جنس سے متعلقہ نظریات میں تبدیلی کا آغاز 1970ء کی دہائی سے شروع ہوا۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں جنسی نظریات کی تعریف کیا ہے، اسے کیسے سمجھا اور نبھایا جاتا ہے۔
جنسی نظریات وہ نظریات ہیں جو معاشرے کی جانب سے مرد و عورت کے لیے مخصوص کر دیئے جاتے ہیں، کردار، حقوق و فرائض ان نظریات میں شمار ہوتے ہیں اور اسے روایتی جنسی نظریات بھی کہا جاتا ہے۔ روایتی معاشرہ میں عورت کا ادا کیا جانے والا کردار رسم و رواج، روایات اور اقدار سے متاثر ہوا ہے۔
یہ سمجھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ عورت کا کام گھر کو بخوبی سنبھالنا اور بچوں و شوہر کی خدمت کرنا ہے۔ اگر وہ بیمار بھی ہے تو اس پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنا آرام و خیال بھول کر فرائض کی ادائیگی کرے۔ پاکستانی معاشرہ پدرانہ نظام پر مشتمل ہے لیکن عورت کا کام اس وقت حقیر سمجھا جاتا ہے جب اس کا موازنہ مرد کے کام سے کیا جاتا ہے، حقیقتاً یہ موازنہ فطرتاً ہی غلط ہے کیونکہ دو مختلف جنس سے تعلق رکھنے والے مختلف کام سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس جدید جنسی نظریات میں عورتوں کو برابر و خودمختار سمجھا جاتا ہے، عورت گھر میں کام کرنے والی ہو یا باہر اس کے ہر کام کو سراہا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سماجی تغیر کے ایسے کون سے عناصر ہیں جنکی وجہ سے جنسی نظریات میں تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، کیا ان تبدیلیوں کی وجہ میڈیا میں ہونے والی جدیدیت ہے؟
پاکستان سمیت دنیا بھر 1970ء میں عورتوں نے ملازمت، گھر میں نبھائے جانے والے کردار کے تعین کے علاوہ سیاسی، نظریات اور سماجی حقوق حاصل کرنے کی تحاریک کا آغاز کیا۔ عورتوں کی تحریک کا یہ دور فیمنزم کے دور کا دوسرا حصہ تھا جس میں انکے مطالبات پہلے دور سے یکساں مختلف تھے۔ پاکستان میں جب عورت کے حقوق کی تحریک کا آغاز ہوا اس وقت ضیاء الحق کا دور حکومت تھا چونکہ ضیاء الحق کا منشور، ایجنڈا اور نقطہ نظر اسلامی تعلیمات کے بے حد قریب تھا جس کی وجہ سے عورتوں کی آزادی پر سخت پابندیاں لگا دی گئی اور اس پابندی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورتوں نے ان کے خلاف تحریک شروع کی۔
ضیاء الحق کے دورِ حکومت کے بعد بے نظیر بھٹو پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں جو خواتین کے لیے خوش آئند بات تھی، عورتوں میں امید کی کرن پیدا ہوئی کہ انہیں ترقی کے نئے مواقع میسر ہوں گے۔ 2000ء سے جنرل پرویز مشرف کی حکومت آئی جس سے میڈیا آزاد و خود مختار ہوتا چلا گیا اور ایک دور آیا جب پاکستانی میڈیا نے مغربی اقدار و روایات کو اپنا لیا اور انکے رنگ میں رنگ گیا، یہاں سے معاشرے میں سماجی تغیر کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔
قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ عمرانیات کے پروفیسر ڈاکٹر عمران صابر کی تحقیق سے ماخوذ ہے کہ جدیدیت معاشرہ میں ہونے والی تبدیلیوں کا نام ہے جس میں تکنیکی ترقی کو قبول کرنا، دیہاتوں سے شہروں کی جانب رخ کرنا، روایتی آمدنی کے ذرائع کو چھوڑ کر جدید راستے تلاش کرنا، تعلیم کے بہترین مواقع، سیکولر جمہوریت کا انتخاب اور الیکٹرانک میڈیا کے اثرات شامل ہیں۔ امریکہ نے پاکستانی ماہرین سماجیات کی تربیت کی اور جدیدیت کو سامنے رکھتے ہوئے ‘نئی عورت کی تخلیق’ کا فلسفہ پیش کیا اور یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ ایسے کونسے عوامل ہیں جنکی وجہ سے پاکستانی خواتین مغربی ممالک کی خواتین سے بہت پیچھے ہیں۔
پاکستانی ماہر سماجیات کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں عورتوں کو مرد کے مقابلے میں کم درجہ اور انہیں گھر تک مقید رکھنے کو بہتر سمجھا جاتا ہے اس لیے انہیں ترقی کے مواقع کم ملتے ہیں۔ خواتین کی معاشرے میں حیثیت، حقوق اور پہچان بہتر بنانے کے لیے انہیں معیشت سمیت سماجی و سیاسی جگہ دی گئی۔
آج جنسی نظریات میں تغیر کی وجہ سے باہر کام کرنے والی عورتوں کو گھر میں کام کرنے والی خواتین سے بہتر سمجھا جاتا ہے اور اس کی وجہ ملکی معیشت میں اضافہ کرنا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے ‘نئی عورت کی تخلیق’ کے فلسفے کو سمجھتے ہوئے اسے خود مختار بنایا اور مردوں کے شانہ بشانہ لا کھڑا کیا۔ آج میڈیا کی زیادہ توجہ کام کرنے والی عورتوں پر مرکوز ہے، اگر ایک عورت دیہات سے تعلق رکھتی ہے تو وہ لاچار، کمزور اور بے بس ہے، اسکے برعکس شہری اداکاروں کی ترجمانی و عکاسی اس سے مختلف طریقوں میں کی جاتی ہے۔
جنسی نظریات کو معاشرتی اقدار و روایات کی رُو سے دیکھا جائے تو پاکستانی معاشرہ چونکہ پدرانہ نظام پر مشتمل ہے اس لیے زندگی کے ہر میدان میں چاہے عورت گھر میں موجود ہو یا گھر سے باہر کام کر رہی ہو اسے بالواسطہ یا بلاواسطہ مرد کی طاقت و اقدار کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ مثال کے طور پر تفریحی پروگرام میں کام کرنے والی اداکاراؤں یا ماڈل کے اوپر زیادہ اختیار مرد کا ہوگا کیونکہ وہ انہیں اپنے کام اور ضرورت کے مطابق ڈھال دیتے ہیں جبکہ اسی میڈیا میں کام کرنے والی ایسی ہی خواتین کے کردار، شخصیت یا انتخابات پر لیبل لگایا جاتا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا میں کام کرنے والی خواتین پر اگر کوئی لیبل لگایا جاتا ہے تو دیکھنے والے بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں جو انہیں دکھایا جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر دیہاتی عورتیں پرسکون زندگی گزار رہی ہیں، سماجی و سیاسی سرگرمیوں میں اگر اسکی رسائی اور دلچسپی موجود نہیں تو یہی میڈیا اسے کمزور دکھاتا ہے جو خود گھر سے نکلنے کی قائل نہیں ہیں، اس کی وجہ روایتی معاشرہ کی اقدار و روایات قرار دی جاتی ہیں۔
میڈیا میں عورتوں کو نئے مواقع دئیے جا رہے ہیں، الیکٹرانک میڈیا میں عورتوں کو کسی ”چیز” کے طور پر پیش کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ تفریحی پروگرام میں وہ انکو اپنی مرضی سے دکھاتا اور کام کراتا ہے، اسکا اصل مقصد پروگرام کی ریٹنگ بڑھانا ہے۔ اس کی وجہ چینلز کا آپسی مقابلہ ہے، جتنی زیادہ ریٹنگ ہوگی ناظرین کی تعداد اتنی زیادہ بڑھے گے۔
دوسری جانب میڈیا کے تفریحی پروگراموں میں دیکھا گیا ہے کہ بظاہر تو یہ تفریح سے بھرپور ہوتا ہے لیکن اس میں اصل پیغام کچھ اور ہے۔ یہ تحقیق ‘دیسی کڑیاں سیزن 5’ پروگرام کے تجزیہ پر مبنی ہے جس میں مشہور اداکاروں اور ماڈلز کا موازنہ دیہاتی عورتوں سے کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ شہری عورتیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں اور یہ بھی دیہاتی کام سر انجام دے سکتی ہیں۔ یہ پروگرام جیت کے مقصد کے لیے کھیلا گیا جس میں یہ اداکارائیں اور ماڈلز عارضی طور پر شامل ہوتی ہیں، یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ اپنی اصل زندگی کو ترک نہیں کریں گی۔
میڈیا کی خواتین کے حوالے سے یہ عکاسی سراسر دقیانوسی ہے، دکھایا جا رہا ہے کہ میڈیا میں کام کرنے والی خواتین بہتر ہیں۔ میڈیا کو ان کام کرنے والی عورتوں کا موازنہ ایسی عورتوں سے کرنا چاہیے جو انکے برابر کی ہیں، نہ کہ موازنہ اُن عورتوں سے کیا جائے جنکی ترجیحات و معیار زندگی کام کرنے والی عورتوں سے یکسر مختلف ہے کیونکہ انکا نظام زندگی، کردار، روایات اور کپیٹل مختلف ہوتا ہے وہ اسکا انتخاب اپنے ماحول رسم و رواج، اقدار اور ترجیحات کے عین مطابق کرتی ہیں۔
فرانسیسی ماہر عمرانیات جاں پی ایغ بوغریو (1986) نے مختلف قسم کے کپیٹلز متعارف کرائے تھے، اس کے مطابق کپیٹلز معاشرے میں ان چیزوں کا نام ہے جو کسی شخص کو کچھ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ دوسروں کی نسبتاً زیادہ سرمایہ جمع کر لیتے ہیں، معاشرے میں ہر کسی کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ دوسروں جتنا کپیٹل جمع کرے۔ ہر فرد اپنے مخصوص کپیٹل کو پانے کے لیے دوسروں سے مقابلہ کرتا ہے جس سے معیار زندگی بہتر ہو سکے۔ ان مخصوص معاشی یا سماجی کیپٹل کا انتخاب کر کے مختلف منصوبے بناتا ہے جن سے سرمایہ حاصل ہو سکے۔
کپیٹل ایک طاقت کا نام ہے جو دوسروں پر باآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح دیہات و شہر کی خواتین کا کیپیٹل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے، شہر کی عورتوں کا کیپیٹل ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے اور سماجی و اقتصادی ترقی حاصل کرنا انکی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔ انکی انفرادی ترجیحات میں اپنے ہمسفر میں پیسہ، خوبصورتی اور تعلیم شامل ہیں، ہہ جدید نظریہ کے عین مطابق ہے۔
اس کے برعکس دیہاتی عورتوں کا کیپیٹل اپنے مخصوص روایتی اقدار کے مطابق ہے جس میں گھر میں رہنے کو زیادہ ترجیح دینا، گھر کے کام یا باہر اپنے مردوں کے ساتھ کھیتوں میں مدد کرنا شامل ہے۔ دیہی اور شہری اداکاروں کی صلاحیتیں اور کردار ایک دوسرے سے یکساں مختلف ہیں۔ دیہی عورتوں کا سماجی و اقتصادی کیپیٹل اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا ان اداکاروں کا ہوتا ہے کیونکہ ان سب کا انحصار اپنے اپنے ماحول پر منحصر ہے۔
دراصل میڈیا یہ تصویر کشی کرنا چاہتا ہے کے دیہی خواتین اپنے کام اور زندگی میں غیر مستحکم ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ عورتیں چاہے دیہات سے وابستہ ہوں یا شہر سے، وہ انکی منفی تصویر کشی نہ کرے اور انہیں ضرورت کی ایک چیز سمجھنا بند کیا جائے۔
(مندرجہ بالا کالم سعدیہ اسلم کے ایم-اے تھیسز ”میڈیا میں جنسی نظریات کی عکاسی” سے ماخوذ ہے جو کہ انہوں نے ڈاکٹر عابدہ شریف کی زیر نگرانی 2018 قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں کیا)