صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت عظمی نے ریمارکس دیے ہیں کہ جب بیرون ملک جائیدادیں بنائی گئیں اس وقت منی لانڈرنگ کا مذکورہ قانون ہی نہیں تھا، کس نے یہ مشورہ دیا کہ یہ معاملہ ٹیکس کا نہیں بلکہ منی لانڈرنگ کا ہے، کس نے کہا کہ یہ معاملہ مس کنڈکٹ کا ہے، کونسی روشن دماغ شخصیت تھی جس نے غلط قانونی رائے پر اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف ریفرنس بنانے کا مشورہ دیا، یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں اس معاملے کے نتائج بھی ہونگے۔
سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ ایسیٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کو قانون کا تحفظ نہیں ہے، اس صورت میں اے آر یو کسی بندے کو چھیڑ نہیں سکتی۔
جسٹس عیسیٰ کیس: فروغ نسیم کو سپریم کورٹ میں جوابات دینے میں مشکلات کا سامنا
بی آرٹی منصوبے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا کا سپریم کورٹ میں جواب جمع
ججز کے تابڑ توڑ قانونی سوالات پر حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ ایک سوال ہو تو جواب دوں تاہم وہ عدالت کو مطمئن کرنے میں بظایر ایک بار پھر ناکام دکھائی دیے۔
جمعرات کے روز جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے درخواست پر سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو حکومتی وکیل فروغ نسیم نے عدالت سے گزارش کی کہ 27 ایسے قانونی نکات ہیں جن پر دلائل دینگے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سوال ریفرنس کی مبینہ بدنیتی پر ہیں، عدالت نے اے آر یو کے کردار اور قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں، شکایت صدر مملکت کو بھیجنے کی بجائے اے آر یو کو ترجیح کیوں دی۔ فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت کے سوالوں پر بھی آؤنگا پہلے حقائق بیان کرنے دیں اس سے مقدمے کو سمجھانے میں آسانی ہو گی۔
جسٹس منصور علی شاہ استفسار کیا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی وکالت کون کر رہے ہیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ صدر مملکت کی وکالٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود اور وزیراعظم کی ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کریں گے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ سوال کیا گیا کہ صدر اور وزیراعظم نے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کا تعین کیسے کیا، آئین کے مطابق ریاستی ادارے فیصلوں میں صدر اور وزیراعظم کی معاونت کرتے ہیں ، ادارے سمریز کے ذریعے اپنی آراء صدر اور وزیراعظم تک پہنچاتے ہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ صدر مملکت نے ریفرنس کے مواد پر اپنی رائے کیسے بنائی۔ فروغ نسیم نے بتایا کہ صدر مملکت پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ ہیں، وزیر اعظم کرکٹر رہے اور سیاست کی، صدر مملکت وزیر اعظم کے مشورے پر عمل کرتا ہے، اس قسم کی سمریوں پر تحقیقات اور رائے متعلقہ وزارتوں سے لی جاتی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 209 کے اختیارات بڑے منفرد ہیں، صدر مملکت کا کردار جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھجوانے پر بڑا اہم ہے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 209 محض ایک آرٹیکل نہیں ہے یہ عدلیہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہے، ریفرنس کے مواد پر صدر کو اپنی ذہانت سے فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ججز کیخلاف ریفرنس دائر کرنا کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے، صدر مملکت آرٹیکل 48 کے تحت ریفرنس نامکمل ہونے پر واپس بھیج سکتے ہیں، یہ غلط دلیل ہے کہ صدر مملکت ریفرنس بھجوانے کی ایڈوائس پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے حکومت کے وکیل سے کہا کہ اے آر یو کے بارے میں بتائیں، اے آر یو کی انکوائری پر مواد صدر مملکت کے سامنے رکھا گیا۔ جسٹس منیب اختر نے حکومتی وکیل کو کہا کہ آپ کے پاس سوالوں کی قطار ہے جنکے جوابات دینے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ صدر مملکت کی رائے آزاد ہوتی ہے یا کسی پر منحصر ہوتی ہے، یہ بڑا اہم سوال ہے، پہلے دیگر اہم چیزوں کو ایڈریس کریں۔
سماعت کے دوران اے آر یو کی تشکیل، اسکے سربراہ کی تعیناتی اور شہزاد اکبر کی سربراہی میں چلنے والے اے آر یو کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ یہ بتا دیں کہ عدالت عظمیٰ نے اے آر یو بنانے کا حکم کہاں دیا۔ فروغ نسیم نے کہا کہ اے آر یو رولز آف بزنس کے تحت بنایا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اے آر یو کا قانون کے تحت بنے اداروں پر تھرڈ پارٹی اطلاق کیسے ہو سکتا ہے تاہم فروغ نسیم نے کہا کہ میری یہ دلیل نہیں کہ عدالت کے حکم پر اے آر یو کو تشکیل دیا گیا، اثاثوں کو غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر لے جانا عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اس بات پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ بیرون ملک سے لوٹے گئے اثاثے واپس لانا اے آر یو کے قیام کی وجہ بنی، بیرون ممالک سے اثاثے لانے کا معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، شہزاد اکبر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب ہیں، وفاقی کابینہ نے غیر ملکی اثاثے واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس بنائی۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے اے آر یو کی اب تک کی کارکردگی کے بارے میں استفسار کیا۔ فروغ نسیم نے کہا کہ ٹاسک فورس بنانے کے فیصلے کے نتیجے میں اے آر یو کا قیام عمل میں آیا، کابینہ نے ہی ٹاسک فورس کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی۔
جسٹس مقبول باقر نے شہزاد اکبر کی اہلیت اور کار کردگی بارے ریمارکس دیے کہ ان کی اہلیت اور صلاحیت باقی جگہوں پر بھی نظر آنی چاہیے تھی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے حیرانی کا اظہار کیا کہ 28 اگست کو شہزاد اکبر معاون خصوصی بنے، 28 اگست کو ہی ٹاسک فورس کے قواعد و ضوابط بھی بن گئے، ایک ہی تاریخ میں سارا کام کیسے ہو گیا۔ فروغ نسیم نے دعویٰ کیا کہ شہزاد اکبر کو اثاثہ جات کے معاملے پر مکمل عبور ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے وزیر اعظم عمران خان کے اختیارات کے بارے میں استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم کو معاون خصوصی لگانے کا اختیار ہے، شہزاد اکبر کو اے آر یو کا سربراہ کیسے لگا دیا۔ فروغ نسیم نے جواب میں کہا کہ وزیراعظم رولز آف بزنس کے تحت اے آر یو جیسا ادارہ یا آفس بنا سکتے ہیں، اے آر یو کابینہ ڈویژن کے ماتحت ہے، اسکے قیام میں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا جبکہ اس کا کام مختلف ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اے آر یو کو قانونی تحفظ نہیں ہے، اس صورت میں اے آر یو کسی بندے کو چھیڑ نہیں سکتی۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اے آر یو انکوائری کے لیے نجی ایجنسی کی خدمات کیسے حاصل کر سکتا ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ ایف بی آر اور ایف آئی اے قانون کے تحت بنے ادارے ہیں، جب اے آر یو قانون کے تحت بنا ادارہ نہیں ہے تو پھر کسی معاملے کی انکوائری کیسے کر سکتا ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے آبزرویشن دی کہ اے آر یو کو وزارت داخلہ کے ماتحت ہونا چاہیے تھا ، ایف آئی اے کے پاس کرپشن تحقیقات کا اختیار ہے، وزیر اعظم ریاستی اداروں کو کرپشن کی تحقیقات کا کیوں نہیں کہہ سکتے، وزیر اعظم ایک نجی شخص کو بلا کر ذمہ داری دے دیتے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ یہ تاثر نہ دیا جائے کہ جج احتساب سے بالاتر ہے، ایف بی آر قانون کے تحت اپنی کارروائی کا مجاز تھا۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہا کہ اے آر یو نے وحید ڈوگر کی درخواست پر لندن سے معلومات لینا شروع کر دیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اے آر یو کے قوائد کے مطابق ٹیکس کے معاملات ایف بی آر کو جانے تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اے آر یو عام لوگوں کے بارے میں خفیہ معلومات کیسے اکٹھی کر سکتا ہے۔
سماعت کے میں جسٹس منیب اختر کی جانب سے انتہائی اہم نکات ریمارکس کی صورت میں سامنے آئے۔ انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے فروع نسیم سے کہا کہ آپ کا مقدمہ ٹیکس قانون، فارن ایکسچینج اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا ہے، اے آر یو نے معاملہ کی تحقیقات کی اور ایف بی آر اور ایف آئی اے سے مدد لی، اے آر یو اپنے قواعد کے مطابق یہ مقدمہ نیب یا ایف بی آر کو بھیجنے کا مجاز تھا، 2013 میں لندن فلیٹس کہ ٹرانزیکشن ہوئیں ، اس وقت کے قانون کے تحت یہ منی لانڈرنگ نہیں تھی، منی لانڈرنگ کو فارن ایکسچینج قانون کے شیڈول میں 2015 میں شامل کیا گیا، اِنکم ٹیکس قانون کے جس شیڈول کا حوالے دے رہے ہیں وہ 2016 میں حصہ بنا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ قانون بننے سے پہلے ہونے والے اقدام کو جرم یا غیرقانونی کیسے کہا جا سکتا ہے؟
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ اے آر یو نے نتیجہ کیسے اخذ کیا کہ منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ 10 ہزار ٹیکس عدم ادائیگی پر ریفرنس نہیں بن جاتا۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ لندن کی جائیداد پر متعلقہ حکام نے نوٹس لیکر کارروائی کیوں نہیں کی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے دوبارہ حکومتی وکیل سے دوبارہ استفسار کیا کہ ایسا جرم بتائیں جس سے جج پر اعتماد مجروح ہوا ہو، جو سوالات اٹھائے گئے انکے جوابات دیں۔ جسٹس منیب اختر نے ایک بار پھر استفسار کیا کہ اے آر یو نے جج کے مس کنڈکٹ کا تعین کیسے کر لیا؟
فروغ نسیم نے کہا کہ اے آر یو نے جج کے مس کنڈکٹ کی بات نہیں کی۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا پھر اُس حکومتی شخصیت کا نام بتائیں جس نے کہا کہ جسٹس فائز عیسی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے۔ ساتھ ہی جسٹس مقبول باقر نے متنبہ کیا کہ یہ ذہن میں رکھیں کہ اس اقدام کے نتائج بہت سنجیدہ ہونگے، روزہ نہ رکھنا بھی غلط کام ہے لیکن کیا اس پر بھی اے آر یو کارروائی کا کہہ سکتا ہے؟
جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ اس وقت کی وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں ریفرنس پر تبصرہ کیا تھا اور کہا تھا جج صاحب نے کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگائی تھی، لگتا ہے ریفرنس صرف کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگانے پر بنا۔
فروغ نسیم نے استدعا کی کہ وزیراطلاعات کی اس بات کو زیر بحث نہ لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کونسل نے پڑتال کرنے کے بعد شوکاز نوٹس جاری کیا، صدر مملکت کو جو معلومات ملیں انھوں نے جوڈیشل کونسل کو بھیج دیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے واضح کیا کہ ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ ریفرنس کی تیاری میں بدنیتی ہوئی یا نہیں، کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ ریفرنس کی تیاری میں نقائص ہیں۔ فروغ نسیم نے کہا کہ ریفرنس کی تیاری میں کوئی نقص نہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بتا دیں معاملہ ٹیکس اتھارٹی کو بھیجنے کے بجائے ریفرنس بنانے کی تجویز کس نے دی، ریفرنس میں کس جرم کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اگر ریفرنس میں منی لانڈرنگ نہیں تو یہ ٹیکس کا معاملہ بن جاتا ہے۔
جسٹس مقبول باقر نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ٹیکس کی بھی خلاف ورزی نہیں ہے، اگر ہے تو اس خلاف ورزی کو ثابت کیا جائے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت جو سوال پوچھ رہی ہے میں ابھی اس نکتے پر نہیں پہنچا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اے آر یو کا کام کہ بیرون ملک لوٹی گئی دولت واپس لانا تھا، جج صاحب نے کہا یہ جائیدادیں ان کی نہیں ہیں، اگر یہ پراپرٹی لوٹی گئی دولت سے بنائی گئی تو اے آر یو اس پراپرٹی کو بیچ کر پیسہ واپس کیوں نہیں لایا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے حکومتی وکیل کو کہا کہ آپ نے ایسیٹ ریکوری ریونٹ سے متعلق ہمارے سوال کا ابھی تک جواب نہیں دیا، اگر آج آپ میرے سوال کا جواب نہیں دے سکے تو کل دے دیں، آج کے سوالات اپنی جگہ کل کے ایک سوال کا بھی جواب ابھی تک آپ نے نہیں دیا، کل ہم نے آپ سے پوچھا تھا کہ ایسیٹ ریکوری یونٹ نے اب تک کتنے عوامی عہدہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی، کیا آپ عوامی عہدہ رکھنے والوں کے خلاف اے آر یو کی کاروائی کی فہرست لائے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ کے استفسار پر وکیل فروغ نسیم کوئی جواب نہ دے سکے۔
بعد ازاں کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔