• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

مغربی دنیا کو لاک ڈاؤن کا تصور دینے والے سائنسدان نے اسے بے فائدہ قرار دے دیا

by sohail
جون 4, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

دنیا کے سامنے لاک ڈاؤن کا تصور پیش کرنے والے برطانوی سائنسدان نیل فرگوسن نے اعتراف کیا ہے کہ برطانیہ میں لاک ڈاؤن سے سویڈن کے مقابلے میں بہتری نظر نہیں آئی۔

سویڈن کی حکومت نے ابھی تک لاک ڈاؤن نہیں کیا اور وہاں صرف سماجی فاصلے اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ ہرڈ ایمیونٹی بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سویڈن کا 20 فیصد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا دعویٰ

کورونا وباء کے حوالے سے سویڈن کی حکمت عملی نے دنیا کو حیران کردیا

‘پروفیسر لاک ڈاؤن’ کے نام سے معروف سائنسدان نے برطانوی ہاؤس آف لاڈرز کی سائنس و ٹیکنالوجی کی کمیٹی کے سامنے بیان دیا ہے کہ سویڈن کے سائنسدانوں نے پالیسی کی سطح پر مختلف فیصلے کیے جن سے مجھے اتفاق نہیں ہے لیکن سائنسی طور پر وہ دنیا کے دیگر حصوں کے سائنسدانوں سے دور نہیں ہیں۔

اسی نشست میں انہوں نے اعتراف کیا کہ سویڈن کے حکام نے لاک ڈاؤن کے بغیر بھی وہی نتائج حاصل کیے ہیں جن تک ہم پہنچے ہیں۔

نیل فرگوسن ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو لاک ڈاؤن پر قائل کیا تھا جس کے باعث برطانوی معیشت ٹھٹھر کر رہ گئی، وہی سائنسدان اب یہ کہہ رہے ہیں سویڈن لاک ڈاؤن کے بغیر اسی مقام پر کھڑا ہے جہاں برطانیہ موجود ہے۔

معروف کالم نگار جیسن او ٹول کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں سخت ترین لاک ڈاؤن کے دوران ہر 10 لاکھ برطانویوں میں سے 579 افراد کورونا سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سویڈن میں بغیر لاک ڈاؤن کے یہ شرح 10 لاکھ میں 442 اموات ہیں۔

سائنسی موضوعات پر لکھنے والے آئرش صحافی پیٹر اینڈریوز اس موضوع پر لکھتے ہیں کہ ہم سے توقع کی جاتی تھی کہ ہم سائنس کی پیروی کریں لیکن اب سائنسدان اچھل اچھل کر اعتراف کر رہے ہیں کہ ہم نے کورونا وبا کو درست انداز میں نہیں سمجھا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ نیل فرگوسن نے ہاؤس آف لارڈز کی کمیٹی کے سامنے جو کچھ کہا ہے اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ برطانوی لاک ڈاؤن بے معنی تھا اور سویڈن کا ماڈل زیادہ کامیاب ہے۔

یاد رہے کہ نیل فرگوسن برطانیہ کے مانے ہوئے ماہر برائے وبائی امراض ہیں اور سب سے پہلے انہوں نے کورونا کے کامیابی کے لیے لاک ڈاؤن کا تصور پیش کیا تھا۔

Tags: برطانیہ میں لاک ڈاؤنسویڈن میں کورونا وائرسلاک ڈاؤننیل فرگوسن
sohail

sohail

Next Post

تمباکو نوشی، صحت اور معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ

کس روشن دماغ شخصیت نے غلط قانونی رائے پر ریفرنس بنانے کا مشورہ دیا، سپریم کورٹ

لاک ڈاؤن کا خاتمہ، چین میں فضائی آلودگی کی دوبارہ واپسی

پاکستان اسٹیل ملز سے 7884 ملازمین کو فارغ کرنے کے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

سندھ میں چھٹی سے 12 ویں تک آن لائن کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In