وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا، جن ممالک میں غربت زیادہ تھی وہاں لاک ڈاؤن کے باعث زیادہ تباہی پھیلی۔
ٹائیگر فورس کے رضاکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے ہم نہیں روک سکتے، اگر لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا شروع کردیں تو مشکل وقت سے نہیں گزریں گے۔
پاکستان اگلے چند ہفتوں میں کورونا کی دوا ‘رمڈیسیویر’ کی پیداوار شروع کر دے گا
پاکستان کی کون سی اہم شخصیات کورونا وائرس کا نشانہ بن چکی ہیں؟
وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ میں روزانہ کی بنیاد پر 2 ہزار سے زائد لوگوں کی اموات ہوئی ہیں، بھارت میں لاک ڈاوَن کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا، انہیں کورونا کیسز میں اضافے کے باوجود لاک ڈاؤن ختم کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ٹائیگرفورس نے بے روزگار افراد کا ڈیٹا حکومت کو دینا ہے، انہوں نے جن بے روزگار افراد کی نشاندہی کی تھی انہیں اب پیسے دیے جائیں گے۔
عمران خان نے رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ لوگوں میں کورونا کے متعلق شعور پیدا کریں، اگر محدود لاک ڈاؤن کیا گیا تو انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ٹائیگر فورس کی بھی ضرورت پڑے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل کے باعث افریقہ میں قحط پڑ گیا ہے، پاکستان میں اس سے نمٹنے کے لیے بھی ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کی ضرورت ہو گی۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان میں 10 ارب درخت لگانے کے پروگرام میں ٹائیگرفورس کو شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹائیگر فورس میں 10 لاکھ رضا کار رجسٹرڈ ہوئے ہیں، ہمارے بعد دیگر ممالک نے بھی رضاکار فورس بنائی ہے، برطانیہ میں ڈھائی لاکھ افراد نے رجسٹریشن کرائی جس میں سے 35 ہزار نے کام کیا، اٹلی میں 60 ہزار افراد نے رضاکار فورس میں شرکت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے باعث پاکستان کے محصولات میں 8 سو ارب روپے کی کمی آئی ہے، پہلے سال جو ٹیکس اکٹھا ہوا اس کا آدھا حصہ سابقہ حکومتوں کے لیے گئے قرضوں کے سود پر خرچ ہو گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ حکومتوں کے قرضوں کے سود کی مد میں 5ہزار ارب روپے ادا کر چکے ہیں
وزیراعظم کے مطابق پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ملک تھا جس نے رمضان میں تراویح کیلئے مساجد کو کھلا رکھا۔