وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی سست روی کے باعث بجلی کی طلب میں کمی کے اثرات کو کم کرنے اور اس سے نمٹنے کیلئے بجلی کے شعبہ کے متعلقہ اداروں کو 47.7 ارب روپے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ای سی سی نے 9 اپریل 2020 کو ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کی سربراہی میں سیکرٹری پاور ڈویژن اور سیکرٹری فنانس پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا مقصد جنریشن اور ٹرانسمیشن کی مقررہ لاگت کے حساب سے 47.7 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز کا جائزہ لینا اور پبلک سیکٹر جنریٹرز اور آئی پی پیز کو ضرورت کے مطابق ادائیگی کا تعین کرنا ہے۔ کمیٹی اپنی رپورٹ غور کے لیے ای سی سی کو پیش کرے گی۔
اسی سلسلے میں 28 اپریل 2020 کو ڈپٹی چیئرمین پلانگ کمیشن کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا جس میں اس مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور ماہانہ بنیادوں پر مقررہ لاگت کا جائزہ لیا گیا۔
اس میں سرکاری شعبے اور پرائیویٹ آئی پی پیز کے کپیسٹی چارجز اور ٹرانسمیشن کی مقررہ لاگت کا ماہانہ وار جائزہ لیا گیا۔ اس دوران مشاہدہ کیا گیا کہ کپیسٹی چارجز میں مقامی اور غیر ملکی بینکوں کو قرض کی ادائیگی بھی شامل ہیں۔
سی پی پی اے- جی کی جانب سے بتایا گیا کہ 23 اپریل 2020 تک ڈسکوز مجموعی طور پر صرف 15 ارب روپے اکٹھے کر سکے ہیں جبکہ گزشتہ برس اسی مہینے میں یہ مجموعہ 61.1 ارب روپے تھا۔
کمیٹی نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو 47.7 ارب روپے کے پیکج کی منظوری کی سفارشات پیش کر دی ہیں۔
بزنس ریکارڈر میں شائع مشتاق گھمن کی خبر کے مطابق کمیٹی کا موقف تھا کہ اس سے پاور سیکٹر کو 2020 کی سہ ماہی کے اختتام پر بین الاقوامی اور قومی قرض دہندگان کے قرضوں کی ادائیگی کی ضرورت کو پورا کرنے اور آئی پی پیز کو تاخیر سے ادائیگی پر شرحِ سود سے بچنے میں مدد ملے گی۔