پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے پہلے احتیاط کر لی ہوتی تو آج ہم پاکستان کھولنے کی بات کر رہے ہوتے، اب ملک نہ کورونا سے بچے گا اور نہ معاشی بحران سے محفوظ رہے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا ملک خوفناک صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، اس صورتحال میں وفاقی حکومت اپنا رویہ درست کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے ہر جان قیمتی ہے لیکن خیبر پختونخوا میں کورونا سے شرح اموات دیگر صوبوں سے زیادہ ہے، صوبہ سندھ میں دیگر صوبوں سے زیادہ لوگ صحت یاب ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے عوام، ڈاکٹرز اور نرسز کو لاوارث چھوڑ دیا ہے، بتایا جائے وزیراعظم نے کتنی دفعہ ڈاکٹرز سے ملاقات کی ہے؟
بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ وہ اسٹیل ملز کے ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں، اس وبائی صورتحال میں اسٹیل ملز کے 10 ہزار ملازمین کو کیسے بے روزگار کیا جا رہا ہے؟ یہ انسانیت کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل کے حملے کے معاملے پر ہر فورم پہ ہم نے بات کی، صوبائی اور قومی اسمبلی میں بھی بات کی لیکن آپ نے ہمیں لاوارث چھوڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ جس کی یہ ذمہ داری ہے وہ ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار نہیں، کورونا پر آپ ذمہ داری نہیں لیتے، ٹڈی دل پر آپ خاموش ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وفاق کون سی ذمہ داریاں پوری کرنے کو تیار ہے، یہ صورتحال رہی تو کورونا کے ساتھ ساتھ خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہوگا۔
انہوں شکوہ کیا کہ وفاقی حکومت نے 14 مئی کے حکومت سندھ کےخط کا جواب نہیں دیا، وفاق گردشی قرض کی ذمےداری ادا کرنے کو تیار نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے بارے میں وفاق کا پیغام بہت خطرناک ہے، آزاد کشمیر کو نوٹیفکیشن میں شامل کر کے کیا پیغام دے رہے ہیں؟
بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبائی اسٹیٹس دینا ہے تو آئینی ترمیم کریں۔