• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جنوبی امریکہ کے ملک کیوبا نے کورونا پر کیسے قابو پایا؟

by sohail
جون 7, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

عالمی ادارہ صحت نے لاطینی امریکہ کو کورونا وبا کا نیا مرکز قرار دے دیا ہے، برازیل اس وقت سب سے متاثرہ ملک ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی وائرس کا پھیلاؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔

کیوبا واحد ملک ہے جو اس وبا پر قابو پانے میں بہت حد تک کامیاب ہو چکا ہے، اس نے علاقے کے دیگر ممالک سے بہت بعد، مارچ کے اواخر میں اپنی سرحدیں بند کی تھیں کیونکہ سیاحت اس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔

جنوبی کوریا کی کورونا وائرس کے خلاف کامیابی میں دنیا کے لیے چار اہم سبق

نیوزی لینڈ نے کن تین باتوں پر عمل کر کے کورونا کے خلاف فتح حاصل کی؟

اس کے بعد کیوبا کی کمیونسٹ حکومت نے اپنا سب کچھ کورونا کے خلاف جنگ میں جھونک دیا ہے، سب سے پہلے لاکھوں ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو حکم دیا گیا کہ وہ ایک ایک گھر میں کورونا کی اسکریننگ کریں اور یہ کام روزانہ کی بنیاد پر کیا جانے لگا۔

واشنگٹن ڈی سی کی امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر ولیم لیوگرینڈ نے بتایا کہ دنیا کے کسی دوسرے ملک نے یہ کام نہیں کیا جو کیوبا میں دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سائنسی بنیادوں پر جانتے ہیں کہ ویکسین کی عدم موجودگی میں، مریضوں کی فوری پہچان، ان سے رابطے میں آنے والے افراد کی نشاندہی اور قرنطینہ ہی کورونا وائرس کو روکنے کے واحد رستے ہیں، کیوبا کا صحت کا نظام اس حکمت عملی کے لیے سب سے بہترین اور موزوں ہے۔

کیوبا میں اب تک کورونا کے 2 ہزار 173 کیس آ چکے ہیں جبکہ کل اموات کی تعداد 83 ہے، ہر وہ شخص جس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے، اسے اسپتال داخل کرا دیا جاتا ہے، جن افراد پر کورونا وائرس کا شبہ ہو انہیں 14 دن کے لیے ریاستی آئسولیشن سنٹرز میں داخل کرا دیا جاتا ہے۔

26 سالہ فرانسیسی استاد الیجاندرو ہوانا میں رہتے تھے، جب وبا پھیلی تو انہوں نے اپنی فیملی کے ساتھ فرانس جانے کا فیصلہ کیا لیکن انہیں ایک فوجی چیک پوسٹ پر روک لیا گیا اور ایک ولا میں قائم آئسولیشن سنٹر بھیج دیا گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ انہیں جس ولا سے میں رکھا گیا وہاں سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی، خوراک ان کے دروازے کے باہر رکھ دی جاتی تھی اور دن میں تین بار ڈاکٹر ان کے چیک اپ کے لیے آیا کرتا تھا۔

تین روز بعد جب ان کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا تو انہیں ولا سے نکل کر شہر میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی اور وہ واپس اپنے ملک پہنچ گئے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق کیوبا میں موجود بہترین نظام صحت کے باعث پورے ملک میں ایک ہی حکمت عملی نافذ کی گئی جبکہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں افراتفری پر مبنی ایک سے زیادہ قسم کی حکمت عملی دیکھنے میں آئی ہے۔

میڈک ریویو رسالے کی چیف ایڈیٹر گیل ریڈ کا کہنا ہے کہ کیوبا میں جن مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، کانٹیکٹ ٹریسنگ کے ذریعے ان کا پتا چلایا جاتا ہے اور اینٹی باڈی ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔

کیوبا میں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، یہاں صحت کے لیے مختص جی ڈی پی کی شرح خطے کے دیگر تمام ممالک سے بلند ہے۔

پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق لاطینی امریکہ کی 63 کروڑ آبادی میں 30 فیصد کو مالی وجوہات کی بنا پر صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں لیکن کیوبا میں ہر شخص کو یہ سہولیات ملتی ہیں۔

حال ہی میں لانسٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ریاست کی جانب سے مقرر کیے گئے آئسولیشن سنٹر گھر میں الگ تھلگ ہو جانے سے زیادہ موثر ہیں لیکن یورپ اور امریکہ میں لوگ ان سنٹرز میں نہیں جاتے جبکہ کیوبا میں حکومت جبر کے ذریعے تمام مشتبہ مریضوں کو ریاستی سنٹرز میں بھیج دیتی ہے۔

کیوبا میں ماسک پہننا ہر ایک پر لازم ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر موقع پر جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے یا جیل جانا پڑتا ہے۔

کیوبا میں میڈیکل کے 28 ہزار طلبہ کو امتحان پاس کرنے کے لیے کورونا کے مریضوں کی تلاش اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے لیے ڈاکٹرز اور نرسوں کے ساتھ کام کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کورونا کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک جھوٹ اور دھوکا قرار دیا تھا، برازیل کے صدر جائر بولسن ایرو نے اسے معمولی زکام قرار دیا تھا اور جن وزرائے صحت نے سماجی فاصلے کی بات کی تھی انہیں حکومت سے نکال دیا تھا۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ خطے کے ممالک میں سائنس کے خلاف مقبول بیانیہ اختیار کرنے والے حکمران موجود ہیں، کیوبا کی کورونا کے خلاف سخت پابندیاں اسے دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہیں۔

Tags: کورونا وائرسکیوبا میں کورونا وائرسلاطینی امریکہ میں کورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

29 ارب کی شوگر سبسڈی کا کیس نیب کے حوالے کرنے کا فیصلہ

کراچی میں گرنے والی عمارت کے ملبے سے مزید دو لاشیں نکال لی گئیں، اموات کی تعداد 8 ہو گئی

رحمان ملک پر زیادتی کا الزام لگانے والی خاتون سنتھیا رچی نے مزید تفصیل بتا دی

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کورونا وائرس کا شکار

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید بھی کورونا وائرس کا شکار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In