چین میں فضائی آلودگی اسی سطح پر واپس آ گئی ہے جہاں کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پہلے تھی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یورپ بھی اسی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔
فضائی آلودگی ہر سال 80 لاکھ افراد کی قبل از وقت موت کا سبب بنتی ہے جبکہ صاف ستھرے آسمانوں کو کوڈ 19 کے ایک مثبت پہلو کے طور پر دیکھا گیا۔
ماہرین نے لاک ڈاؤن کے باعث فضائی معیار میں بہتری اور اس کے فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے ایکشن کا مطالبہ کیا ہے اور اب تک اٹھائے گئے اقدامات میں سائیکل لین میں توسیع اور شہروں میں پیدل چلنے والوں کے لیے جگہ کی فراہمی شامل ہے۔
بھارت میں لاک ڈاؤن سے دنیا کی آلودہ ترین فضائیں صاف ہو گئیں
یورپ میں لاک ڈاؤن: ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے باعث 11 ہزار جانیں بچ گئیں
سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ائیر کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین بھر میں باریک ذرات پی ایم 2.5 اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ایک سال قبل کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ مارچ کے شروع میں ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کے ردعمل میں کئے گئے لاک ڈاؤن سے 2019 کے مقابلے میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 38 فیصد کمی جبکہ پی ایم 2.5 میں 34 فیصد کمی واقع ہوئی۔
چین کا شہر ووہان، جو کہ کورونا وبا کا مرکز تھا، میں اب نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح گزشتہ برس کی نسبت صرف 14 فیصد کم ہے جبکہ شنگھائی میں تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق یہ سطح گزشتہ برس کی نسبت 9 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
پورپ کے بیشتر شہروں میں بھی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے کئے گئے لاک ڈاؤن سے فضائی آلودگی میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔
یورپ کے 50 شہروں میں آلودگی کو جانچنے والی کوپرنیکس ایٹموسفیئر مانیٹرنگ سروس کے اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان میں سے 42 شہروں میں مارچ کے مہینے میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح اوسط سے بھی کم ریکارڈ کی گئی۔
لندن اور پیرس میں نائٹروجن کی سطح میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ فضائی آلودگی زیادہ تر ڈیزل گاڑیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
فضائی آلودگی دل اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی امراض کا باعث بھی بنتی ہے جس میں ذیابطیس اور ذہانت کو نقصان پہنچنا شامل ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ آلودگی جسم کے کسی بھی اعضاء کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بڑھتے ہوئے ثبوت اس بات کی نشاندھی کر رہے ہیں کہ گندی اور آلودہ فضا کووڈ 19 میں مبتلا افراد کی اموات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے یہی وجہ ہے کہ انفیکشن کی دوسری لہر سے بچنے کے لیے فضائی آلودگی کو کم سطح پر رکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔