سائنسدانوں کو اس بات کے مزید شواہد مل گئے ہیں کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ میں سپر سپریڈر افراد اور واقعات کا بہت زیادہ کردار ہے۔
ہانگ کانگ میں ہونے والی ابتدائی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا کے 20 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں اس وبا کو پھیلانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، انہیں سپرسپریڈر کہتے ہیں، بقیہ 80 فیصد لوگ انہی کی وجہ سے کورونا کا شکار ہو رہے ہیں۔
بھارت کے امیر ترین شہر ممبئی میں کورونا کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال
کورونا وائرس اپنی قوت کھو کر کم خطرناک ہو چکا ہے، اطالوی ڈاکٹروں کا دعویٰ
ایران میں کورونا وبا کی دوسری لہر شروع، صدر نے خبردار کر دیا
اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کورونا کا شکار ہونے والے 70 فیصد مریض اس وبا کو مزید لوگوں تک منتقل نہیں کرتے، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وبا کا زیادہ تر پھیلاؤ ایک ہی قسم کے لوگ اور واقعات کے باعث ہوتا ہے۔
اس تحقیق کا ابتدائی مواد سامنے آیا ہے جس کے متعلق دیگر آزاد ماہرین نے ابھی جائزہ نہیں لیا تاہم اس میں موجود ڈیٹا ایک ہی پیٹرن سامنے لا رہا ہے۔
تحقیق کرنے والی ٹیم نے 23 جنوری سے 28 اپریل کی درمیانی مدت میں ایک ہزار سے زائد انفیکشنز کا جائزہ لیا ہے، تفصیلی کانٹیکٹ ٹریسنگ کے عمل سے انہوں نے اس بات پر تفصیل سے تحقیق کی ہے کہ ایک شخص کس وقت اور کس جگہ پر کورونا سے متاثر ہوا ہے۔
اس تحقیق کے نتیجے میں شہر میں کورونا کے پھیلاؤ کے ذمہ دار سپرسپریڈ افراد اور واقعات ثابت ہوئے۔
ریسرچ کرنے والی ٹیم میں شامل بن کاؤلنگ نے بزنس انسائیڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپرسپریڈ واقعات ہمارے توقع سے کہیں زیادہ ہو رہے ہیں، ان کی فریکوئنسی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی ہم سمجھتے تھے۔
تحقیق میں یہ بات واضح انداز میں سامنے آئی ہے کہ کورونا کے 70 فیصد مریض دیگر افراد کو یہ وائرس منتقل نہیں کرتے اور یہ کہ صرف 20 فیصد مریض ایسے تھے جو باقی افراد کو بیماری منتقل کر رہے تھے۔
باقی 10 فیصد مریض ایسے تھے جو باقی 20 فیصد افراد کو کورونا میں مبتلاء کر رہے تھے، ان میں اہلخانہ اور ساتھ کرنے والے لوگ شامل تھے۔
نارمل حالات میں کورونا کا ایک مریض اوسطاً دو سے تین افراد تک بیماری منتقل کرتا ہے، سماجی فاصلہ اور دیگر احتیاط کے باعث یہ اوسط ایک سے بھی نیچے چلی جاتی ہے اور پھر وہ مرحلہ آتا ہے جب کورونا وائرس آبادی سے نکل جاتا ہے۔
تاہم تحقیق میں پتا چلا ہے کہ کورونا کے ایک مریض کے دوسروں تک اسے پھیلانے میں بہت زیادہ تنوع پایا جاتا ہے، اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ سپر سپریڈرز کو سماجی روابط سے روکنے کی کوشش کی جائے۔
سپرسپریڈر واقعات کے حوالے سے لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چرچ میں ہونے والی میٹنگز، جم کلاسز اور بزنس کانفرنس ایسے واقعات ثابت ہوتے ہیں۔
اسی طرح سپرسپریڈر واقعات کی دیگر مثالوں میں کیئر ہومز، اسپتال اور مذہبی جگہیں شامل ہیں جن کی وجہ سے کورونا کے کلسٹر پیدا ہوتے ہیں۔