ناروے میں غیر معمولی لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم آٹھ گھر سمندر میں بہہ گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے فوری بعد تربیت یافتہ کتوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
یہ واقعہ ناروے کے شمالی علاقے آلٹا میں بدھ کے روز اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار مٹی کے تودے نے ساحل پر بنی کئی عمارتوں کو سمندر میں دھکیل دیا۔ یہ ہٹ نما گھر چھٹیاں گزارنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس انوکھے واقعات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔
یہ لینڈ سلائیڈنگ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ 2133 فٹ جبکہ تقریباً 500 فٹ سمندر کے اندر کی جانب گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس لینڈ سلائیڈنگ سے لوگ زخمی ہونے سے محفوظ رہے۔
نارویجن واٹر ریسورس اینڈ انرجی ڈائریکٹوریٹ کے سینئر انجینئر بیوردال جو کہ اس ریسکیو آپریشن میں شامل تھے، کے مطابق اس لینڈ سلائیڈنگ نے بہت زیادہ علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس میونسیپیلٹی میں گزشتہ 50 یا 60 سال سے لینڈ سلائیڈنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، خاص طور پر اتنے بڑے پیمانے پر تو کبھی بھی نہیں ہوا۔
سلائیڈنگ سے تباہ ہونے والے گھروں میں سے ایک گھر کے مالک جان ایگل لینڈ سلائیڈنگ کی آواز سنتے ہی تیزی سے اپنے گھر سے باہر نکل گئے۔ انہوں نے نارویجن اخبار آلٹا پوسٹن کو بتایا کہ میں نے صرف بریڈ کے دو سلائسز بنائے ہی تھے کہ اچانک مجھے کیبن میں دراڑ پڑنے کی آواز سنائی دی۔
پہلے میں نے سوچا کہ کوئی چھت پر ہے لیکن پھر میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا کہ ایک طاقتور ڈوری سب کچھ ملیا میٹ کر رہی تھی۔
لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے تاہم مسٹر بیوردال کا کہنا ہے کہ ماحول دشمن انسانی سرگرمیاں اس کا باعث ہو سکتی ہیں۔ علاقے کو عوام کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس علاقے کو عوام کے لیے محفوظ قرار دیئے جانے تک بند رکھا جائے گا۔