڈیزائن تبدیل کر کے زمین کی سطح سے بلند کیا جبکہ پیدل چلنے والے افراد کے لیے گنجائش نہ ہونے کیوجہ سے سٹیشن 18 کو منصوبہ سے نکال دیا گیا۔

تاتارا پارک حیات آباد کے علاقے میں اسٹیشن 28 اور 29 کے درمیان سیکشن کا منصوبہ ایٹ گریڈ بس وے اور انڈرپاس کا تھا تاہم کنسلٹنٹس کی غلطی کی وجہ سے اس جگہ پر بلند ڈیزائن کے بجائے کافی تعمیراتی کام کر دیا گیا۔  سیکیورٹی حکام کے کہنے پر اسٹیشن کے علاوہ تمام روٹس پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کوریج، باڑ اور انٹری گیٹ بھی لگائے گئے۔

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ ان تمام تبدیلیوں کی منظوری ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے لی گئی۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے وعدہ پورا نہ کیا

محکمہ نے اپنے جواب میں مزید بتایا کہ منصوبہ کے پی سی ون میں مختلف وجوہات کی وجہ سے نظرثانی کی گئی جس میں ایک وجہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا قرض کی رقم کم کر دینا تھا، منظور شدہ پی سی ون کے تحت منصوبہ خیبر پختونخوا حکومت اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے اشتراک سے مکمل ہونا تھا۔

بینک نے 400 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا جو لاگت کا 85 فیصد بنتا ہے جبکہ حکومت نے باقی 15 فیصد لاگت کا بوجھ اٹھانا تھا تاہم اے ڈی بی نے مختلف وجوہات کے باعث رقم دینے سے معذرت کی اور 335 ملین ڈالر فنڈ دینے پر اتفاق کیا، رقم کا خلاء پر کرنے کے لیے اے ایف ڈی سے 130 ملین یورو قرضہ لیا۔

بی آر ٹی اور میٹرو منصوبوں میں کیا فرق ہے؟

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ پشاور بی آر ٹی کا موازنہ ملک میں دیگر ٹرانسپورٹ منصوبوں سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پشاور بی آر ٹی تھرڈ جنریشن منصوبہ ہے جس میں سات فیڈرز روٹس 154 بس اسٹاپس کے ساتھ ہیں جبکہ منصوبہ میں سائیکل ٹریک اور پیدل چلنے والوں کے لیے راستے بنائے گئے ہیں اور یہ واحد منصوبہ ہے جسکے سٹیٹ آف دی آرٹ تین ڈپو ہیں۔ اس کے علاوہ منصوبہ میں انڈر گراؤنڈ مارکیٹیں اور کمرشل پلازے بھی ہیں۔

تحریری جواب میں پشاور بی آر ٹی اور لاہور میٹرو کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ محکمہ نے کہا ہے منصوبہ سے قبل شہر میں ٹریفک مسائل دور کرنے کے لیے سٹڈی کی گئی اور سات ممکنہ متبادل ماس ٹرانزٹ منصوبوں میں سے بی آر ٹی سب سے مناسب تھا۔

محکمہ نے واضح کیا کہ موٹ میکڈونلڈ نامی کمپنی منصوبے کی نگرانی اور معیار دیکھنے کے لیے نگران کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہی ہے جو کہ اے ڈی بی سے ادائیگیوں کی کلیئرنس کراتی ہے جبکہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ٹھیکوں کی رقوم دینے سے براہ راست تعلق نہیں۔

Tags: BRT projectSupreme Court of Pakistanبی آر ٹی منصوبہپشاور بس ریپڈ ٹرانزٹسپریم کورٹ آف پاکستان
sohail

sohail

Next Post

روبینہ اشرف اور سکینہ سموں کورونا وائرس کا شکار

کورونا وائرس کے باعث ایک ہی دن میں 2 ارکان اسمبلی انتقال کر گئے

عظمیٰ خان تشدد کیس میں نیا موڑ، ہما خان نے ملزمان کے حق میں بیان دے دیا

حکومت کا بجلی کے شعبہ سے متعلقہ اداروں کو 47.7 ارب روپے جاری کرنے کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو شہباز شریف کی گرفتاری سے روک دیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In