پاکستان اسٹیل ملز 19 ہزار 13 ایکڑز اراضی پر مشتمل ہے۔
لوہے کے کاروبار میں مہارت رکھنے والا شریف خاندان بھی پاکستان اسٹیل ملز کو خسارے سے نہ بچا پایا۔ شریف خاندان کا اپنا کاروبار خوب ترقی کرتا رہا مگر پاکستان اسٹیل ملز خسارے کا شکار رہی۔
تفصیلات کے مطابق مالی سال 1999-2000 میں پاکستان اسٹیل ملز کو ایک ارب 14کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ 1999-2000 میں پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 9 ارب 32 کروڑ روپے تھا۔
پاکستان اسٹیل ملز مالی سال 2000-2001 میں مشرف دور حکومت میں دوبارہ منافع کمانے لگی۔ پاکستان اسٹیل ملز نے 55 کروڑ روپے منافع کمایا جبکہ پاکستان اسٹیل ملز کا مالی سال 2000-2001 میں مجموعی خسارہ کم ہو کر پونے 9ارب روپےرہ گیا تھا۔
مالی سال 2001-02 میں پاکستان اسٹیل ملز نے 10 کروڑ روپے منافع کمایا جس کے بعد مجموعی خسارہ 8 ارب 67 کروڑ روپے رہ گیا تھا۔
مالی سال 2002-03 میں پاکستان اسٹیل ملز نے ایک ارب روپے سے زائد کا منافع کمایا جس کے بعد مجموعی خسارہ 7 ارب 64 کروڑ روپے رہ گیا۔
مالی سال 2003-04 میں پاکستان اسٹیل ملز نے 4 ارب 85 کروڑ روپے منافع کمایا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 2 ارب 80 کروڑ روپے رہ گیا۔
مالی سال 2004-05 میں پاکستان اسٹیل ملز نے پونے 7 ارب روپے کا منافع کمایا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی نفع 3 ارب 93 کروڑ روپے ہو گیا ۔
مالی سال 2005-06 میں پاکستان اسٹیل ملز نے 93 کروڑ روپے کا منافع کمایا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملزکا مجموعی منافع 4 ارب 86 کروڑ روپے ہو گیا۔
مالی سال 2006-07 میں پاکستان اسٹیل ملز کو 3 ارب 15 کروڑ روپے کا منافع ہوا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی منافع 8 ارب روپے سے زائد تھا۔
مالی سال 2007-08 میں پاکستان اسٹیل ملز کو 2 ارب 8 کروڑ روپے منافع ہوا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی منافع ساڑھے 9 ارب روپے سے زائد ہو گیا تھا۔
پیپلز پارٹی دور حکومت میں پاکستان اسٹیل ملز کو شدید خسارہ کا سامنا تھا۔ مالی سال 2008-09 سے لے کر مالی سال 2012-13 تک پاکستان اسٹیل ملز کو 104 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ۔
مالی سال 2008-09 میں پاکستان اسٹیل ملز کو ساڑھے 26 ارب روپے کا نقصان ہوا جس کے بعد مجموعی خسارہ 16 ارب 90 کروڑ روپے ہو گیا۔
مالی سال 2009-10 میں پاکستان اسٹیل ملز کو ساڑھے 11 ارب روپے کا نقصان ہوا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ ساڑھے 28 ارب تک پہنچ گیا۔
مالی سال 2010-11 میں پاکستان اسٹیل ملز کو 12 ارب 43 کروڑ روپے کا نقصان ہوا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 41 ارب روپے تھا۔
مالی سال 2011-12 میں پاکستان اسٹیل ملز کو سوا 22 ارب روپے کا خسارہ ہوا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ سوا 63 ارب روپے ہو گیا۔
مالی سال 2012-13 میں پاکستان اسٹیل ملز کو پونے 32 ارب روپے کا خسارہ ہوا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 95 ارب روپے تھا۔
ن لیگ اپنے آخری دور اقتدار میں بھی پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی میں مکمل ناکام رہی۔ مالی سال 2013-14 اور مالی سال 2014-15 میں پاکستان اسٹیل ملز کو 48 ارب روپے کا نقصان ہوا ۔
مالی سال 2013-14 میں پاکستان اسٹیل ملز کو ساڑھے 23 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 118 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔۔
مالی سال 2014-15 میں پاکستان اسٹیل ملز کو 24 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوا جس کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 143 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
سینیٹ میں اسٹیل مل پر ہونے والی بحث
سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے 1 کروڑ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا تو پھر پاکستان اسٹیل ملز کے 9 ہزار ملازمین کو کیوں فارغ کیا جا رہا ہے؟
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز نے اپنی پیداوار 1985 میں شروع کی تھی، یہ ادارہ 2008 سے 2009 میں خسارہ میں چلا گیا تھا اور 2015 میں پاکستان اسٹیل ملز کو بند کر دیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت ساڑھے پانچ برسوں سے بند ادارے کے ملازمین کو تنخواہیں ادا کر رہی ہے۔ 35 ارب روپے کے قریب تنخواہیں ادا کی گئی ہیں۔
2008 سے لے کر اب تک 90 ارب روپے بیل آؤٹ پیکج دیا جا چکا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں کا خرچ 35 کروڑ روپے ہے۔ ماضی کی دونوں حکومتیں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کر سکیں نہ ہی اس کی نجکاری کی۔
حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز سے فارغ کیے جانے والے ہر ملازم کو اوسطاً 23 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔
سینیٹر مشاہد اللہ خان نے سینیٹ میں کہا ہے کہ اسد عمر نے کہا تھا کہ میں حکومت کے ساتھ نہیں پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔عمران خان نے یہ کہا تھا کہ یہ اپنی ملز اور فاؤنڈیز چلا لیتے ہیں مگر پاکستان اسٹیل ملز کو نہیں چلا سکے ہیں، پاکستان اسٹیل ملز کو ہم چلا کے دکھائیں گے۔
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ عمران خان اب پاکستان اسٹیل ملز کو چلا کے کیوں نہیں دکھا رہے ہیں؟ پی ٹی آئی اس بات کو تسلیم کرے کہ تب غلط کہا تھا یا اب غلط بیانی کر رہے ہیں؟
سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان اسٹیل ملز کو تباہ کیا ہے کیا ان کا احتساب ہو رہا ہے یا پھر پی ٹی آئی حکومت صرف رونے دھونے پر ہی اکتفا کر رہی ہے؟
ماضی میں قومی اسمبلی کی کمیٹی میں اسد عمر اور محمد زبیر سابق چئیر مین نجکاری کمیشن کے درمیان سخت تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور ملازموں کی تنخواہوں کا معاملہ بار بار زیر بحث بھی رہا مگر اس کا کوئی حتمی حل نہ نکالا جا سکا۔