وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پچھلے ہفتے عالمی یوم انسداد تمباکو کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں تمباکو نوشی کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد لوگ تمباکو نوشی سے مر جاتے ہیں اور صرف ارض پاک میں بارہ سو بچے روزانہ سگریٹ نو شی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
اب جبکہ پوری دنیا کورونا جیسی مہلک بیماری سے لڑ رہی ہے اور اس بیماری نے دنیا کے خوشحال خطوں کو صحت ایمرجنسی لگانے پر مجبور کر دیا ہے وہیں پاکستان میں بھی یہ بیماری اب تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت اور عوام ابھی تک اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں۔
پوری دنیا میں صحت اور تعلیم کسی بھی حکومت کی اولین ترجیحات کا حصہ ہوتی ہیں اور اگر آپ پاکستان میں بنیادی صحت کی ضروریات کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو ایک وافر رقم کی ضرورت ہے لیکن یہ رقم بڑے آسان طریقے سے اکٹھی کی جا سکتی، اگر صرف تمباکو مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگا دیں تو صحت کے مسائل حال کیے جا سکتے ہیں، بدقسمتی سے اس خطے میں مہنگے سگریٹس برانڈز پاکستان میں سب سے سستے داموں کسی بھی دکان سے خریدے جا سکتے ہیں جن میں ملٹی نیشنل سگریٹس کمپینوں کے برانڈز 50 روپے سے کم قیمت پر باآسانی دستیاب ہیں اور ان برانڈز پر صحت کے حوالے سے کسی قسم کی وارننگ بھی درج نہیں ہوتی۔
تمباکو نوشی پر قابو پانے کے ضمن میں پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تمباکو مصنوعات کی غیرقانونی تجارت ختم کرنے کے پروٹوکول پر دستخط کیے ہوئے ہیں لیکن عملی طور پر آج تک نہ تو اسمگلڈ سگریٹس کی روک تھام کے لیے کوئی خاطر خواہ قدم اٹھایا گیا ہے اور نہ ان کمپنیوں کو ایسے اقدامات سے روکا گیا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ شائد یہ ہے کہ فیڈرل بیورو آف ریونیو کے اعلیٰ افسران کے رشتہ دار ان ملٹی نیشنل سگریٹس کمپینوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) پاکستان میں گزشتہ 36 سالوں سے لوگوں کو امراض قلب سے محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
پناہ کے سیکرٹری جنرل ثنااللہ گھمن کا کہنا ہے کہ دل کی بیماریاں، سٹروک، کینسر اور گردوں کی بیماریوں کی وجہ سے پاکستان میں ہونے والی اموات کل شرح اموات کا 68 فیصد ہیں جبکہ ان امراض کے شکار افراد میں 3 لاکھ 80 ہزار مرد اور 3 لاکھ خواتین شامل ہیں۔
ان بیماریوں کی وجہ کا پتا لگایا جائے تو موٹاپا اور تمباکونوشی سرفہرست دکھائی دیتی ہیں، ملک میں صحت سے متعلقہ اخراجات کا 51 فیصد انہی امراض کے علاج پر صرف ہو جاتا ہے۔
ان امراض کے باعث انسان میں قوت مدافعت بھی کم ہو جاتی ہے اور بیماری شدید ہونے کی صورت میں صحتیابی کا امکان بھی کم ہو جاتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق ان امراض کے علاج پر حکومت 190 ارب روپیہ خرچ کر چکی ہے، کمپنیاں تو اپنا نفع لے کر باہر چلی جاتی ہیں لیکن ان کے نتائج پاکستانی عوام کو بیماریوں اور حکومتی اخراجات کی صورت میں بھگتنے پڑتے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت 200 ملین سے زیادہ سافٹ ڈرنکس، 241 ملین سے زائد جوسز اور 80 ارب سگریٹ سٹکس تیار ہوتی ہیں۔
2017میں مندرہ، پنجاب کی تحصیل گوجر خان کے اس قصبے میں ٹیکس عہدیداروں نے ایک گودام پر چھاپہ مارا، جہاں انہیں ساٹھ ملین روپے مالیت کے بلیک مارکیٹنگ سگریٹس کیساتھ ساتھ تمباکو تیار کرنے کے سامان کے ساتھ ساتھ پیکنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک ملا۔
یہاں اگر ہم سابق وزیر خزانہ اسد عمر کا ذکر بھول جائیں تو نا انصافی ہو گی انہوں نے ایک منی بجٹ پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ان کو خوشی ہے وہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا اعلان کر رہے ہیں مگر وہ خوش کیوں تھے۔ کیوں کہ ان کے ایک بھائی کی موت پھیپڑوں کے کینسر کی وجہ سے ہوئی تھی جس کی ایک بڑی وجہ تمباکو نوشی ہوسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان اشیاء کی قیمت 10 فیصد بڑھانے سے ان کا استعمال 8 فیصد کم ہو جاتا ہے، اس لیے آئندہ بجٹ میں حکومت کو چاہیئے کہ وہ ان پر بھاری ٹیکس لگائے تاکہ عوام کی صحت میں بہتری لائی جا سکے اور ان کے علاج پر ہونے والے اخراجات کم کئے جا سکیں۔