لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ایران دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں کورونا وائرس کی دوسری لہر حملہ آور ہو چکی ہے۔
ایرن میں بدھ کے روز کورونا کے 3574 نئے مریض سامنے آئے ہیں جو ایک ہی دن میں رپورٹ ہونے والے اب تک کے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
تمام ممالک کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کے لیے تیار رہیں، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر، ایک ہی شخص نے 54 افراد کو متاثر کر دیا
ایران نے کورونا کی شدت پر قابو پانے کے لیے فروری میں لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا تاہم وبا میں کمی کے باعث اپریل کے وسط میں اس میں نرمی کر دی تھی۔
گارڈین اخبار کے مطابق مئی کے آغاز میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک بار پھر بڑھنے لگی اور اب صورتحال یہ ہے کہ مسلسل تین روز سے 3 ہزار نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
ایران کے صحت سے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کا ٹیسٹ کرنے اور ڈیٹا کا نظام بہتر ہو گیا ہے، اس سے قبل ایران کے اعدادوشمار پر بہت شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا تھا۔
ایرانی حکام کی بات کسی حد تک درست ہے کیونکہ کورونا کے باعث ہونے والی اموات میں اضافہ نہیں دیکھا جا رہا، حکومتی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق بدھ کے روز 59 افراد کورونا کے باعث جاں بحق ہوئے ہیں، مئی میں اموات کی روزانہ اوسط 60 تھی۔
کورونا مریضوں کی سب سے بڑی تعداد سامنے آنے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ اگر ملک کے کسی حصے میں حکومتی تنبیہ کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور خدانخواستہ وبا ایک بار پھر عروج کو پہنچ گئی تو حکومت کو دوبارہ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے نہ صرف عام افراد کی زندگی میں مشکلات بڑھیں گی بلکہ معیشت کو بھی بڑا دھچکہ لگے گا۔
وزیرصحت سعید نمکی کا کہنا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کورونا وائرس ختم ہو چکا ہے، ایسا نہیں ہے اور وبا کسی بھی وقت پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر واپس آ سکتی ہے۔
اگرچہ اس وقت کئی ممالک نے کورونا وبا کی دوسری لہر رپورٹ کی ہے لیکن ایران واحد ملک میں ہے جس میں مریضوں کی تعداد ایک مرتبہ کم ہونے کے بعد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
جنوبی کوریا میں بھی کئی بار وبا دوبارہ نمودار ہوئی ہے لیکن وہاں کی حکومت نے ٹیسٹ اینڈ ٹریس کے ذریعے اس پر قابو پا لیا ہے، چین اور جرمنی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
دیگر ممالک، جن میں برازیل، پیرو اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، میں ابھی تک کورونا کی پہلی لہر شدت سے جاری ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں ابھی تک ایک لاکھ 64 ہزار 270 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 8 ہزار 71 ہو چکی ہے۔
اس سے قبل عالمی ادارہ صحت مسلسل خبردار کرتا آ رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کھولنے سے کورونا کی دوسری اور تیسری لہر شروع ہو سکتی ہے۔