عدالت عظمی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کے پشاور میں واحد بڑے منصوبے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کی شفافیت کا جائزہ لیا جائیگا اور منصوبہ میں ٹھیکے دینے کے پہلوؤں کو بھی دیکھا جائیگا کہ کہیں مفادات کا ٹکراؤ تو نہیں۔
تاہم عدالت عظمیٰ نے ایف آئی اے کو منصوبہ کی تحقیقات سے روکنے کے حکم امتناع میں بھی توسیع کردی ہے۔ اس کے ساتھ جسٹس عمر عطا بندیال نے تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت خیبر پختونخوا حکومت کی اپیل کو زیادہ عرصہ حکم امتناع میں نہیں رکھنا چاہتی۔
بی آرٹی منصوبے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا کا سپریم کورٹ میں جواب جمع
بدھ کے روز عدالت عظمی میں تین رکنی بینچ کے روبرو پشاور بی آر ٹی منصوبہ کیس کی سماعت ہوئی۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت سمیت متعلقہ سرکاری اداروں نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ایف آئی اے کو بی آر ٹی منصوبہ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
سماعت سے قبل کیس میں وکیل مخدوم علی خان نے التواء کی درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ 30 مئی کو کراچی سے اسلام آباد سماعت کے لیے پہنچے لیکن خاندان کے فرد کی طبیعت شدید ناساز ہونے پر اگلے ہی دن واپس کراچی جانا پڑا۔
سماعت میں بینچ نے بی آرٹی منصوبے کے حوالے سے سوالات اٹھائے اور جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بطور عدلیہ منصوبے کے حوالے سے مخصوص چیزوں کا جائزہ لینا ہے، بی آر ٹی منصوبہ کی شفافیت کو پرکھیں گے، منصوبہ کا تعمیراتی ٹھیکہ کیسے دیا گیا یہ بھی دیکھیں گے اور اس کا جائزہ بھی لیں گے کہ منصوبہ میں کہیں مفادات کا ٹکراؤ تو نہیں؟
انہوں نے ریمارکس میں مزید کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ منصوبے میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ کیسے کیا گیا؟ منصوبہ کہیں بغیر تیاری کے شروع تو نہیں کیا گیا؟ منصوبے کے ڈیزائن میں بار بار عوام کے پیسے سے تبدیلی گئی، منصوبہ کی تکمیل میں تاخیر کا جائزہ بھی لیں گے۔
التوا کی درخواست کی بابت عدالت نے مقدمہ کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔