بھارت میں کورونا وبا شدت اختیار کر گئی ہے، ہفتے کے روز 9887 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 36 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے بھارت نے اٹلی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور دنیا میں چھٹے نمبر پر آ گیا ہے، امریکہ، برازیل، روس، برطانیہ اور سپین میں کورونا مریضوں کی تعداد بھارت سے زیادہ ہے۔
بھارت میں لاک ڈاؤن: مردہ ماں کو جگانے کی کوشش کرنے والے بچے کی ویڈیو نے دل دہلا دیے
امریکہ میں لاک ڈاؤن کا خاتمہ، سائنسدانوں نے کورونا کی دوسری لہر سے خبردار کر دیا
تاہم بھارت میں اموات کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے، اب تک وبا کے ہاتھوں 6 ہزار 642 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے مارچ میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا جس کے باعث نہ صرف بھارتی معیشت مفلوج ہو کر رہ گئی بلکہ کروڑوں غریب افراد کے لیے زندگی مشکل تر ہو گئی تھی۔
اب لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور پیر کے روز سے بہت سی پابندیاں ہٹا دی جائیں گی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بہت جلدی کیا گیا ہے اور اس کے باعث وبا مزید پھیل سکتی ہے۔
پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا میں وبائی امراض کے ماہر گریدھر بابو نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے، انہوں نے مذہبی مقامات کو کھولنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ ہم مذہبی مقامات کھولے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث مرض کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی ہے لیکن خدشہ ہے کہ کورونا وائرس ایک مرتبہ پھر پھیل سکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسیز پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان کا کہنا ہے کہ بھارت اور دیگر بڑے ممالک پابندیاں نرم کرتے ہیں اور لوگ آسانی کے ساتھ نقل و حرکت کرتے ہیں تو اس سے ہمیشہ وبا کے لوٹ آنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
بھارت میں مذہبی مقامات پر جانے والوں ہاتھ اور پاؤں دھونے کا کہا جائے گا اور وہاں خوران کی تقسیم، پانی کا چھڑکاؤ اور مقدس کتب یا بتوں کو چھونے کی اجازت نہیں ہو گی۔