صدر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے چیلنج کیے گئے صدارتی ریفرنس کی درخواست میں اضافی دستاویزات جمع کرائی ہیں جس میں انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت کے وزیر قانون اور درخواست میں حکومتی وکیل فروغ نسیم نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مواد کی جانچ پڑتال کا مشورہ دیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق جمع کرائی گئی دستاویزات میں ایک ملاقات کا ریکارڈ بھی پیش کیا گیا۔ ملاقات ایسیٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر، سابق وزیر قانون فروغ نسیم، یونٹ کے ممبر محمد اشفاق احمد، ایف بی آر ممبر محمد رضوان اور انٹرنیشنل کریمنل قانون کے ماہر بیرسٹر ضیاء المصطفیٰ کے درمیان 16 اپریل 2019 کو ہوئی۔
ملاقات میں شہزاد اکبر نے وزیر قانون فروغ نسیم کو وحید ڈوگر نامی صحافی کی جانب سے بھیجی گئی شکایت کے بارے میں بتایا جس میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس (ر) فرخ عرفان کے بیرون ملک اثاثوں کا ذکر تھا۔
ملاقات میں فروغ نسیم نے رائے دی کہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے لہذا الزامات کی جانچ پڑتال کی جائے اور بغیر ٹھوس ثبوت کے کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔
دلچسپ طور پر اس وقت کے وزیر قانون اور اب درخواست میں حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے تجویز دی کہ جسٹس (ر) فرخ عرفان کا معاملہ چھوڑ دیا جانا چاہیے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مواد کی جانچ پڑتال کی جائے۔
جسٹس (ر) فرخ عرفان کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھانے کی تجویز کی وجہ فروغ نسیم نے یہ دی کہ انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے اور انکا معاملہ ٹیکس سے متعلق ہے اور اس ضمن میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ملاقات کے آخر میں طے ہوا کہ بیرسٹر ضیاء شکایات والی دستاویزات کے ساتھ منسلک جسٹس عیسیٰ اور انکے اہلخانہ کے نام اثاثوں کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کریں گے، ممبر اے آر یو محمد رضوان ایف آئی سے جسٹس عیسیٰ کے اہلخانہ کی شناخت کے لیے دستاویزات حاصل کریں گے جبکہ شہزاد اکبر چئیرمین ایف بی آر کو خط لکھ کر ڈیکلئیر کیے گئے اثاثوں کی معلومات لیں گے۔
صدر عارف علوی کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات میں اے آر یو کی جانب سے خط و کتابت اور دیگر دستاویزات شامل ہیں۔