• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

استاد کے نام دوسرا خط

by sohail
جون 4, 2020
in کالم
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

استاد! ایک بات آپ یقیناً تسلیم کریں گے کہ تاریخ پڑھے بغیر کوئی بڑا آدمی نہیں بن سکتا لیکن تاریخ پڑھنا ہی کافی نہیں، اس کو سمجھنا اور اس سے سبق حاصل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

  فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا!

بڑا آدمی بننے کے لیے تاریخی شعور اور بڑا لیڈر بننے کے لیے سماجی شعور لازمی امر ہے، تاریخ انسان کا کردار بناتی ہے اور کردار انسان کو امر کر دیتا ہے۔ تاریخ میں آپ کو جتنے بھی بڑے اشخاص نظر آتے ہیں انھیں تاریخی و سماجی شعور حاصل تھا۔ ان کا کردار تھا جس وجہ سے یہ لوگ آج تک زندہ و جاوید ہیں۔

گھر کا پیر۔۔۔!

کسی بھی بڑے آدمی یا لیڈر کی جتنی مخالفت اسکے وطن مالوف ہوتی ہے، باہر اسے اتنا ہی دسراتھ اور انفاق ملتا ہے۔ کسی کی مخالفت کرنے، اسکے خلاف پروپیگنڈہ کرنے، الزامات لگانے، بدنام کرنے کی کوشش کرنے اور کردار کشی کرنے سے نقصان کی بجائے الٹا اس کا فائدہ ہوتا ہے، اسکی شخصیت مزید نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔

استاد! سوشل میڈیا کی تندی باد مخالف سے نا گھبرا کیونکہ یہ تو تجھے اونچا اڑانے کے لیے چلتی ہے اور ہر اس شخص کے خلاف چلتی ہے جو بہت اوپر جارہا ہو۔ عوام اتنے بھولے نہیں ہوتے جتنا انہیں سمجھا جاتا ہے۔ انھیں سب پتا ہوتا ہے کہ کون گیم کر رہا ہے اور کون کتنے پانی میں ہے؟ عوم کو نادان سمجھنے والے سماجی شعور سے بے بہرہ ہوتے ہیں اور عوام بھی انہیں تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیتے ہیں۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے۔۔۔!

تاریخ کا شعور رکھنے والے سادہ و معصوم تو ہوتے ہیں لیکن جلد گھبرانے والے نہیں ہوتے۔ حضرت عمرؒ نے کسی سے پوچھا تھا کہ فلاں آدمی کیسا شخص ہے؟ میں اس کو گورنر بنانے جارہا ہوں۔ اس شخص نے جواب دیا۔ بڑا متقی، پرہیز گار، نماز روزہ کا پابند اور اچھا آدمی ہے۔ حضرت عمر نے پھر پوچھا

1:  آپ نے کبھی اس کے ساتھ سفر کیا ہے؟

2: آپ اس کے ہمسائے میں رہے ہیں؟

3: آپ نے کبھی اس کے ساتھ لین دین کیا ہے؟

 اس نے جواب دیا نہیں!

آپ نے فرمایا! کسی کو جاننے اور سمجھنے کے صرف تین معیار ہیں۔

استاد! میں نے آپ کی چھپی ہوئی تقریبا تمام تحاریر پڑھی ہیں، جس سے لگتا ہے کہ آپ کا تاریخ اور ادب کا کتنا وسیع مطالعہ ہے۔ ٹی وی پر آپ کے سیکڑوں پروگرام سنے  ہیں۔ کئی سال آپکی قربت میں گزارے۔ کئی بار آپکی معیت میں سفر کیا۔ جہاں تک لین دین کی بات ہے آپ کو ہمیشہ دیتے ہی دیکھا۔ معلوم نہیں واپس کب لیتے ہو؟ نہ کبھی لین دین پر کسی سے جھگڑتے دیکھا، آپ کے ساتھ گزری تین دہایاں کچھ کم عرصہ نہیں۔ ایک طویل عصر ہے۔

استاد! جاننے کی تین مدارج ہوتے ہیں

 1:معلومات (Information)

2: تعلیم (Education)

3: علم (Knowledge)

 آپ کے پاس جس قدر زیادہ معلومات ہوں گی، آپ بڑے صحافی بن جائیں گے، آپکے پاس جتنی ڈگریاں ہوں گی آپ اتنے ہی تعلیم یافتہ کہلائیں گے۔ میں نے کئی ایم۔اے۔ اردو دیکھے ہیں جوغالبؔ کا شعر اضافت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے؟ کئی۔ ایم اے سیاسیات دیکھے ہیں جو حکومت اور ریاست میں فرق نہیں جانتے اور کئی ایسے ایم۔اے۔ جرنلزم دیکھے ہیں جو صحافی اور صحافت کی تعریف نہیں کرسکتے۔

(صحافت عوام کی بات عوام تک پہنچانا ہوتی ہے نہ کہ اپنی بات عوام پر ٹھوسنا)

علامہ اقباؔل نے کیا خوب کہا ہے

                           تیرے پاس خبر کے سوا کچھ نہیں

                           تیرے علاج نظر کے سوا کچھ نہیں

 لیکن علم اور چیز ہے استاد۔۔ جیسا کہ آج کل ہارورڈ اور آکسفورڈ دو بڑی یونیورسٹیاں ہیں۔ اسی طرح ماضی قریب میں جامعتہ الازہر اور جامع دمشق دو بڑی یونیورسٹیاں ہوا کرتی تھیں جہاں بڑے بڑے لوگ پڑھا کرتے تھے۔ لیکن ہمارے کئی اسلاف ان یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل نہ تھے لیکن ان کا کام دیکھ کر اور پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ عالم اور علم کسی یونیورسٹی کا محتاج نہیں ہوتا۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل اور امام غزالی، ابن خلدون، الکندی، فارابی، بو علی سینا، جابر بن حیان اورابن الہیشم کسی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل نہ تھے لیکن آج یہ اسلاف کئی یونیورسٹیوں کے نصاب شامل ہیں اور ان کو پڑھے بغیر آپ تعلیم یافتہ نہیں کہلا سکتے۔

استاد! آپ صحافی اور تعلیم یافتہ تو ہیں ہی لیکن آپ کا تاریخ اور ادب کا مطالعہ دیکھ آپ علم آشنا معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ علم انسان میں برداشت اور ادب وسعت قلبی پیدا کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کسی کو بڑا آدمی بنا سکتی ہے اور نا چھوٹا۔ بڑا یا چھوٹا آدمی اپنے کردار سے بنتا ہے۔ اور کردار علم سے!  آپ یہی پاکستان کی تاریخ دیکھ لیں۔ پاکستان کے 25 سے زائد وزرائے اعظم ہو گزرے ہیں لیکن یار لوگ اپنی زندگی میں ہونے والے وزرائے اعظم کو چھوڑ کر صرف لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور محمد خان جونیجو کے علاوہ کسی کا نام تک نہیں جانتے؟ ان کا نام اس لیے زندہ ہے کیوں کہ ان کا ایک کردار تھا۔ انھوں نے عوام کے لیے کچھ کیا تھا ورنہ تو جنرل ایوب خان، جنرل ضیاالحق اورجنرل پرویز مشرف کے حق میں بھی کئی مہمیں چلائی گئیں لیکن وہ کہاں ہیں؟؟ ان کا نام ایک حوالے کے طور پر ہی زندہ ہے۔ جہاں روشنی ہوگی وہاں اندھیرے کا وجود بھی ضرور ہو گا لیکن خدا صرف خدمت اور مخلوق خدا سے محبت کرنے والوں کو ہی ملتا ہے۔

جنھیں آپ سے فائدہ کی توقع اور نقصان کا خدشہ ہو وہ آپ سے محبت نہیں کرتے صرف محبت جتاتے ہیں۔ وہ آپ کا احترام نہیں کرتے صرف پروٹوکول دیتے ہیں۔ پروٹوکول صرف دکھانے کے لیے جب کہ محبت و احترام دل میں ہوتا ہے۔

پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں۔ کراچی سے خیبر، مشرق قریب و بعید، مشرق وسطیٰ اور مراکش کے آخری کونے میں رہنے والوں نے کبھی آپ سے اپنی محبت کا صلہ نہیں مانگا ہے اور نہ کبھی داد چاہی ہے۔ سوشل میڈیا پر چلائے جانے والی مہم سے باکردار لوگوں کو آنکھوں سے اوجھل تو کیا جاسکتا ہے، د ل سے نہیں اتارا جاسکتا۔

 آئی جی کے انتظار میں سڑک کنارے دھوپ میں کھڑا ایک سپاہی آئی جی کو پروٹوکول تو دیتا ہے لیکن محبت نہیں کرتا۔ دل میں کوستا رہتا ہے کہ اتنی دیر سے دھوپ میں کھڑا کیا ہوا ہے۔ لیکن کسی سے محبت اور عقیدت رکھنے والا شخص انتظار کرنے میں کوفت نہیں لذت محسوس کرتا ہے۔ لوگ افسر کا حکم مانتے ہیں لیکن محب کی اطاعت کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی بات آنکھوں سے آنکھوں تک محدود رہتی ہے لیکن کردار دلوں میں جاگزیں ہوتا ہے۔ بچھو ڈنگ مارنے سے باز نہیں آتا ہم نیکی کرنے سے کیوں باز آئیں؟

                                    وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے

                                  ہم اپنی وضع کیوں بدلیں

                                                                                 چھوٹوں کو پیار بڑوں کو احترام

                                                                                            شفیق لغاری

sohail

sohail

Next Post

مغربی دنیا کو لاک ڈاؤن کا تصور دینے والے سائنسدان نے اسے بے فائدہ قرار دے دیا

تمباکو نوشی، صحت اور معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ

کس روشن دماغ شخصیت نے غلط قانونی رائے پر ریفرنس بنانے کا مشورہ دیا، سپریم کورٹ

لاک ڈاؤن کا خاتمہ، چین میں فضائی آلودگی کی دوبارہ واپسی

پاکستان اسٹیل ملز سے 7884 ملازمین کو فارغ کرنے کے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In