کورونا وبا کو دنیا میں پھیلے ہوئے اب 6 ماہ سے زائد ہو گئے ہیں، اب تک 60 لاکھ سے زائد افراد اس میں مبتلا ہیں جبکہ 4 لاکھ اموات واقع ہو چکی ہیں۔
اس دوران دنیا کی شکل تبدیل ہو گئی ہے، لاک ڈاؤن معمول بن چکا ہے، سرحدیں بند ہیں، معیشت ابتری کا شکار ہے جبکہ سماجی معمولات بدل گئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان چھ ماہ کے دوران ہم نے کورونا کے متعلق کیا جانا ہے؟ یہ سوال بھی ہر کسی کے ذہن میں ہے کہ اگلے 6 ماہ کے دوران کیا ہو گا اور یہ کہ اب تک انسان اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کہاں کھڑا ہے؟
کورونا وبا کے پھیلاؤ میں 80 فیصد کردار ‘سپر سپریڈر’ کا ہے، نئی تحقیق
ایران میں کورونا وبا کی دوسری لہر شروع، صدر نے خبردار کر دیا
کورونا وائرس سے سیاحت کی صنعت تباہی کے دہانے پر، کون سے ممالک کی معیشت خطرے میں؟
برطانوی اخبار دی گارڈین نے اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس کے اہم نکات یہ ہیں۔
کیا ہم تیار تھے؟
اب تک کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس وبا کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر مارٹن ہبرڈ کا کہنا ہے کہ ہم جس وبا کی توقع کر رہے تھے اور اس کے لیے جو بھی تیاری کی تھی اس کے مقابلے میں کورونا وبا بدترین ثابت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وبا میں موت کی شرح 1 فیصد ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے، ہمارا خیال نہیں تھا کہ اس قسم کی وبا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہی بات امپیریل کالج لندن کے پروفیسر ڈیوڈ نبارو نے بھی کہی ہے، ان کے مطابق جب یہ وبا شروع ہوئی تو ہمارا خیال تھا کہ یہ جسم کے نظام تنفس کو متاثر کرتی ہے لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس سے ہڈیاں متاثر ہوتی ہیں، اس سے خون کی رگیں متاثر ہوتی ہیں، یہ بیماری دل اور گردوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
ایڈنبرگ یونیورسٹی میں ماہر وبائی امراض مارک وول ہاؤس نے بتایا کہ ہمیں ایک طویل عرصے تک کورونا کے ساتھ رہنا ہو گا، ہمیں لاک ڈاؤن کے بغیر اس وبا کو محدود تر کرنے کے طریقے سیکھنے ہوں گے۔
بڑی عمر والوں کے لیے بیماری
مارک وول ہاؤس کا کہنا ہے کہ کورونا بڑی عمر والوں کے لیے حقیقی خطرہ ہے، ایک 75 سالہ شخص کی کورونا سے موت کے امکانات ایک 15 سالہ نوعمر کے مقابلے میں 10 ہزار گنا زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم پوتوں کو اس لیے بند کر دیں کہ ان کے دادا کو ان کے ذریعے بیماری پہنچنے کا خطرہ ہے لیکن اب تک ہم یہی کرتے آئے ہیں۔ اولڈ ہومز میں رہنے والوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کام کرنے والا ہر شخص کورونا سے آزاد ہو اور انہیں جو بھی ملنے آئے وہ ٹیسٹ کرا کے آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 70 برس سے بڑی عمر کے جو لوگ گھروں میں رہتے ہیں ان کے تحفظ کا کوئی نہ کوئی طریقہ ایجاد کرنا پڑے گا، یہ کام فوری کرنے کا ہے۔
ٹیسٹ، ٹیسٹ، ٹیسٹ
گزشتہ دو ماہ میں کورونا کا ٹیسٹ کرنے والی ٹیکنالوجی کی صحت اور وسعت میں اضافہ ہوا ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن کی ماہر آبائی امراض این جانسن کا کہنا ہے کہ اب تک ہم کورونا کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے ریاضیاتی ماڈل کا سہارا لے رہے تھے لیکن ان ماڈلز کی درستی کا انحصار ڈیٹا پر ہوتا ہے۔
اب وائرس اور اینٹی باڈی ٹیسٹ کی تعداد بڑھنے سے زیادہ ڈیٹا میسر آ رہا ہے جس سے برطانیہ میں کورونا کے پھیلاؤ اور دیگر پہلوؤں کو سمجھنے میں آسانی ہو گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا مریضوں اور ان لوگوں تک جن سے وہ رابطے میں رہے ہوں پہنچنے میں بڑا مسئلہ ایسے متاثرین ہیں جن میں کورونا کی علامات موجود نہیں ہوتیں۔
جانسن کے مطابق آنے والے مہینوں میں سب سے اہم کام ڈیٹا اکٹھا کرنا ہو گا اور یہ وسیع پیمانے پر ہو گا جس میں مریضوں کی ہر قسم کی معلومات جمع کی جائیں گی۔
قوت مدافعت
سائنسدانوں کے لیے یہ اہم سوال ہے کہ کورونا سے صحتیاب افراد میں کتنے عرصے تک اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت موجود رہتی ہے؟
ہبرڈ کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیق کے مطابق صحتیاب مریضوں میں اینٹی باڈیز پیدا ہو جاتی ہیں، اندازہ یہی ہے کہ ان کی بدولت انسان 6 ماہ سے 2 سال کے درمیان کورونا کے دوسرے حملے سے محفوظ ہو جاتا ہے لیکن ہمیں پوری قطعیت کے ساتھ معلوم کرنا ہے کہ قوت مدافعت کتنا عرصہ تک قائم رہتی ہے۔
اینٹی باڈیز جتنا زیادہ عرصہ کے لیے کورونا وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کریں گی، وبا کا پھیلاؤ اتنا ہی سست ہوتا جائے گا۔
ہبرڈ کے مطابق سائنسدان کہہ رہے ہیں جو لوگ وبا کے آغاز میں بیمار ہوئے تھے، ان کی اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ ہونا چاہیئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کی مقدار قائم ہے یا وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔
لورپول اسکول آف ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر ٹام ونگ فیلڈ کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ چند ماہ میں ڈاکٹرز نے اپنا طریقہ علاج بہتر کر لیا ہے اور بہتر مشینیں سامنے آ رہی ہیں لیکن اب بھی کورونا کے متعلق بہت سی باتیں ہمیں معلوم نہیں ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بہت سے مریضوں میں خون جمنا شروع ہو جاتا ہے لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ کورونا کے مریضوں کو کس مرحلے پر خون پتلا کرنے والی ادویات شروع کرا دینی چاہئیں اور انہیں کتنے عرصے تک جاری رکھنا چاہیئے۔
امید کی کرن
یہ بات یقینی ہے کہ آخرکار ویکسین ہی انسان کو بچانے کے لیے میدان میں آئے گی لیکن زیادہ تر سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس میں ایک سے دو سال لگ سکتے ہیں۔
نباروکا کہنا ہے کہ ہمیں اس سراب سے نکل آنا چاہیئے کہ ویکسین تیار ہو جائے گی اور ہمیں وبا سے نجات مل جائے گی، ایسا نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ جب ویکسین تیار ہو جائے گی تو اصل مسئلہ اسے دنیا کے 7 ارب 80 کروڑ افراد تک پہنچانا ہوگا، دنیا سے وبائی امراض کا خاتمہ بہت ہی مشکل اور طویل کام ہوتا ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ امید کی کرن موجود ہے، ویکسین کی تیاری تو دور ہے لیکن اینٹی وائرل تھراپی کام کرتی نظر آ رہی ہے، ایسی کئی اینٹی وائرل ادویات کورونا کے خلاف موثر ثابت ہو رہی ہیں جنہیں کسی اور بیماری کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر نبارو نے کہا کہ اگر ایسی ادویات میں ہمیں کامیابی مل گئی تو اس سے اموات کی شرح میں بہت کمی واقع ہو گی، ہماری قوت مدافعت کی بہتر سمجھ بوجھ، اینٹی باڈیز کا کورونا کے خلاف ردعمل اور ٹیسٹنگ کو بہتر کر کے ہم اگلے چھ ماہ میں بہت بہتر مقام پر ہوں گے۔